مزید خبرں

ڈوڈہ میں مزید 81 مثبت ، 1 خاتون کی موت ،13 مریض صحت یاب 

نزلہ و بخار کی شکایت ہوتے ہی لوگ نزدیکی ہسپتالوں میں پہنچیں :سی ایم او ڈوڈہ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں آج کورونا وائرس کے 81 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 32 سالہ خاتون کی موت ہوئی ہے اور 13 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز ضلع کے مختلف مقامات پر ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 81 افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ان میں سرکاری ملازمین و عام لوگ شامل ہیں۔ ادھر گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں گندوہ بسران کی رہنی والی ایک خاتون کی موت ہوئی ہے جس کو پیر کے روز جی ایم سی میں بھرتی کیا گیا تھا۔ضلع میں فعال کیسوں کی مجموعی تعداد 3963 پہنچ گئی ہے اور اب تک 3541 مریض ڈیڑھ سال کے عرصے میں صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 70 پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے پچھلے چار روز میں یہ چوتھی اموات درج کی گئی ہے۔چیف میڈیکل آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر محمد یعقوب میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا سبھی مثبت مریضوں کو ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بیماری سے نہ ڈریں بلکہ اس کا مقابلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ نزلہ، زکام و بخار کی شکائت ہوتے ہی متاثرہ افراد کو نزدیکی ہسپتالوں کا رخ کرنا چاہئے تاکہ ابتدا میں ہی علاج ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ٹیسٹ کے خوف سے گھروں میں ہی رہتے ہیں جو کہ میں موت کا سبب بن جاتا ہے۔
 
 

کشتواڑ کا وارڈ 11، 12 مائیکرو کنٹینمٹ زون قرار 

عاصف بٹ 
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوے معاملات کو دیکھتے ہوے انتظامیہ نے وارڈ 11اور 12 کے کچھ مقامات کو مائیکرو کنٹینمٹ زون قرار دیا ہے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے حکمنامے کے مطابق میونسپل کمیٹی حدود کے اندر وارڑ نمبر 11 اور 12 میں کنٹڈو میڈیکل شاپ سے لیکر غلام علی بٹ کے مکان تک جبکہ ایس ڈی ایم ریسیڈینس کے قریب مکانات کو جہاں 300 کے قریب رہایشی ہیں، کو مائیکرو کنٹینمٹ زون قراد دیا گیا ہے جبکہ اس علاقے سے کسی بھی شخص کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہاں سخت لاک ڈائون کا نفاد عمل میں لایا جائے گا جبکہ صرف ضروری خدمات کی اجازت ہوگی۔ ایس ایچ او کشتواڑ کو علاقہ میں صد فیصد ٹیسٹینگ و ویکسی نیشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
 
 
 
 

بونجواہ کی عوام کا کرونا ٹیسٹنگ کیمپ کرانے کا مطالبہ

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع ہیڈکوارٹر سے 70 کلومیٹر دور 30000 سے زائد آبادی پر مشتمل واقعہ علاقہ بونجواہ کی عوام علاقہ میں کرونا ٹیسٹ کرانے کی مانگ کرررہی ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے بتایا کہ جہاں اس وبائی بیماری نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور آئے روز لاکھوں کی تعداد میں معاملے سامنے آرہے ہیںجبکہ علاقہ میں آئے روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مختلف مقامات سے آتے ہیں جبکہ انکا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا ہے جسے علاقہ میں کرونا کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ علاقہ میں ایک کرونا ٹیسٹنگ کیلئے کیمپ لگاتی تاکہ ہر آنے و جانے والے شخص کا ٹیسٹ کیا جاتا جسے اس وبائی بیماری کو علاقہ میں پھیلنے سے روکا جاسکتا تھا۔غلام علی نامی ایک شخص نے بتایا کہ انھیں کرونا کا ٹیسٹ کرنے کیلئے 70 کلومیٹرکا فاصلہ طے کرکے ضلع ہیڈکوارٹر پہنچا پڑتاہے، اگر انتظامیہ علاقہ میں ہی ٹیسٹنگ کرتی تو انھیں مشکلات نہ ہوتیں اور اس وبائی بیماری کو بھی مزید پھیلنے سے روکا جاسکتا تھا۔
 

بخشی نگر ہسپتال میں کووڈمریضوں کو الگ رکھاجائے :وکرم ملہوترہ

جموں//اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے ایمرجنسی وارڈ میں کووڈ مریضوں کو الگ نہ رکھنے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ ملہوترہ نے کہا ہے کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں مریضوں کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے کووڈ مریضوں کو الگ رکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہاں پر داخل ہونے والے مریضوں میں زیادہ تر مثبت آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جموں کے مختلف علاقوں سے مریض آرہے ہیں، جن میں سے کچھ ٹسٹ کے بعد مثبت آتے ہیں، اس سے غیر متاثرہ کویڈ مریضوں کو سخت خطرہ ہے جن کا ایمرجنسی وارڈمیں اُسی جگہ علاج چل رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کویڈ19مریضوں، تیماردار پی پی ای کٹس میں گھوم رہے ہیں اور اُن کا مریضوں کے ساتھ قریبی رابطہ بھی ہوا ہے۔ یہ ہسپتال انتظامیہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مریضوں کا بغیر الگ الگ کرنے سے ایک ساتھ جمع ہونا سنگین خطرہ ہے ، جس کا اگر نوٹس نہ لیاگیا تو جموں میں کووڈ19بحران کی صورتحال مزید بگڑسکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج میں کووڈ19مریضوں کے لئے ایمرجنسی اور ٹسٹنگ کی سہولت علیحدہ سے رکھی جائے۔ انتظامیہ صحت محکمہ کے ساتھ بخشی نگر اسپتال کی صورتحال کا جائزہ لے اور فوری طور کویڈ19مریضوں کے لئے اعلیحدہ انتظامات کرے۔ ملہوترہ نے کہاکہ جموں میں پہلے ہی مہلک وائرس کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتہ کے دوران بہت قیمتی جانیں تلف ہوچکی ہیں اور موجودہ شرح اموات تشویش کن ہے۔ انتظامی سطح پر برتی جانے والی لاپرواہی سے عام آدمی کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
 

مذہبی و سماجی اِدارے حکومت کی مدد کو آئیں:ڈاکٹر بھگت

جموں// مُلک بھر میں کرونا قہر سے پیدا شُدا مہاماری کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نہایت ضروری  ہو گیاکہ تمام مذہبی و سماجی تنظیموں کو کروناسے پیدا شدہ مہا ماری کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ یہ بات لوک ادِھکار مِشن جے اینڈ کے کے چیئرمین ڈاکٹر امر چند بھگت نے کہی۔انہوں نے کہا کہ روزانہ ہزاروں لوگ اِس کرونامہاماری سے اپنی جان گنوا رہے ہیں مگر مرکزی اور رِیاستی سرکاریں اِس کو قابو کرنے میں مبینہ طور پر ناکامیاب ہوئی ہیں۔اب بے شک یہ سرکاریں نئے نئے تجربے کرنے کی کوشِش کر رہی ہیں مگر ابھی بھی حالات قابو سے کہیں کوسوں دُور ہیں۔ایسے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہماری سماجی تنظیم نے تمام مذہبی و سماجی اِداروں اورتنظیموں سے مودبانہ گُذارِش کی ہے کہ اِن کے پاس جِتنی بھی بغرض رِہائش جگہیں دستیاب ہیں اُن جگہوں کو عارضی طور پر سرکار کو دیں تاکہ وہاں پر عارضی کووِڈ ہسپتال بنائے جا سکیں۔ اِسی طرح سِول سوسائٹی کے آگے بھی لوک ادِھکار مِشن تنظیم نے مودبانہ اپیل کی ہے کہ وہ شادِیوں کے ہال ، بینکٹ ہال ، کمیونٹی ہال ، یا پھر دھرم شالیں یا اور کوئی میٹینگ ہال ہوں تو اُنکو سرکار کے حوالے کریں تاکہ وہاں پر عارضی طور پر کووِڈ ہسپتال بنائے جا سکیں۔ 
 
 

بالائی و میدانی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع

عاصف بٹ
کشتواڑ// ضلع کشتواڑ کے بالائی و میدانی علاقوں میں آج بعد دوپہر بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جسے ایک مرتبہ پھر سردی کی شدت میں اضافہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح سے ہی موسم ابر آلود تھا اور دوپہر ہوتے ہی تیز ہوائیں و بجلی گرجنے لگی جسکے بعد بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھا۔ بالائی علاقوں میں جم کر بارشیں ہوئی جبکہ میدانی علاقوں میں درمیانہ بارش درج کی گئی جسکے سبب سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا اور لوگوں نے دوبارہ گرم ملبوسات کا استعمال شروع کردیا۔
 

ڈی سی کی ہدایت پر تحصیلدار کا بونجواہ دیہی ترقی دفترکا معائنہ

بی ڈی اوسمیت4ملازمین غیر حاضر پائے گئے

 عاصف بٹ
کشتواڑ// گزشتہ چھ ماہ سے دیہی ترقی دفتر بونجواہ میں تعینات افسران کے غیرمناسب رویہ کی وجہ سے محکمہ دیہی ترقی دفتر بلاک بونجواہ ہمیشہ سرخیوں میں ر ہا اور آئے روز دفتر کے غیر فعال ہونے کی شکایتیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آج ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ کی ہدایت پر تحصیلدار بونجواہ نے دوسرے سیکٹورل عملہ کے ہمراہ ہائر سیکنڈری سکول بنون کے قریب واقع یہی ترقی دفتر بونجواہ کے دفتر کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران 05 ملازمین میں سے 04 ملازمین ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے جن میں بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر ، محمد امین آرڈرلی ، مدثر نبی سی آئی ایس اور وسیم راجہ سی آئی ایس شامل ہیں۔ ملازم محمد آصف اردلی وہاں موجود پایا گیا تھا اور وہ آبائی گاؤں نالی کا رہائشی ہے جبکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آفیسر بونجواہ جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا تھا۔ مقامی لوگوں نے ضلع مجسٹریٹ کشتواڑ کی فوری کارروائی کی تعریف کرتے ہوے کہا کہ انہیںامید ہے کہ ان تمام ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے جو ان کے جائز فرائض سے غائب پائے گئے تھے۔ واضح رہے کہ سائن بورڈز جو 2016-17 سے کھلے عام زنگ آلود ہو رہے ہیں جبکہ لاکھوں روپے ان سائن بورڈوں کی لاگت کا تخمینہ ہیاور انھیں لگانے کے بجاے کھلے عام خراب کرنے کیلئے رکھا جارہا ہے۔
 
 

 انتظامیہ اور کان کنی مافیا کے درمیان مبینہ ساز باز کی تحقیقات کا مطالبہ 

 وجے پور//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے گذارش کی ہے کہ پولیس، مقامی انتظامیہ اور کان کنی مافیا کے درمیان ساز باز کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی پولیس، انتظامیہ اور مائننگ مافیا کے درمیان ساز باز کے معاملہ کو پچھلے کئی ماہ سے لگاتار اُجاگر کر رہی ہے کیونکہ مقامی کن کنی کرنے والوں سے یہ حق چھین جانے سے اِس کاروبار سے وابستہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ سنگین معاملہ کے تئیں توجہ دی جائے جس سے مقامی کان کنی کرنے والے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ حکمراں جماعت سے وابستہ سابقہ لیجسلیچر کے الزامات کا تذکرہ کرتے ہوئے سابقہ وزیر نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ اِن الزامات کی اعلی سطحی تحقیقات کرانی چاہئے اور ایسے افسران کو تبدیل کر کے فوری طور انکوائری شروع کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات سے ہی مائننگ مافیا اور اُن کے ساتھیوں کی پول کھل سکتی ہے جنہوں نے حکمراں جماعت سے وابستہ سابقہ لیجسلیچر کو میڈیا کے سامنے اپنے پارٹی لیڈرا، مائننگ محکمہ اور پولیس محکمہ کے خلاف بولنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی نے جموں میں متعدد مقامات پر لگاتار اِس معاملہ کو لیکر احتجاج کئے ہیں اور پارٹی مقامی لوگوں کو یقین دلاتی ہے کہ وہ اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑے گی۔