مزید خبرں

پنیاڑہ ریاسی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ 

ریاسی//ضلع صدر مقام سے10کلومیٹر دور گائوں پنپاڑہ کریئین رنجاڑی گائوں بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق مقامی لوگوں کی ایک میٹنگ زیر صدارت مولوی عبدالرشید منعقد ہوئی جس میں مقررین نے کہا کہ آزادی کے71سال گذر جانے کے بائوجودیہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کے ریاسی لور آنجی سے پنیاڑہ کریئین گائوں صرف7کلومیٹر کی دوری پر ہے یہاں کے عوام کو آج تک بجلی مہیا نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی سڑک تعمیر کی گئی ہے حالانکہ لور آنجی سے پنیاڑہ کرنین رنجاڑی کا فاصلہ صرف7کلومیٹر ہے۔ یہاں کے عوام کی مدتوں سے مانگ ہے ان کے گائوں میں آنگن واڑی سینٹر کھولا جائے۔ یہاں کے عوام نے زبانی و تحریری متعلقہ محکمہ جات سے متعدد بار فریادکی مگر زمینی سطح پر آج کوئی بھی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ رنجاڑی ایس ٹی بستی کے عوام نے کہا ہے اس علاقہ میں میڈل وپرائمری سکول ہیں مگر اردو پڑھانے والا کوئی بھی استاد نہیںہے جس کی وجہ سے بچے اردو پڑھائی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ تمام مسائل کو زیر بحث لاکر عوام نے بذریعہ پریس نوٹ ضلع انتظامیہ ریاسی و ریاستی سرکار سے پر زور اپیل کی ہے کہ لور آنجی سے پنیاڑہ کریئین رنجاڑی تک فوری7کلومیٹر سڑک تعمیر کروائی جائے۔ان گائوں کو فوری بجلی مہیا کروائی جائے،گورنمنٹ سکول میں اردو استاد دئے جائیں اور آنگن واڑی سینٹر ان گائوں میں دئے جائیں تاکہ یہ لوگ بھی مرکزی سرکار سے ملنے والی فوائد سے مستفید ہو سکیں۔ میٹنگ میں محمد صادق،محمد صدیق،مشتاق،محمد خالد،برکت علی،محمد اقبال وکیل اور دیگر کئی لوگوں نے شرکت کی۔
 
 
 

کشتواڑ کے 6 بلاک افسران کے بغیر

 بلاکوں میں بی ڈی اوز تعینات کرنے کی مانگ

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے نو تشکیل شدہ بلاکوں میں ڈیولپمنٹ افسران کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر پبلک آویرنس فرنٹ نے کہا ہے کہ اگر چہ نئے بلاک بنائے جانے پرلوگوں میں خوشی کا ماحول تھا لیکن افسران کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ہے کہ ضلع کشتواڑ میں کل 13بلاک ہیں جن میں سے صرف 7بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر جنہیں نئے بنائے گئے بلاکوں کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔دور دراز علاقوں جب متعلقہ بی ڈی او دفتر جاتے ہیں وہ اکثر منفی جواب دیتے ہیں کہ افسر کسی اور بلاک میں ہے جس میں وہ مکمل یا اضافی چارج رکھتا ہے۔ان غریب اور ضرورت مندلوگوں کا وقت اور پیسہ ضائع ہو جاتا ہے۔یہ لوگ توقعات لے کر آتے ہیں اور خالی ہاتھ واپس جاتے ہیںاس لئے حکومت سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھیں اور فوری طور سے نئے بنائے گئے بلاکوں میں بی ڈی او تعینات کریں اور ان نئے بلاکوں میں عملہ کی بھی کمی ہے  جب کہ حکومت نے پنچایت چنائو کرانے کا فیصلہ لیا ہے تو ایساعملہ کی کمی کی وجہ سے نا ممکن لگتا ہے۔زمینی کام اور میعار کو دیکھنے کیلئے  ہر بلاک میں پنچایت انسپکٹر کو مقرر کیا جائے۔
 

نالے

 فلم پدماوت تاریخی آئینہ میں

ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے متنازعہ فلم پدما وت کو ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ساتھ ہی اس نے صوبائی حکومتوں کو اس کی ہدایت دے دی ہے اور اس کا پابند بنایا ہے کہ وہ امن اور قانون کو بحال رکھنے کی اپنی وجہ ذمہ داری ادا کریں۔واضع رہے کہ اس فلم کے خلاف پورے ملک میں اور خاص طور پر مغربی ریاستوں میں شدید مخالفت ہو رہی ہے۔متعدد مقامات پر تشددآمیز مظاہرے بھی ہوئے اس لئے کہ ایک طبقہ کا یہ خیال ہے کہ اس سے ایک طبقہ کے جذبات کی توہین ہوتی ہے۔اس میں ملکہ پدماوت کے ساتھ ایک خلجی سلطان نے جس طرح بدسلوکی کی اس کو کوئی شریف انسان برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی تشریح کی جائے۔اس کے دفاع میں بنائی جانے والی کرنی سینا کی طرف سے تو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔انہیں پر تشدد مظاہروں کے سبب راجستھان اور گجرات کی صوبائی حکومتوں نے اپنے صوبوں میں اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس سلسلے میں وہاں آر ڈی نس جاری کر دئیے گئے۔جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچاتو اس سماعت کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں ایک بنچ بنائی گئی جس نے سماعت کے بعد من بنایا کہ اس پر پابندی نا مناسب ہے۔فاضل ججوں کا کہنا ہے کہ بینڈٹ کوئن دکھائی جا سکتی ہے تو پدماوت دکھائے جانے میں کیا خرابی ہے۔بنچ کے خیال میں راجستھان اور گجرات کی صوبائی حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے نا مناسب تھا۔لہذا عدالت نے بھی دوبارہ سراٹھا یا ہے۔بعض حلقوں نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔پدماوت کا معاملہ جتنا عجیب و غریب ہے اس سے زیادہ عجیب و غریب اس کی مخالفت اور موافقت کا معاملہ ہے اس لئے کہ ایک ایسی چیز کی مخالفت اور موافقت میں یہ ماحول گرم کیا گیا اور کہا جا رہا ہے۔جس کی صداقت ہی مشتبہ ہے۔پدماوت کا سارا قصہ ہی تاریخی سند کے لحاظ سے مشتبہ و مشکوک بنایا جاتا ہے۔دراصل صوفی شاعر ملک محمد جالئی کا رزمیہ ہے جو1540ء میں لکھا گیا یہ ایک راجپوت راجیہ رتن سین(چتوڑ)اور رانی پدمنی کی محبت کا تخیلی قصہ بتایا جاتا ہے۔اس میں علاء الدین خلجی کے چتوڑ پر حملے کو بھی موضوع بتایا جاتا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ پدمنی کے عشق میں ایسا دیوانہ ہو گیا کہ وہ اسے وہاں سے اٹھا لانے کے درپے ہو گیا۔کہا جاتا ہے کہ راجپوتوں نے نہایت بے جگری سے خلجی کا مقابلہ کیا۔یہاں تک کہ محل کی عورتوں نے بھی جان پر کھیل کر اپنی عزت کی حفاظت کی انہوں نے مرجانا گوارہ کیا۔ان کا سولہ سنگار کر کے الائو میں کو د جانا اسی کو ظاہر کرتا ہے۔اس رسم کو جوہر کہا جاتا ہے۔یاد رہے کہ علاء الدین خلجی کا زمانہ1296ء تا1316ء کا ہے۔گویا اس کی موت نے200سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گذرجانے کے بعد یہ رزمیہ لکھا  گیا ہے۔اس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی مگر اس کی تاریخی سند اور حیثیت پر زبردست اختلاف پایا جاتا ہے۔اس عہد کے مورخین کے یہاں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔بعض مورخین چتوڑ کی فتح کا ذکر تو کیا مگر ان کے یہاں بھی اس کا ذگر نہیں چلتا۔اس سلسلہ میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ خلجی سلطان وقت کی توہین کے خیال سے معاصر مورخین نے اس سے اجتناب کیا ہوگا۔لیکن تاریخ فورز شاہی میں بھی اس کا کوئی ذکر نہ ملنا قابل توجہ ہے اس لئے اس کے موئف نے علائوالدین خلجی کے کمزور پہلوئوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ایک ایسے معاملے کو جس کی تاریخی حیثیت یہی مشکوک ہو اس کو بنیاد بنا کر طوفان کھڑا کرنا واقعی عجیب و غریب ہے۔
شیخ محمد امین…9796209918
 صدر سیرت کمیٹی بٹوت
 
 ! مسلمانوں کا قتل عام
گذشتہ برسوں سے جس طرح مسلمانوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے ایسا تاریخ کی بڑی بڑی جنگوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ مغربی ممالک کے غلیظ عزائم کی شکار امت ِ مسلہ آج پُکار پُکار کر انسانیت کے علمبرداروں سے سوال کررہی ہے کہ کہا انسانیت مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔ انصاف مہیا کرانے والے عالمی ادارے گونگے ہوگئے ہیں۔ داعش کے نام پہ شام میں مظلوم ومعصوم شامیوں کاقتل ، یمن میں قیادت کی بھوک مٹانے کی خاطر غریبوں پہ حملے ، یروشلم میں اسرائیلوں کے ہاتھوں معصوم فلسطینیوں کا قتل، عراق میں مسلکی جنگیں، افغانستان میں طالبان کے نام پہ معصوموں کا قتل عام ، پاکستان میں بلوچیوں کی بڑھتی غنڈہ گردی ، جموں وکشمیر میں ہندوستانی افواج کی استعماریت ، ہندوستان میں گائے کے نام پہ مسلمانوں کا قتل ، برما میں معصوم روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ، چین میں ایغور کے مسلمانوں  پہ ہرطرح کی پابندیاں جیسے درد ناک اور خون آشام واقعات نے ایک بات کو صاف کردیا ہے کہ آج پوری دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار امت مسلمہ ہے ۔ اب یہ دہشت گردی کئی طرح کی ہے جیسے کسی ملک میں مسلکی ہے ، کہیں علاقائی اورلسانی ہے ، کہیں قیادت حاصل کرنے کی ،کہیں امن وامان کے نام پہ ہورہی ہے ، کہیں مذہب کی بالادستی کو ثابت کرنے کے لئے  مسلمانوں کو جانوروں کے عوض جلایا جاتاہے ، کہیں وسائل کو حاصل کرنے کے لئے اور کہیں ہتھیاروں کوفروخت کرنے کے لئے کی جاتی ہے ۔ ان تمام طرح کی دہشت گردیوں کانفاذ مسلمانوں یا مسلم ممالک میں کیا گیا ہے۔ ہر ملک میں مسلمانوں کے آئے دن کوئی نہ کوئی مشکل یا پریشانی کھڑی کی جاتی ہے تاکہ حق وباطل میں فرق کرنے والی امت مسلمہ کہیں عالم جہاں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ۔  روہنگیا مسلمانوں کوکیسے تباہ کیا۔ ان کی املاک اورعزتیں کیسے برباد کیں ۔ چین میں ایغور کے مسلمانوں پہ انسانیت  سوز پابندیاں عائد کرکے ان کی زندگی کو تنگ بنایا گیاہے ۔ اب میں ذرا ہندوستان کی طرف رجوع ہوتاہوں توقارئین تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمان آئے دن کسی کسی اتنہا پسند گروپ کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں ۔ یہاں کے قید خانے60 فیصد مسلم قیدیوں سے بھرے ہیں جن پہ سازش کے طورپر غلط الزامات لگا کر پس زنداں ڈالا گیا ہے ۔ مسلمان ہندوستان میں ہندوؤں کے بعد دوسری اکثریت ہے لیکن ہر شعبہ حیات میں سب سے پچھڑی ہوئی تصور کی جارہی ہے ۔ حالیہ دنوں میں جس طرح سے عدالت ِ عالیہ کے ججوں نے عدالت کے باہر آکر احتجاج کیا کہ عدالت میں سب کچھ صحیح نہیں چل رہاہے ۔ اترپردیش میں جس طرح سے بھگوا اور دھارمک دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف بڑھ رہی ہے۔ وہ اس سے قبل نہیں دیکھی گئی اور یہ تمام واقعات ہندوستان میں پولیس کی موجودگی میں ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر میں کس طرح سے مدرسوں ، مسجدوں اور درگاہوں پہ قدغن لگانے کی خاطر آئے دن نئے نئے حکم جاری کئے جاتے ہیں۔ اخلاق کے قاتل کی موت جب جیل میں ہوجاتی ہے تو اسے جھنڈے میں لپیٹ کر لایا جاتاہے۔جسٹس لوہیا کا قتل، شکیل کے افرادِ خانہ کی خواتین کی عصمت دری ، اتنے واقعات ہیں جن کی فہرست گنوانا بہت مشکل ہے ۔ 26؍جنوری والے دن یوپی کے کاس گنج علاقے میں ہونے والے واقعے نے ہندوستان کے غلیظ جمہوری چہرے کو بے نقاب کردیا ہے ۔ ریاست جموں وکشمیر میں جہاں انسانی جانوں کو آئے دن ہندوستانی افواج اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے گذشتہ دنوں جس طرح کے دو واقعات پیش آئے ایک سانبہ جہاں  ایک غریب کی سات سالہ بچی آصفہ کو کس طرح سے نو دن غائب رکھ کر آس کی عصمت دری کرکے مارا گیا اور پھر نالے میں پھینک دیا گیا ۔ اور دوسرا شوپیاں میں دونوجوانوں کی ہندوستانی آرمی کے ہاتھوں جانیں تلف ہوگئیں اوران کے خلافFIRلگنے کے بعد سیاسی جماعتوںمیں مخالفت  کا غور وفکر مسئلہ بن چکا ہے ۔ آصفہ نو دن غائب رہی لیکن پولیس نے کوئی تحقیق وتلاش نہیں کی۔ آصفہ کے ساتھ انسانیت سوز واقع نے یہاں کی اکثریت کوغیرت دلائی، لیکن یہ دولت کے نشے میں لُٹ پُٹ امتِ مسلمہ  آصفہ کے لئے دو لفظ زبان سے  ادا کرنے میں قاصر کیوں۔ مظلوم ومعصوم والدین کی اس چھوٹی بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ نہایت ہی ناقابل برداشت ہے ۔ ریاستی سرکار کی وزیراعلیٰ نے دولفظ تک نہیںکہے ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوانسانیت کو بھی بھول گئے ہیں مذہب کی آڑ میں بچوں کو بھی نہیں بخشتے۔ شوپیاں واقعے کے بعد جب پولیس نے آرمی کے خلاف FIRدرج کی تو ہندولیڈران اور مرکزی سرکار کے نمائندوں نے جس طرح کاردِ عمل ظاہر کیا وہ بھی کافی دلخراش ہے جموں یونیورسٹی کے اندر بھی اس کے خلاف احتجاج ہوئے۔ دہشت گردصرف مسلمان ہی نہیں ہوتا میرا تو ماننا ہے ہر وہ شخص چاہے سپاہی کی وردی میں کیوں نہ ہو اگرکسی معصوم کی جان لیتا ہے تو وہ دہشت گرد ہے ۔ آخر کب تک ہم یہ مجرمانہ خاموشی اور رویہ اختیار کئے رکھیں گے آخر ایک نہ ایک دن ہمیں ان انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کھڑا تو ہونا ہے ۔ اگر آج ان کا علاج نہ ہوا تو آنے والے ایام محض نفرت اور دشمنی کی تاریخ رقم کریں گے۔
ڈاکٹرمحمد ذاکر…8713091356
 

نیروجال ،تھنہ منڈی،راجوری

آصفہ کی کہانی،اسی کی زبانی

جی میں ہی آٹھ سالہ آصفہ دختر یوسف ہوں،میں رسانہ گاوں ہیرا نگر کٹھوعہ کی ایک یتیم بچی ہوں،میری ماں نے چند سال قبل میری بہن اور دو بھائیوں کے ہمراہ مجھے اور میرے ابو کو یہاں اکیلے چھوڑ کر ایک دل اندوز حادثے میں داغ مفارقت دے گئے،اب کیا تھا میں اور میرے ابو،بس۔۔۔۔اب رسانہ گاوں والوں کو میرا جینا راس نہ آیا اور نہ ہی میرے ابو کا اکیلا پن۔ابو نے کہا بیٹا مویشیوں کو واپس لے آو،میں گئی اور مویشی ڈھونڈتے ہوئے میری آنکھوں پر کسی نے ہاتھ رکھ لیا اور یوں ہی مجھے کسی گاو خانے میں پہنچایا گیا میں نے چلانا چاہی لیکن مجھے وریندر(فرضی نام)نامی درندے نے مارنے کی دھمکی دے دی اور اسی عالم درندگی میں میرے سات روز گزر گئے،میں نے ہر ہر قسم کی مدد چاہی لیکن بس یہی قتل کی دھمکیوں نے میری زبان ہر بار خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کی گئی،شوریندرکی ماں،اس کا ماما پٹواری اور دو تین لوگ آخری شب میرے قریب آئے اور مجھے گھر لے جانے کے بہانے قریب کے جنگل میں لے آئے اور میں درد کے مارے بے حال تھی چونکہ درندوں نے میری عصمت کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا اور میں خود بھی زندگی کی جنگ ہار چکی تھی،بس امید کی کچھ سانسیں لٹک رہی تھیں،ان درندوں نے مجھ پر پے درپے وار کرنے شروع کر دیے اور مجھے انتہائی اذیتوں سے گزار کر مجھے لاڈلی بیٹی ہونے کی آخر کار بھیانک سزا دے ہی دی،اتنا ہی نہیں میرے جنازے کو قریبی قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا گیا حالانکہ وہ میرے ابو کی اپنی زمین تھی،اب مجھے اپنی ماں،بہنوں اور بھائیوں کے پہلوؤں میں دفنانا گوارہ نہ کیا گیا۔مجھے میرے ابو کے آنگن سے مر کر بھی بھگایا کیوں آپ لوگوں نے؟کیا میرا یہی قصور تھا کہ میں ایک غریب بکروال طبقے سے وابستہ بیٹی تھی؟میں ایک امیر گھرانے کی بیٹی نہیں تھی؟کسی ایم ایل اے ، وزیر بڑے افسر یا حاکم کی بیٹی نہیں تھی،ایک انتہائی مفلس ہونا میرا گناہ تھا کیا؟آخر رسانہ گاوں کے لوگوں نے میری مدد کیوں نہیں کی؟پولیس نے میری مدد کیوں نہیں کی؟کیا میں اسقدر گنہگار تھی کیا؟ہاں شائید میں اپنے ابو کیلئے جینا چاہتی تھی،میں تمہارے اقتدار کو کبھی نہیں چھیننا چاہتی تھی محبوبہ جی،اگر میں آپ کی لاڈلی بیٹی ہوتی تو آپ میرے لئے پتھر کے کھلونوں کے بجائے اچھے اچھے کھلونے لانا کبھی نہ بھولتیں،آپ مجھے اپنے ساتھ گاڑیوں میں گھماتیں،اور ہاں میں کبھی بھی رسانہ کی مردہ زینت بن کر نہ ابھرتی،میں سچ کہتی ہوں محبوبہ آنٹی۔۔ہاں۔۔میں آپ سے کبھی کھلونوں کی شکایت لے کر نہ آتی،میں بس پتھروں سے کھیلنا ہی پسندکرتی تھی۔
محمدشریف شیخ …9107000766
ساکن ،ڈوڈہ
 
کرگل ہاوس جموں خستہ حال! 
 ضلع کرگل موسم سرمامیں بھاری برفباری اور سردی کی وجہ سے بھاری دنیاسے زمینی رابطہ منقطع ہوکرایک سرد جیل کی مانند کڑاکے کی سردی میں زندگی گزارنے پر مجبورہے وہیں لوگوں کوروزمرہ زندگی کے ضروریات کے حوالے سے سنگیں مشکلات کا سامناہے اور سردی کے ایام میں ضلع کرگل کے لوگ کثیر تعداد میں علاج ومعالجہ کی غرض سے ہویا حصو ل تعلیم کے لئے ہو کرگل سے باہر جموں ،سرینگر اور ملک کے دیگر جگہوں پر اپناوقت گزارناپڑتا ہے ۔تاہم ریاستی سرمائی دارالخلافہ جموں میں کرگلی مسافروں کے لئے باہوپلازہ جموں میں ایک مسافر خانہ تعمیر کیا ہے جسے کرگل ہاوس جموں کہا جاتا ہے ۔لیکن مذکورہ مسافر خانے میں مقیم کرگلی مسافروں کے کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔اور صحت وصفائی ہو یا رہائشی سہولیات یہاں تک کہ نہانے دھونے کے لئے باتھ روم میں گرم پانی تک بھی دستیاب نہیں ہے ۔اس کے علاوہ صفائی کا یہ عالم ہے کہ کمروں سے متصل بیت الخلاء کے بدبوسے کمروں میں رہنا دشوارہوتاہے اور کمروں میں کوئی کوڑادان بھی نہیں رکھا گیا ہے جس سے کرگل ہاوس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ بنے ہوئے ہیں ۔لیکن ضلع کرگل کے سیاسی نمائندوں فی الوقت جموں میں سرکاری رہائش گاہوں میں عیش وآرام کی زندگی گزاررہے ہیں وہیں کرگل ہاوس میں مقیم مسافروں کے زندگی یہاں حکام کی لاپرواہی سے ان کا زندگی اجیرن بنے ہوئے ہیں ۔اس مسائل کو لیکرکئی بار مسافروں کی وفد نے کرگل کے سیاسی نمائندوں کو کرگل ہاوس جموں میں بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنے مانگ کی گئی لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھایاگیا اور یوں عوامی نمائندے عوامی مطالات سے ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔اس لئے حکام بالاوارباب اقتدارسے ہمارامطالبہ ہے کہ ایک لمحے کے لئے کرگل ہاوس کی اس ناگفتہ بہہ حالت پرتوجہ کرکے یہاں پرمقیم مسافروں کے لئے بہترین سہولیات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں ۔تاکہ علاج ومعالجے کی غرض سے آئے مریض ہویاحصول تعلیم کے غرض سے آئے ہوئے طلبہ ہویا دیگر لوگ وہ بھی سکون سے آرام کی زندگی گزارسکے ۔
ذاکرحسین نائیک 
یوتھ ایکشن کمیٹی کرگل لداخ
حال مقیم کرگل ہاوس جموں