مزید خبرں

نوجوان کی نعش درخت سے لٹکی ہوئی ملی 

نیوز ڈیسک
 
راجوری //راجوری کی تحصیل کالاکوٹ کے کھدریاں علاقے میں ایک 33سالہ نوجوان کی نعش درخت سے لٹکی ہوئی ملی ۔محمد مجید ولد محمد بشیر ساکن کھدریاں کالاکوٹ کی نعش کو گائوں میں ایک درخت سے لٹکے ہوئے پایاگیا جس بارے میں مقامی لوگوںنے پولیس کو اطلاع کی جس پر کالاکوٹ سے پولیس ٹیم موقعہ پر پہنچی اور نعش کو اپنی تحویل میں لیکر تحقیقات شرو ع کردی ۔بعد ازآں پوسٹ مارٹم کرکے نعش کو آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپرد کیاگیا ۔اس سلسلے میں کیس درج کرکے پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے ۔
 
 
 

شمال مشرقی ریاستوں میں جیت پر راجوری میں بھاجپا کا جشن 

راجوری//بھارتیہ جنتاپارٹی کے راجوری کارکنان نے ممبر قانون ساز کونسل وبودھ گپتا کی قیادت میں پارٹی کی شمال مشرقی ریاستوں میں جیت پر جشن منایا ۔اس سلسلے میں راجوری قصبہ میں ایک جلوس نکالاگیا جس دوران کارکنان نے ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور پارٹی کی جیت پر نعرے لگائے ۔ اس موقعہ پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وبودھ گپتا نے کہاکہ بھاجپا نے شمال مشرقی ریاستوں میں ایک تاریخ قائم کی ہے اور پارٹی کی پے درپے جیت حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور پروگرام کا نتیجہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس جیت سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ہندوستان نریندر مودی کی قیادت میں آگے بڑھ رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ پارٹی کے صدر امیت شاہ اور دیگران نے اس جیت کو یقینی بنایا۔انہوںنے کہاکہ اس جیت سے پارٹی کو جموں وکشمیر میں بھی نیا حوصلہ ملے گا اور اس سے ریاست میں تعمیروترقی کے نئے اقدامات ہوںگے ۔گپتا نے کہاکہ پارٹی کا ہر ایک لیڈر و ورکر فخر محسوس کرتاہے ۔ انہوںنے کارکنان پر ز ور دیاکہ وہ خطہ پیر پنچال میں پارٹی کو مضبوط بنائیں ۔ساتھ ہی انہوںنے کہاکہ پارٹی کی جیت سے ان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور انہیں لوگوں کی توقعات پر پورااترناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اب وہ دن دور نہیں جب بھارت دنیا میں ایک سپرپاور کے طور پر ابھرے گا۔اس موقعہ پر راجیش گپتا ، اتم گپتا، زاہد احمد ، راجہ رتن ، امریش کمار ، نشچل روترا، بودھ راج ، جسبیر کمار، ساہل گپتا ، مکھن سنگھ ، اقبال بٹ اور راکیش رینہ بھی موجو دتھے ۔
 
 
 

مینڈھر میں پی ڈی پی کا اجلاس منعقد 

مینڈھر //پی ڈی پی لیڈر ایڈووکیٹ معروف کی زیر صدارت ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں بالاکوٹ اورمنکوٹ کے مختلف علاقوں سے کارکنان نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر لوگوںنے اپنے اپنے علاقہ کے مسائل اجاگر کئے جن کو معروف خان نے حل کرانے کا یقین دلایا ۔انہوںنے کہاکہ ریاستی حکومت لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہے اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں وہ کام انجام دیئے جارہے ہیں جو پچھلے ستر برسوں میں نہیں ہوئے ۔ان کاکہناتھاکہ ان کی طرف سے جدوجہد جاری رہے گی اور مینڈھر کے دیرینہ مسائل حل کرائے جائیںگے ۔پی ڈی پی لیڈ رنے کہاکہ عنقریب مینڈھر میں 21 سڑکوں کی تعمیر ہوگی جس سے لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ ملے گا۔انہوںنے کہاکہ وہ مینڈھر میں درپیش پانی کی قلت کے مسئلہ پر بھی حکام سے بات کرچکے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد اس سلسلے میں کوئی اقدام کیاجائے گا۔ معروف خان نے پی ڈی پی ورکروں سے اپیل کی کہ پارٹی کو مضبوط بنائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے ساتھ جوڑیں ۔اس موقعہ پرچوہدری محمد صادق، سابق زیڈ او محمد صادق، شاہنواز قریشی، خورشید احمد، معروف مغل، شوکت خان چوہدری نثار، ایڈووکیٹ اکبر خان، محمد صادق خان، افتخار خان وغیرہ بھی موجود تھے ۔
 
 

انجمن جعفریہ سانگلہ کی نئی باڈی تشکیل

بختیارحسین 
 
سرنکوٹ //سرنکوٹ کے سانگلہ علاقے کی شیعہ برادری کا ایک اجلاس زیر صدارت سید ذاکر حسین شاہ منعقد ہوا۔ اجلاس میں برادری کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا اور اس دوران انجمن جعفریہ سانگلہ کی نئی باڈی تشکیل دی گئی ۔ تمام لوگوںنے با اتفاق رائے سید مشتاق حسین شاہ کو صدر، سید مطلوب حسین شاہ اور سید کرار حسین شاہ کو نائب صدوربنایاجبکہ ماسٹر سید مقصود حسین شاہ کو جنرل سکریٹری اور انجینئر سید اعجاز علی جعفری کو جوائنٹ سکریٹری نامزد کیاگیا۔اس کے علاوہ سیدعاشق حسین شاہ چیف آرگنائزر، سید مختار حسین شاہ،سید مبارک علی شاہ، سید ممتاز حسین شاہ اور سید مظہر علی شاہ آرگنائزر نامزد ہوئے جبکہ سید تنویر حسین اور سید خادم حسین شاہ کو خزانچی اور سید سفیر حسین شاہ، سید نذیر حسین شاہ اور ماسٹر سید شوکت حسین شاہ کو صلاحکار بنایا گیا۔
 
 
 
 

کانگریس لیڈر کو فرضی بل نکالنے کا اندیشہ 

حسین محتشم 
 
پونچھ//رواں مالی سال کے آخر میں فرضی بل نکالنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر و سابق رکن پارلیمان میر پونچھی کے صاحب زادے نعیم میر پونچھی نے کہا کہ 31 مارچ کے دوران ٹھیکیداروں کی طرف سے تعمیراتی محکمہ جات کے افسران و ملازمین کے ساتھ تال میل بناکر فراڈ بل بناکر پیسے ہضم کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا جاتا ہے اوراس پر لوگوں کی آواز کے باوجود کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ۔انہوںنے کہاکہ جو پیسے عوامی فلاح و بہبود کے نام پر آتے ہیں ، انہیں فرضی بلوں کے ذریعہ ہضم کردیاجاتاہے ۔ نعیم میر نے اپیل کی کہ اس بار ویجی لینس آرگنائزیشن کے تحت نگرانی کروائی جائے اور آڈٹ کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ رشوت خوری پر قابوپایاجاسکے ۔
 
 
 

’قاتلوں کی حمایت افسوسناک ‘

بھاجپا کو کرائم برانچ تحقیقات پر اعتراض کیوں 

جاوید اقبال 
 
مینڈھر//کانگریس کی ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے کٹھوعہ سانحہ کی متاثرہ آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اک طرف پوری قوم ایک معصوم کو انصاف دلانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے اوردوسری طرف کچھ لوگ قاتلوں کی حمایت میں جلوس نکال رہے ہیں اور ہڑتالیں کی جارہی ہیں جو افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کی حمایت ایک جمہوری ملک کے لئے سم قاتل ثابت ہوسکتی ہے ۔مینڈھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروین سرور خان نے کہا کہ ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کی واردات پیش آتی ہے جس کے قاتلوں کو سزائے موت دے کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے تاہم اس کے برعکس ہورہاہے اورقاتل کی حمایت میں ریلی نکال کر کچھ عناصر نے انسانیت کو شرمسار کیا ہے۔انہوں نے ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریلی میں بی جے پی سے وابستہ دو سینئر وزرا کی شمولیت نے مجرمانہ فعال کو مذہبی رنگت دینے کی کوشش کی جوافسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار کے نمائندے ایک مجرم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں تو عام لوگوں کا کیا ہو گا۔ان کاکہناتھاکہ اگر یہ جنگل راج ہے تو یہ دو وزرا کس حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیںاور نہ جانے بھاجپا کو کرائم برانچ کی تحقیقات پر کیوں اعتبار نہیں جو وہ سی بی آئی سے تحقیقات کرواناچاہتی ہے ۔پروین سرور خان نے کہاکہ قاتلوں کے حق میں ہندو ایکتا منچ کی ریلی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لئے خطرات کا عندیہ بھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ قاتل کاتعلق چاہے کسی بھی فرقہ سے ہو ،وہ ایک مجرم ہے اور اس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ ریاستی سرکار کے وزراء خود حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اورایسا ہوا تو ذمہ دار سرکار پر عائد ہوگی ۔
 
 
 
 
 
 

سنئی گائوں کے عوامی مسائل 

ممکنہ حل کیلئے وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل 

بختیار حسین 
 
سرنکوٹ //سرنکوٹ کے سنئی گائوں کے لوگوںنے سڑک ، بجلی وپانی جیسے مسائل حل کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سنئی گائوں پسماندگی کی ایک واضح مثال ہے جہاں کے لوگوں کو نہ ہی سڑک روابط مل پائے اور نہ ہی پانی و بجلی کی سپلائی میں بہتری ہوئی ۔ ان کاکہناہے کہ پسماندگی کو دیکھتے ہوئے اس گائوں کو آر بی اے کادرجہ ملناچاہئے تھاتاہم نہ جانے اس کیلئے حکومت نے کونسا پیمانہ مقرر کررکھاہے جو سنئی آج تک ہر سطح پر نظرانداز ہے ۔ پنچایت اپر سنئی کے محمد ریاض و ذاکر حسین کاکہناہے کہ ’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ‘کے مصداق 20 سال بعد سنئی سے محلہ دھندلی والا تک سڑک کاکام مکمل ہوگیا لیکن محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے اس سے آگے اس کی توسیع کی خاطر کوئی اقدام نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ہنوز بہت بڑی آبادی کو پیدل سفر کرناپڑتاہے ۔ ان کاکہناہے کہ یہ سڑک سیاحتی مقام شاہستار شریف تک تعمیر ہونی چاہئے لیکن نہ جانے اس عمل میں کیوں کر تاخیر کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ سڑک ان کیلئے ایک سہانہ خواب بن کر رہ گئی ہے اور وارڈ نمبر ایک ، دو اور دیگر کئی علاقوں کے لوگ آج بھی پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ پہلے بھی یہ سڑک محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے اہلکاروں کی طرف سے غلط بل بنائے جانے کی وجہ سے التواکاشکار بنی اور اب بھی محکمہ لاپرواہی برت رہاہے ۔ ان کاکہناہے کہ حکومت یہ تومانتی ہے کہ سڑک ترقی کیلئے شہ رگ ہے مگر ان کے گائوں کو نظرانداز کیاجارہاہے اور سڑک کی تعمیر طوالت کاشکار ہے جبکہ دیگر مسائل بھی جوں کے توں پڑے ہیں ۔ وارڈ نمبر 2 کے مشتاق حسین کاکہناہے کہ سڑک کے بعد ان کیلئے پانی کی قلت کا مسئلہ پریشانی کا باعث بناہواہے ۔ انہوںنے بتایاکہ زیادہ تر گھروں میں پانی کی سپلائی تبھی ہوتی ہے جب برسات کا موسم ہو اور بقیہ سال ایک ایک اور دو دو کلو میٹر دوری سے پانی لاناپڑتاہے ۔ انہوںنے بتایاکہ اس حوالے سے متعدد مرتبہ حکام سے اپیل کی گئی مگر ان کے کانوں جوں تک نہیں رینگی اور پانی کی قلت کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ پانی کے قدرتی چشمے سوکھ گئے ہیں اور سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ گائوںکو لفٹ سکیم کے ذریعہ پانی فراہم کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ آج جگہ جگہ لفٹ سکیمیں لگائی گئی ہیں لیکن سنئی کے معاملے میں کوئی سنجیدہ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ان کے سامنے سے دریا ئے سرن بہتاہے اور وہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔اسی طرح سے کچھ لوگوںنے بجلی کی ناقص سپلائی کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں رسیونگ اسٹیشن لسانہ سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور ذرا سی خرابی ہونے پر کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پہلے انہیں پوٹھہ سے بجلی سپلائی ہوتی تھی اور ایسی مشکلات پیش نہیں آتی تھیں جو آج درپیش ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ انہیں پوٹھہ سے بجلی سپلائی کی جائے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ پنچایت اپر سنئی میں کوئی ہائی سکول نہیں اور طلباء کوآٹھویں کلاس کے بعد یاتو ہائراسکینڈری سکول موہری گورسائی یاپھر ہائی سکول سنئی جاناپڑتاہے ،ہائراسکینڈری سکول موہری گورسائی دوسرے گائوں میں واقع ہے جبکہ ہائی سکول سنئی جموں پونچھ سڑک پر واقع ہے ۔مقامی لوگوںنے طبی و دیگر سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ۔ گائوں کے لوگوںنے کہاکہ وہ وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرکے ان کے مسائل حل کرائیں اور گائوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے آر بی اے کادرجہ دیاجائے۔