مزید خبرں

کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد

رام بن میں خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد 

نیوز ڈیسک 
رام بن //ضلع رام بن میں کوڈ پروٹوکول کے نفاذ کیلئے مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے  بغیر ماسک اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر کئی ایک لوگوں کے خلاف جرمانہ عائد کیا ہے ۔محکمہ کی ٹیموں نے اپنے اپنے علاقوں میں معائینہ کیا ہے جس دوران انہوں نے یکم اپریل سے اب تک ہزاروں روپے جرمانہ کیا ہے ۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چہرے پر ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ وہ اپنے قریبی سی وی سی میں کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ضلع امیونائزیشن آفیسر رام بن ، ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ جمعرات کے روز ضلع رام بن میں 1334 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں۔چیف میڈیکل آفیسر رام بن ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1140 نمونے بھی اکٹھے کئے جن میں 186 آر ٹی-پی سی آر اور 954 آر اے ٹی نمونے شامل ہیں اس کے علاوہ ضلع کے مراکز پر 1334 افراد کو کوڈ ویکسین بھی فراہم کی گئی ۔
 

کشتواڑ میں 2 ڈاکٹروں کے ٹیسٹ مثبت 

عاصف بٹ
کشتواڑ // ضلع کشتواڑ میں کورونا کے معاملات بڑھ رہے ہیں اور اب فرنٹ لائن پر کام کرنے والا عملہ بھی اس کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ضلع میں جمعہ کے روز 2 ڈاکٹروں کے کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں ۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ضلع ہسپتال کشتواڑ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعہ کے روز ہسپتال کے 2 ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جن میں ایک لیڈی ڈاکٹر بھی شامل ہے جو اس وقت ڈیوٹی پر معمور تھی۔ جسکے بعد انہیں آئیسولیشن میں منتقل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ہسپتال کا ایک ڈاکٹر اور پیر میڈیکل ممبر بھی کورونا پازیٹیو آیا جس کے بعد انہیں ہوم ایسولیشن کیا گیا ۔معلوم رہے کہ کورونا کی روکتھام کے حوالے سے ضلع میں بڑے پیمانے پر سکرینگ کا عمل جاری ہے او ر لوگوں کے کورونا ٹیسٹ بھی کئے جا رہے ہیں ۔
 
 

 ڈوڈہ میں 37 نئے مثبت کیس درج

۔ 4مریض صحتیاب ،ضلع میں کروفیو نافذ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں جمعہ کو کویڈ 19 کے 37 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں اور 4مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ضلع میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 272 پہنچ گئی ہے، جبکہ صحتیاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 3466 ہو گئی ہے۔ادھر بدھ کے روز ضلع میں کویڈ 19 سے محکمہ جنگلات کا ملازم گورنمنٹ میڈیکل ڈوڈہ میں وفات پا گیا تھا۔ ضلع میں گذشتہ ماہ کورونا وائرس سے دو اموات ہوئیں ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔اس دوران ڈپٹی کمشنر وکاس شرما نے پیر کی صبح چھ بجے تک کورونا کرفیو نافذ کرنے کے احکامات صادر کئے جس دوران ایمرجنسی سروسز کے علاوہ باقی سبھی ادارے بند رہیں گے۔ 
 
 

گول میں تاجروں کی پریشانیوں میں اضافہ 

زاہد بشیر
گول// گزشتہ سال سے لگاتار کورونا وائرس کے خوف سے جہاں عام لوگوں کی زندگی پر برا اثر پڑا وہیں گول کا تاجر طبقہ بھی کافی پریشان ہے ۔ کورونا وائرس میں کمی آنے پر اگر چہ کچھ اُمید باقی بچی تھی لیکن 2021مارچ کے بعد کورونا وائرس کی نئی لہر سے لوگ کافی خوف زدہ ہیں ۔ اس وباء سے نہ صرف لوگ مریں گے بلکہ اس کے منفی اثرات بھی لوگ کو کافی متاثر کر رہے ہیں ۔جہاں مزدور طبقہ آج کل کافی پریشان ہے، وہیں چھوٹے طبقے کے تاجر بھی نہایت مشکلات سے دوچار ہیں ۔ دوسال سے کورونا کی زد میں لوگ بجلی کاکرایہ، پانی کا کرائی دیتے آ رہے ہیں اور اس کے علاوہ آئے روز غذائی اجناس کی بڑھتی قیمتوں ، پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ بھی غریب عوام پر پڑ رہا ہے ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں نے کہاکہ سرکار غریب عوام کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے ۔غریب عوام کو کورونا سے مرنے کا خطرہ نہیںبلکہ فاقہ کشی سے لوگ مریں گے،غریب لوگ قرضوں کے بوجھ کے نیچے آئے ہوئے ہیں اور بھیک مانگے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔وہیں چھوٹے طبقہ کے تاجر بھی کافی ذہنی پریشانیوں کاشکار ہیں ۔جہاں ہر مہینے بجلی اور پانی کی موٹی موٹی بلیں ہاتھوں میں تھامی جاتی ہے، وہیں نجی تعلیمی اداروںکو دی جانے والی فیس نے بھی والدین کو کافی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کرایہ ، پانی کرایہ کم از کم اس کورونا وائیرس کے دوران معاف کیا جائے ساتھ ساتھ سکولی بچوں کی فیس کاآدھ حصہ بھی معاف کیا جائے تا کہ گھروں میں بچوں کا پیٹ پالنا مشکل نہ ہو ۔
 
 

مڑواہ کی عوام کا سنتھن شاہراہ کھولنے کا مطالبہ

عاصف بٹ 
 کشتواڑ //سب ڈویژن مڑواہ کو ضلع ہیڈکواٹر سے جوڑنے والی سنتھن شاہراہ ایک ماہ سے گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند پڑی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔جبکہ مڑوہ کی عوام کا کہنا ہے کہ سڑک کو جلد بحال کیا جائے تاکہ لوگوں کو آمد ورفت کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی مشکلات پیش نہ آئے ۔مڑواہ کے ایک وفد نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوے کہا کہ انھیں سنتھن شاہراہ بند ہونے سے کافی مشکلات آرہی ہیں جبکہ انہیں ایک دن کا سفر 2 یا 3 روز میں مکمل کرنا پڑتا ہے۔جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میںبھی انہیں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غلام محمد نامی شہری کا کہنا ہے کہ انکی اہلیہ کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی جس کے بعد اُسے علاج ومعالجہ کیلئے مرگن ، بانہال و بٹوت کے راستے کشتواڑ لایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ سڑک کی حالت اس قدر خستہ تھی کہ اس کے دور میں مزید اضافہ ہوا اور اُسے ضلع ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔غلام محمد نے مزید کہا کہ انہوں نے انتظامیہ سے ہوائی جہاز کا بھی مطالبہ کیا تھا ،لیکن انتظامیہ نے اُن سے صرف کاغذات ہی جمع کرائے باقی انکی کوئی مدد نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ سنتھن شاہراہ کو کھولتی ہے تو ان کا سفر کئی گھنٹوں تک کم ہو سکتا ہے اور وہ چند گھنٹوں میں ہی ضلع ہیڈکواٹر تک پہنچ سکتے ہیں ۔ سابق نائب سرپنچ محمد حسین نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی انتظامیہ نے سنتھن شاہراہ کو آمدورفت کیلئے بند رکھا تھا جسکے سبب انہیں آمد ورفت کے دوران بھاری مسافر کرایہ ادا کرنا پڑا ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ سے مطالبہ کیا ہے کہ سنتھن شاہراہ کی بحالی کیلئے احکامات کئے جائیں تاکہ مسافروں کی آمد ورفت آسان ہو سکے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے ۔
 
 

کشتواڑمیں بجلی کی آنکھ مچولی 

افطاری کے اوقات میں بجلی غائب ،عوام پریشان 

عاصف بٹ
کشتواڑ//ماہ رمضان کے اس متبرک مہینے میں کشتوار میں لوگ بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشان ہیں اور افطاری کے وقت قصبہ سمیت دیگر علاقہ جات جن میں دچھن ، چھاتروں ، ٹھکرائی ، درابشالہ ، سروڑ ،بونجواہ شامل ہیں میں بجلی غائب رہتی ہے ۔قصبہ کشتوارو گردنواح کے علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے عوام سخت مشکلات سے دوچار ہوررہی ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ماہ رمضان المبارک میں بھی بجلی کی غیراعلانیہ کٹوتی کی جارہی ہے۔ جہاں دن بھر بجلی کی آنکھ مچولی رہتی ہے وہیںکچھ ایک علاقوں میں سحری اور افطار کے وقت بھی بجلی غائب ہی رہتی ہے جسکے سبب عوام سخت مشکلات کاسامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں انتظامیہ نے ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ کو کہا تھا لیکن متعلقہ محکمہ اپنی من مانی کرنے پر بضد ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔یہی حال دیہات کا بھی ہے جہاں بجلی کی آنکھ مچولی عوام کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ کشتوار کے متعدد علاقوںکے لوگوں نے بتایا کہ جہاں ماہ رمضان سے قبل بھی یہی حال تھا وہیں انھیں یہ امید تھی کہ ماہ رمضان میں بجلی کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی لیکن حالات بالکل بھی نہ بدلے۔جبکہ دیگر دیہات میں بھی یہی حال ہے۔ عوام نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ماہ رمضان میں بلاخلل بجلی فراہم کہ جائی تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
 

منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی سخت کی جائے  

سول سوسائٹی کشتواڑ کی ایس ایس پی سے اپیل  

 نیوز ڈیسک 
کشتواڑ// کشتواڑ قصبہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔سول سائٹی کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اجتماعی طور پر پوری نسل کو برباد کرنے کی ایک مذموم کوشش کی ہے جس سے سماج کا ہر طبقہ جونج رہا ہے۔ سماج سے اس بدعت کے خلاف محکمہ پولیس کی جانب سے جو کارروائی جاری ہے اس کیلئے اجتماعی طور پر پولیس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،عوام کو پولیس کی اس مہم میں تعاون کرتے ہوئے ایسے سماج مخالف افراد کی نشاندہی کر کے پولیس کو خبر کرنی چاہئے، پولیس کواس مذموم کام میں ملوث تمام افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف تحت ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے ،چونکہ ایک طرف سماج ایک مہلک بیماری سے متاثر ہو چکا ہے اور دوسری جانب منشیات فروش اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں مصروف ہیں لہٰذا پولیس اگر اس وبا کے خلاف برسر پیکار ہے تو عوام کی نظروں میں جو لوگ اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں ان کی مزید نشاندہی کی جائے، تاکہ اس بدعت پر کسی طور قابو پایا جا سکے، پولیس کو اس بدعت پر قابو پانے کیلئے جتنی عوامی حمایت چاہئے عوام اس کیلئے بالکل تیار ہے۔