مزید خبرں

پونچھ ضلع میں 125کووڈ کیس رجسٹرڈ 

تازہ4 ہلاکتوں میں ایک ایگز یکٹو مجسٹریٹ بھی شامل 

سمت بھارگو 
راجوری //سرحدی ضلع پونچھ میں ایک دن میں سب سے زیادہ 125کووڈ کیس درج کئے گئے ہیں جبکہ انتظامیہ نے لوگوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ کووڈ ایس او پیز پر سختی کیساتھ عمل کرئے تاکہ وائرس کے پھیلائو کو کم کیاجاسکے ۔گزشتہ روز ضلع میں کووڈ کی وجہ سے ہوئی ہلاکتوں میں ایک ایگز یکٹو مجسٹریٹ بھی شامل ہے ۔ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پونچھ منڈ ی کے راجپورہ کا ایک آدمی اور مینڈھر میں ایک خانہ بدوش خاتون بھی شامل ہے ۔مینڈھر کے اڑی علاقہ کی ایک خاتون گور نمنٹ میڈیکل کالج جموں میں زندگی کی جنگ ہار گئی ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کو کچھ ہی دن قبل گور نمنٹ میڈیکل کالج میں علاج معالجہ کیلئے داخل کروائی گئی تھی ۔اسی طرح سب ڈویژن مینڈھر کی ہرنی نیابت کا نائب تحصیلدار بھی کووڈ کی وجہ سے لقمہ اجل بن گیا ہے ۔آفیسر مرحوم کو منگل کو سب ڈسٹر کٹ ہسپتال سرنکوٹ سے میڈیکل کالج جموں ریفر کیا گیا تھا ۔کووڈ نوڈل آفیسر پونچھ زمرد احمد نے بتایا کہ ضلع میں اب تک کے ایک دن میں سب سے زیادہ کیس درج کئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ درج شدہ 125کیسوں میں 12مسافر ،113مقامی ہیں جبکہ فہرست میں حویلی کے 20،منڈی سے 39،سرنکوٹ سے 18اور مینڈھر سب ڈویژن میں سے 48افراد شامل ہیں ۔
 
 
 

 سابقہ سرپنچ مرزا میر باز کا انتقال 

سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہار افسوس 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی // سب ڈویڑن تھنہ منڈی کے علاقے کوٹ بہروٹ کے رہائشی اور سابقہ سرپنچ مرزا میر باز گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں انتقال کرگئے ۔ان کی عمر 80سال تک بتائی جارہی ہے ۔مرحوم کی صحت خراب ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں بدھ کے روز ان کی موت ہو گئی۔ مرزا میر باز محکمہ تعلیم میں بطورِ استاد مقرہ ہوئے اور ہیڈ ماسٹر کے باوقار عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ سرکاری ملازمت کے بعد بھی عوام کی خدمت میں کرتے رہے چنانچہ بطورِ سرپنچ بھی منتخب ہو کر عوامی خدمت میں مصروفِ عمل رہے۔مرحوم نے اپنے دورِ ملازمت میں بخوبی اپنے فرایض سرانجام دئیے ۔مرحوم مزا میر باز ایک نہایت شریف النفس ، بااخلاق شخصیات کے مالک تھے ۔ان کی وفات پر علاقہ کے معززین سیاسی ،سماجی اور مذہبی شخصیات نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔
 
 

صحافی جاوید اقبال کیساتھ اظہار تعزیت 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی //تھنہ منڈی کے صحافتی طبقہ نے مینڈھر سے کشمیر عظمیٰ کیساتھ منسلک صحافی جاوید اقبال کی والد کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین بالخصوص جاوید اقبال کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے جبکہ مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔ تھنہ منڈی سے روزنامہ اڑان اور سی این آئی سے وابستہ نثار خان ، ای ٹی وی بھارت کے جہانگیر خان، لازاول کے عمران خان کشمیر عظمیٰ کی عظمیٰ یاسمین ، گلستان نیوز کے جاوید خان، کشمیر کراؤن کے راحیل گنائی اور دیگر کئی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی صحافی جاوید اقبال کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا جن میں چیئرمین میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی شکیل احمد میر ، راہ حق کے سید منظر علی شاہ ، پہاڑی لیڈر شہباز خان ، پیرپنچال فورم تھنہ منڈی ، مسلم ایجوکیشنل کے سرپرست خورشید بسمل اور دیگر کئی سیاسی اور سماجی شخصیت نے بھی جاوید اقبال کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔ 
 
 

 گونتریاں کی مسافر گاڑیوں کا کرایہ معین کرنے پر شکریا ادا

حسین محتشم 
پونچھ // مسافرگاڑیوں کے گول چارٹ کے صدر سید شفیق حسین شاہ کا سیاسی وسماجی شخصیت نے شکریا ادا کیا ہے جنہوں نے پونچھ سے اسلام آباد اور مسافرگاڑیوں کے کرائے معین کئے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن عبدلرشید شاہپوروی نے کہا پونچھ کے دور دراز علاقہ اسلام آباد، شاہپور،گونتریاں کے غریب عوام کو کئی میل کی مسافت کرکے ضروری ایشا ء کیلئے ہر روز سفر کرنا پڑتا ہے وہ جتنے کا سامان نہیں خریدتے تھے اس سے دوگناہ کرایہ ادا کرنا پڑرہا تھا ۔انہوں نے کہا کوڈ انیس کی وجہ سے چونکہ مسافر گاڑیوں کی بہت ہی کمی چل رہی ہیں اس وجہ سے ڈرائیور من مرضی کا کرایہ وصول کر رہے تھے ۔انہوں نے گول چارٹ کے صدر موصوف سے بات کی تو انہوں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے پونچھ سے گونتریاں سائیں بابا زیارت شریف تک 35روپے کرایہ مقرر کیا ۔ انہوں نے کہا وہ تہہ دل سے انکے شکرگزار ہیں ۔ چوہدری شریف کوہلی،جعفر جعفری،اقبال کھانڈے،چوہدری معروف چوہان،اور فوجی محمد رشید نے بھی شفیق حسین شاہ کا شکریہ ادا کیا ۔
 
 
 

مولانا سید مظہر جعفری اور کوثر جعفری کو صدمہ

حسین محتشم
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے معروف علمائے دین مولانا سید مظہر علی جعفری اورمولانا سید کوثر علی جعفری کی والد ہ کا بدھوار کی صبح میڈیکل کالج راجوری میں انتقال ہو گیا ۔مرحومہ گذشتہ کچھ عرصہ سے سخت بیمار تھی جن کا ہندوستان کے مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا تھا لیکن کوئی علاج کام نہ آیاآخرکار وہ اپنے حقیقی معبود سے جا ملی ۔مرحومہ نہایت ہی دین دار شخصیت کی حامل تھی مرحومہ کے انتقال پر مختلف تنظیموں کے قائدین نے اظہار افسوس کیا ہے۔شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں کے نائب صدر محمد بشیر میر، ضلع صدر جعفر حسین ونتو اور دیگر کارکنان نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبے کے ساتھ انتہائی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے شیعہ فیڈریشن کے سرپرست اعلیٰ قائدہ ملت مولانا سیدمختا حسین جعفری کو ان کی بھابی کے انتقال پر اور مرحومہ کے شوہر ڈاکٹر مشتاق حسین جعفری تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انجمن جعفریہ پونچھ کے صدر ماسٹر انور حسین ونتو، تنظیم المومنین کے سابق صدر ماسٹر اکبر علی انصاری و محمد سبطین انصاری، انجمن خدام الحسین منگناڑ کے صدر فیاض علی آرزو حیاتپوری، انجمن گلشن حسنینی پلیرہ کے صدر اصغر علی میر، سابق ضلع ترقیاتی کمشنرسید انور حسین شیرازی ،انجمن رضائے آل محمد ساتھر کے سرپرست اعلیٰ سید شوکت حسین کاظمی،ایس کے کالج آف کمپٹیشن کے چیئرمین سید نصرت حسین شاہ،سابق صدر انجمن تنظیم المومنین منڈی نجم جعفری نے بھی اپنے اپنے تعزیتی پیغامات میں سوگوار خانوادہ کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے ،ان کی مغفرت کرے اور ان کے تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 
 

دکانداروں کے کووڈ ٹیسٹ کرنے کا مطالبہ 

منجا کوٹ //تحصیل منجا کوٹ کے معززین نے ضلع انتظامیہ راجوری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ تحصیل میں تمام دکانداروں کا کووڈ ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ عام صارفین کو تحفظ فراہم ہو سکے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کیساتھ ساتھ جموں پونچھ شاہراہ کے نزدیک کئی ایک دکانیں موجود ہیں جبکہ اس کے علاوہ دیہات میں بھی دکانیں قائم کی گئی ہیں جہاں سے صارفین رمضان میں ضروری ساز و سامان لیتے ہیں تاہم ابھی تک تحصیل میں مذکورہ دکانداروں کی جانچ کے سلسلہ میں کوئی بڑی مہم ہی شروع نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے ڈی سی راجوری سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اشیاء ضروریہ سے منسلک افراد کا ترجیح بنیادوں پر کووڈ ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ عام صارفین بغیر کسی ڈرو خوف کے ساز و سامان خرید سکیں ۔غور طلب ہے کہ تحصیل منجا کوٹ میں کووڈ معاملات میں ضلع کے دیگر حصوں کی ہی طرح اضافہ ہوتا جاریا ہے جبکہ گزشتہ دنوں کچھ اموات بھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے ۔