مزید خبرں

! کٹھوعہ سانحہ، اقلیتوں کو خوفزدہ کرنےکی سازش

گجرقبیلہ سے تعلق رکھے والی آٹھ سالہ دوشیزہ آصفہ کی عصمت دری اور پھراسکاقتل رونگٹے کھڑے کرنے وال ایک ایسی داستان ہے جسے سن کر کسی بھی ذی شعورانسان کاپورابدن کانپ جاتاہے۔ ضلع کٹھوعہ اورتحصیل ہیرانگرکے رسانہ گاﺅ ں کی رہنے والی اس خانہ بدوش معصوم کی عزت کوایک وحشی درندے نے محض اس لیے تارتارکیاتاکہ اس علاقے میں رہنے والے اقلیتوں کوخوف ودہشت میں مبتلاکرکے انہیں وہاں سے بھاگنے پرمجبور کیاجائے۔اس عصمت دری اورقتل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مٹھی بھرانتہاپسندصوبہ جموں اورخاص کرضلع کٹھوعہ ،ضلع جموں،ضلع سانبہ اورضلع ادھم پورسے تعلق رکھے والے اقلیتوں کوصفحہ ہستی سے نیست ونابودکرنے پرتلے ہوئے ہیں۔اسی لیے یہ فرقہ پرست آئے روزکوئی نہ کوئی سازش رچ کرایسے حالات پیداکرتے ہیں جوآپسی بھائی چارے اورقومی یکجہتی کوزک پہنچانے کاسبب بنتے ہیں۔ آٹے میں نمک کے برابر یہ امن دشمن عناصر محض چندووٹوں کے لیے ایسے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں اورایسے ایسے زہریلے بیانات دیتے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔آصفہ کی عصمت دری اورقتل اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ آصفہ کی لاش برآمدہونے کے بعدجب پولیس تفتیش شروع ہوئی تو معلوم ہواکہ خاکی وردی میں ملبوس ایک سرکاری درندے نے آصفہ کی عصمت کومحض اس لیے تارتارکردیاکیوں کہ وہ درندہ یہ نہیں چاہتاتھاکہ یہاں قائم ہندومسلم اتحادمزیدمضبوط ہوسکے۔مجرم نے اس بات کاخود ہی اقرارکیاکہ تقریباً آٹھ سالہ آصفہ کی عزت سے کھلواڑکرنے کے بعداس نے اقلیتوں میں خوف ودہشت پھیلانے کے لیے ا±سے قتل کرکے گھرکے ساتھ ہی ایک جنگل میں پھینک دیا۔ یہاں ریاستی کرائم برانچ کی ا±س ٹیم کوشاباشی دینی پڑتی ہے جواس قتل کیس کو حل کرنے کےلئے تشکیل دی گئی تھی اورجس نے بہت جلد ملزم کے گریبان میں ہاتھ ڈال کراسے سلاخوں کے پیچھے کردیا۔ خاکی وردی میں ملبوس اس ملزم کی شناخت دیپک کھجوریہ کے طور پر ہوئی جوجموں کشمیرپولیس میں SPO کے فرائض انجام دے رہاتھا۔ملزم نے جب اقرارجرم کیاتواسے سلاخوں کے پیچھے کردیاگیا۔قانون اپنی کاروائی مزید آگے بڑھارہاتھا کہ اسی دوران ایک ایساواقعہ رونماہواجس نے پوری ریاست میں اس کیس کواورزیادہ بے نقاب کیا۔ آناً فاناً میں تشکیل دی ہوئی ہندوانتہاپسندوں کی ایک تنظیم ہندوایکتامنچ نے ہندوستانی ترنگے کی آڑمیں ملزم دیپک کھجوریہ کے حق میں ایک بڑاجلوس نکالا۔اب یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوگئی تھی کہ آصفہ کے قتل اورعصمت دری کے پیچھے اس منچ کے اراکین کاپوراپوراہاتھ تھا۔ حدتویہ تھی کہ اس جلوس کی قیادت اس علاقے کاایم ایل اے کررہاتھا۔ یہ جلوس کیس کومذہبی رنگ دے کرسی بی آئی کوحوالہ کرنے کی مانگ کررہاتھا۔یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ جب ملزم نے ریاستی کرائم برانچ کے سامنے اپنے جرم کا صاف لفظوں میں اقرار کرلیاتھا توجلوس کس بات کا۔ہونا تویہ چاہئے تھاکہ تحقیقات کوآگے بڑھنے دیاجاتا تاکہ ملزم کوجلد کیفرکردارتک پہنچایاجاتالیکن ہوااس کے برعکس۔ جلوس نکال کران انتہاپسندوں نے ہندومسلم بھائی چارے کوزک پہنچانے کی کوشش بھی کی۔معاملہ کی نزاکت کودیکھ کرریاستی پولیس کے سربراہ نے پوری ہیرانگرتحصیل میں دفعہ ۴۴۱کانفاذعمل میں لایا۔ کرائم برانچ اپنی جانچ میں آگے بڑھ رہی تھی۔وہ علاقے کے مختلف لوگوں سے تفتیش کاکام آگے بڑھارہی تھی کہ ادھرجموں کے ایک نامور اخبار نے بغیرکسی تفتیش کے یہ خبرشائع کردی کہ ریاستی کرائم برانچ ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے بعض افرادکوتنگ کررہی ہے جس کی وجہ سے ا±س گاوں کے لوگوں نے دوسرے گاوں میں ہجرت کرنی شروع کردی ہے۔ خبرکے شائع ہونے کے بعدپورے جموں میں ایک تناﺅکی سی صورت حال پیداہوگئی۔ یہاں ریاستی پولیس کے سربراہ جناب شیش پال وید مبارک بادکے مستحق ہیں جنھوں نے اس خبرکی کڑے الفاظ میں مذمت کرکے حالات کومزیدخراب ہونے سے بچایا۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ملزم نے آصفہ کی نہ صرف عصمت دری کی بلکہ اسے قتل کرکے پوری انسانیت کوشرمسار بھی کیا جس کی مذمت ہرفرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کوکرنی چاہیے۔تما م سیاسی جماعتوں کابھی فرض تھاکہ وہ اس درندے کے کالے کرتوت پرلعنت ملامت کرتیں لیکن اس کے برعکس ایک انتہاپسند جماعت سے وابستہ ایم ایل اے نے جھنڈے کی آڑمیں بیہودہ سیاست کرنی شروع کی اورپوری ریاست میں فرقہ وارانہ اتحاد میں دراڑڈالنے کی کوشش بھی کی۔ ریاستی حکومت کوچاہئے کہ ایسے وطن دشمن عناصرکے خلاف کڑی سے کڑی کارروائی کرے اورآصفہ کے قاتل کوپھانسی کے پھندے پرلٹکایاجائے۔اس طرح کی عبرت ناک سزامستقبل میں ایسی دوسری آصفہ کی عصمت کوتارتارہونے سے بچابھی سکتی ہے۔ایساکرنے سے شایدآصفہ کی روح کوبھی تسکین ملے۔
پروفیسرشہاب عنایت ملک
94191 81351

اولاد ایک نعمت خداوندی 

اولاد اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے ۔اولاد کا وقت پیدائش (لڑکا یا لڑکی )دونوں صورتوں میں باعث فرحت ہوتا ہے۔ظہور اسلام سے قبل لڑکے کی ولادت پر اس کے اعزاءو اقرباءحد سے زیادہ خوشیاں مناتے ، جشن کا سماں باندھتے تھے ۔اوراس کے برعکس لڑکی کی پیدائش پر منہ بسورتے ۔خون کا گھونٹ پیتے ۔اظہار نفرت کرتے ۔نوبت یہاں تک پہنچ جاتی کہ انہیں زندہ در گور کر دیتے۔مذہب اسلام نے مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں حقوق عطاکئے ہیں ۔لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی جینے کا حق دیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ دونو ں کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ٹھہرا دیا۔آج کے دور میں مرد کا تصور عورت کے بغیر ادھورا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آدم ؑکے بعد اماں حواؑکی بھی تخلیق فرمائی۔زندگی کے ہر موڑ پر مرد کو عورت کی ضرورت ہے۔اس لئے لڑکی کو باعث ننگ و عار سمجھناعقل و نقل کے خلاف ہے۔ہمارا مطمع نظر والدین کی ذمہ داری اور اولاد کی تربیت ہے۔اس سلسلے میں سب پہلا اور اہم مرحلہ بچوں کے نام رکھنے کا ہے۔نام سے مراد وہ لفظ ہے جس کے ذریعے کسی کو پکارا اور پہچانا جاتا ہے۔اس لئے نام عقلاً بھی اچھا اور بہتر ہونا چاہیے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا۔کہ اللہ کی نظر میں سب سے بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔اس طرح وہ نام جن کے آخر میں کوئی صفت ہو ۔ابتدائے اسلام میں جب کوئی اسلام لاتا تو اللہ کے رسول اس کا نام دریافت کرتے۔اگر اس میں غیر اسلامی تصور کا کوئی شائبہ ہوتا تو آپ اس نام کو تبدیل فرما دیتے۔اور کوئی نیا نام رکھ دیتے۔اللہ کے رسول نے خاص طور پر چار نام رکھنے سے منع فرمایاہے (افلع،رباح،منافع،اور بسار)نیز حضرت عمر کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھااس کا مطلب نافرمان ہوتا ہے۔تو آپ نے اسے بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔دور حاضر میں مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کے زیر اثر اپنے بچوں کے ایسے ایسے نام رکھ رہے ہیںجن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیںہے۔مثلاً سویٹی ،بیلو،راجو،مناوغیرہ۔حدیث ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی اولاد کے تئیں تین ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھائے ۔تو میں اس شخص کے لئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔نمبر ایک پیدائش پر اچھا نام رکھے۔نمبر دو اچھی تعلیم و تربیت دے۔ نمبر تین جوان ہونے پر اس کا نکاح کر دے۔اسلامی طریقے کے مطابق پیدائش کے بعد بچے کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا دیے جائیں۔پھر اسے خاندان کے بزرگ یا کسی نیک شخص کے پاس لے جایا جائے۔جو بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے۔اس کے بعد خرما(خشک کھجور)چبا کر بچے کے منہ میں رکھ دی جائے۔پیدائش کے ساتویں دن بچے کا سر منڈھوایا جائے۔اور اس پر تھوڑا زعفران مل دیا جائے۔بالوں کے وزن کے مطابق چاندی یا نقدی غریبوں میں بانٹ دیا جائے۔اور بچے کا اچھا سا نام رکھ دیا جائے۔ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے۔لڑکے کی طرف سے دو بھیڑ یا بکری اور لڑکی کی طرف سے ایک بھیڑ اور بکری بطورعقیقہ دیا جاتا ہے۔یہ عقیقہ اسی شخص پر مستحب ہے جو اس کا خرچہ برداشت کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔کچھ لوگ اس ولادت کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ اسے ایک بڑا جشن سمجھ کر دھوم دھام سے مناتے ہیں۔اور بے دریغ بے حساب دولت اس کی سالگرہ پر بہاتے ہیں۔مزید برآن اس تقریب میں شریک ہونے والے ہر شخص کو تحفہ کی امید ہوتی ہے۔حسب توقع تحائف نہ ملنے پر جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اور آپسی تعلقات ختم ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔اس لئے ایسے فضول رسم و رواج سے اجتناب کرنا چاہیے۔
 
 
نیاز احمد ضیائی اڑائیوی
 حال جموں

   ! جیب کترے کا خط جیب کترے کے نام 

از راجوری
بمنیش بھائی! نمستے
  عرصہ بعد آپ کو خط لکھ رہا ہوں‘میں نے کئی بار کوشش کی تھی کہ آپ سے ٹےلیفون پر رابط کرلوں مگر یہاں کا ما حول ابھی میرے لےے بہت پُر خطر ہے۔ہر آدمی پہ دوسرے آدمی کی نظر ہے۔مےرے دونوں ساتھی رندیپ اور مشتاق کسی کی جیب کاٹتے ہوے آتے ہی پکڑ لئے گئے تھے اور دونوں جیل میں ہیں۔ پولیس مےری تلاش میں بھی ہے مگر میں بھیس بدل کر یہاں مزدوری کر رہا ہوں‘ پچھلے ان چار مہینوںمیں ےہاں کے ماحول عام طور طریقے اور طرز زندگی سے واقف ہو گیا ہوں۔ میں ےہ خط اسلئے بھی لکھ رہا ہوں کہ آپ ےہاں کے جغرافیہ ’‘ ماحول ’عام سماجی زندگی اور روایات سے واقف ہو جائیں ۔ چونکہ یہاں ریا ست کے باہر سے آے ہوے مزدوروں پر کوئی کسی طرح کا شک نہیں کرتا۔اسلئے وہ جوں توں کرکے اچھی کمائی کرلےتے ہیں۔ اگرحالات مناسب رہے توواپس آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔آپ میرے بوڑھے والدین اور بچوں کا خیا ل رکھیں ‘ میں نے تہےہ کر رکھا ہے کہ دونوں ساتھیوں کو رہا کروا کر ہی واپس آوں گا‘ ےہاں جیب کتروں کی کچھ نہیں چلتی معمولی دو چار سو روپے کے لےے ہم نے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہاتھ ڈال کر بہت بڑا خطرہ مول لے لیا ۔ہم جس شہر میں ہیں اس کا نام راجوری ہے۔ دور برفیلے ‘ پہاڑوں اور لہلہاتی متوازی وادیوں کے اس شہر میں پانچ دریا یکے بعد دیگرے آکر بغلگیر ہوتے ہیں۔پانچ دریاوں کے اس شہر کا قدیم نام پہنچل دیش رہا ہے ۔یوں لگتا ہے نیا شہر ہنگامی حالات میں بس گیا ہے جس کی ہر تعمیر بے ترتیب ہے۔ ےہ پاکستان بارڈر کے بہت قریب اور جموں ریلوے سٹیشن سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ ہے۔ شہر بالکل چو راہے پر ہے ۔ مغل شاہراہ نام کا ایک راستہ یہاں سے کشمیر وادی کی طرف نکلتا ہے ۔ علاقہ پہاڑی مگر بہت خوبصورت ہے۔ تھوڑی سی ادلا بدلی سے سارا سال موسم ایک جیسا رہتا ہے۔ چاندنی راتوں میںجنگلی انار اور پھلواڑی کے رتے’ چٹے پھولوں کا نظارہ دیکھنے لایق ہوتا ہے۔ راستے دےہاتوں کے ہوں یا کھلی سڑک لیکن موڑ بہت ہیں۔ عام سڑکوں کی حالت یہا ںکی عوامی ذہا نت کی ترجمان ہیں۔ ہرسکڑے ہوئے گاوں کے دامن سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے اُبل رہے ہیں۔ پانی کی تاثیر اگر کشمیر جےسی ہو تی تو ےہ علاقہ دُنیا کی توجہ کا مرکز ہوتا ۔ یہاں کے لوگوںکا عجیب سا مزاج ہے۔ آثار قدیمہ میں گہندھارہ ‘ ماتھورہ اور مغلیہ فنی نمونوں کا بے بہا بکھرا ہوا ذخیرہ ہے مگر نہایت بے دردی سے حکومت اور عوام مل جُل کر استحصال کررہے ہیں ۔ نہایت ہی زر حیزآبی زمینوں پر بے تحاشہ تعمیرات اس وقت یہاں کا اہم مشغلہ ہے۔ انتظامیہ عوامی اور قومی مفادات کے حساس معا ملات میں خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ عوام کی بات چیت کے عام موضوعات مذہب اور سیاست رہتے ہیں‘ مگر دونوں محاذوں پر ےہ بہت کنفیوژ لگتے ہیں ۔ علاقائی پسماندگی ےہ کہہ رہی ہےکہ ےہاں کچھ ابن الوقت سیاستدان تب تک نظر آتے ہیں جب تک انھیںکسی سیاسی جماعت سے آکسیجن ملتی رہتی ہے۔ جو کچھ بھی وہ کہتے ہیں وہ ان کے دل دماغ اور روح کی آواز نہیں ہوتی۔ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے میں لگے رہتے ہیں۔ جنہوں نے سیاست کا حُلےہ بگاڑ کر رکھدیا ہے ۔ وہ عوام کی خواہشوںکو زبان نہیں دے سکے۔ پورے خطہ کو کوئی دور اندیش فکر ی و نظریاتی لیڈر نہیں ملا جو عوامی شعور کو بیدار رکھتا‘۔ کچھ نوجوان باصلاحت بھی ہیں مگر خود غرضی اور لالچ کے دلدل میں ان کی شخصیت ‘ سیاست ‘ قیادت ‘کردار اور اعتبار عوام میں مشکوک ہے۔ چونکہ ان میں سے اکثر اپنا گھر بار اور کارو بار راجوری سے 175کلومیٹر دور جموں شہر میں منتقل کرچکے ہیں۔ اور انتخابی حلقے صرف انکے لئے چرا گاہیں ہیں ۔جہاں کبھی کبھار ےہ عوامی خدمت گار نہیں بلکہ کسی بےرونی ملک سے سیر وتفریح پر آے ہوئے شہزادوں کی طرح عمدہ اور قیمتی گاڑیوں سے آنکھوں پہ سیاہ عینکیں چڑھائے ہوئے نمودار ہوتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی منافع بخش جگہوں پر کام کرنے والے علاقے کے سرکاری ملازموں نے بھی سب پےسہ اکٹھا کر کے جموں اور سرینگر میں مکانات بنانے اور زمینیں خریدنے کا شغل اختیار کر لیا ہے۔ اس دوڑ میں ےہ علاقہ اس وقت عدم توجہی اور لوٹ کھسوٹ کا شکار ہے۔ ےہاں کا عدم برداشت ےہ کہہ رہا ہے کہ ہر فرقے اور مذہب میں جنون کی آمیزش ہے۔ گوجراور پہاڑی یہاں کے دو طبقے ہیں جن کو الیکشن کے موسم یا اپنے مفادات کے لئے بڑی آسانی سے سیاستدان بہکا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔جس وجہ سے اب تک مقامی سیاستدانوں نے علا قائی مفاد کے بجاے نقصان زیادہ دیا ہے۔ ہمارے ہاں کی طرح سُنی وھابی بھی یہاں کے جاہل صوفیوں اورنیم خواندہ ملاو¿ں کی روزی روٹی کا کھیل تماشہ ہے۔ زیادہ تر لوگ وہم ‘تو ہمات ‘اور روایتوں کے خرافات میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ 90% عورتیں اور 73% فیصد مرد اپنا دماغ بالکل استعمال نہیں کرتے۔ فرقہ پرستی‘پیر پرستی‘قبر پرستی‘ مفاد پرستی کے علاوہ تعویز فروشی‘ جادو ‘جنتر منتر‘ اور ٹونے ٹکانے کا کاروبار وسع پےمانے پر چل رہا ہے۔جس کے عوض میں خود ساختہ پیر‘ باجی‘ سادھو‘ ± جوگی اور سنیاسی نقد و جنس میں مال بٹور کر دونوں جہاںکی کامیابی اور کامرانی کی سرٹیفکیٹ عطا کرتے رہتے ہیں۔ اس منافع بخش کارو بار میں’ بہت سے سرکاری ملازم سایڈ بزنس کے طور جُٹ گئے ہیں‘جن کے ہاں تعویزات کی بمپر سیل چل رہی ہے۔ وہمی افسروں کی وجہ سے ان کی سرکاری ڈیوٹی معاف اور ما ہانہ تنخواہ وقت پر مل جاتی ہے۔ بہت سے سرکاری ملازمت کو خیر باد کہہ کر اس کارو بار میں مگن ہیں۔یہاں ان پاکھنڈیوں کے پاس بیش بہا جا ئداد‘ اچھے مکان‘عمدہ گاڑیاں‘نوکر چاکر‘بینک بےلنس‘ عام لوگوں کا اعتماد‘عزت‘ بعض الیکشن کے موسم میں اچھی خاصی کمای کر لےتے ہیں۔ ہمارے سامری محلہ کے منجو اور کنجو بھی آجکل یہا ں آئے ہوئے ہیں ۔ دونوں سر پہ سبز رنگ کی رومال اور چادر اوڑھ کر گلے میں تقدس کی تسبیاںڈالکر اس دوڑ میںشامل ہو گئے ہیں وہم اور وسوسے پھیلا کر خوب کماتے ہیں۔ مشتاق کے چچا حکیم میاں انور صاحب کو میں ےہاں بلاتا نجانے وہ اس نقلی مار کیٹ میں چل پائیں گے یا نہیں۔ منیش جی اگر ےہ ہُنر ہاتھ آجاے تو روز‘ روز کی جیب کتری بد نا می اور مار کھانے سے بچ جاتے۔بےرونی کاریگر یا مزدور کی شکل میں یہاں بہت آسانی سے معصوم بن کر کوئی بھی منافع بخش دھندہ چلایا جا سکتا ہے کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔اپنے بےگو سراے والے مدن اور انکو بھی یہاں کام کرتے ہیں کلفی کے نام سے ریڑھی لگا رکھی ہے‘ انکا اصل دھنداب بھی وہی ہے۔شہر میں مونسپلٹی والوں سے بنا رکھی ہے،صرف پندرہ سو ما ہانہ دےنا پڑتا ہے۔ مجھے خط اشونی۔کمار مزدور کے نام سے لکھنا۔باقی آئندہ
آر۔کے اشونی کمار
معرفت منظور گلشن راجوری
9858696034