مزید خبرں

مسلمانوں کوتعلیم کی طرف راغب ہونے کی ضرورت:مسلم اسکالرس

کشمیر//ادارہ مطبوعات طلبہ نے اسلامی جمیعت الطبہ کے اشتراک سے ایک تقریب کااہتمام کیاجس میں کتابوں کی اشاعت کے کام کاج پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ اس دوران مسلم اسکالروں نے کہاکہ دورحاضرمیں مسلمانوں کوتعلیم کی طرف راغب ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ایساتب ہی ممکن ہوسکتاہے جب مسلمان اپنی اصلاح کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کواپنامحاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس دوران امیرجماعت اسلامی جموں کشمیرخواجہ غلام محمدبٹ کی کتاب مسلم انٹلیکچول ،ڈیفیسٹ۔ریزن اینڈریمیڈیز جسے ڈاکٹرتوصیف احمدپرے ، اسکالراوراسسٹنٹ پروفیسراسلاک سٹڈیزہائرایجوکیشن نے لکھاہے کے علاوہ اقامت دین پر اعتراضات اوران کے جوابات ،مریم جمیلہ کااجراء بھی کیاگیا۔اس دوران پروگرام کے مقررین میں ڈاکٹرالطاف حسین یتو، ڈاکٹرتوصیف احمدپرے، مجبتیٰ فاروق، فیصل اقبال ودیگران شامل ہیں۔
 
 
 

پروفیسرشہاب ملک ممبئی یونیورسٹی میں توسیعی لیکچرکیلئے مدعو

جموں//ممبئی یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسرشہاب عنایت ملک کودواہم موضوعات پر توسیعی لیکچردینے کیلئے مدعوکیاہے۔ پروفیسرشہاب عنایت ملک  21اور22 مارچ 2018کو’’اصول تحقیق اورسرسیدتحریک‘‘کے موضوع پرشعبہ اُردوممبئی یونیورسٹی کے طلباء واسکالرزکوپرمغزلیکچردیں گے جبکہ 27 اور 28مارچ کوبنارس ہندویونیورسٹی میں دوروزہ انٹرنیشنل سیمینارمیں شرکت کریں اور’’جموں وکشمیرکی خواتین شاعرات کی شاعری میں احتجاج‘‘کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کریں گے۔20 کتب کے مصنف پروفیسرشہاب عنایت ملک جموں وکشمیرمیں تخلیق ہونے والے ادب پردسترس رکھتے ہیں ۔موصوف کے 200سے زائد تحقیقی مقالات ملک وریاست کے تحقیقی مجلوں میں شائع ہوچکے ہیں ۔اس کے علاوہ 10 بین الاقوامی اور 100کے قریب قومی سیمیناروں میں حصہ لے چکے ہیں۔پروفیسرشہاب عنایت ملک اُردوکے موقراخبارات میں متفرق موضوعات پر مضامین لکھنے کیلئے معروف کالم نویس کے طورپربھی جانے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ پروفیسرشہاب عنایت ملک یونیورسٹیوں کے اُردواساتذہ کی ملکی سطح کی سب سے بڑی تنظیم ’’آل انڈیایونیورسٹی اُردوٹیچرس آرگنائزیشن‘‘ کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔اس کے علاوہ ملکی سطح پراُردوزبان وادب کی ترقی کے لیے سرگرمیوں کے انعقادکیلئے شہرت رکھتے ہیں۔پروفیسرشہاب عنایت ملک فی الوقت ممبرقومی کونسل برائے فروغ اُردونئی دہلی،ممبر جنرل کونسل برائے اُردوزبان حکومت جموں وکشمیر ،ممبر جنرل کونسل سٹیٹ اکیڈمی آف آرٹ کلچراینڈلنگویجز ، مختلف یونیورسٹیوں بشمول جموں یونیورسٹی ، کشمیریونیورسٹی،پنجاب یونیورسٹی ، پٹیالہ،پنجاب یونیورسٹی،چندی گڑی اوریونیورسٹی آف فیصل آبادپاکستان کے بورڈ آف سٹڈیز اِن اُردوکے رُکن بھی ہیں۔ علاوہ ازیں پروفیسرموصوف اُردوزبان وادب کی ترویج کیلئے قائم مختلف تنظیموں کے بھی فعال رکن ہیں۔
 
 
 

آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگیں پوری کی جائیں:نیشنل کانفرنس وومن ونگ

جموں//نیشنل کانفرنس خواتین ونگ نے حکومت سے آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی واجب الادامشاہروں کی ادائیگی کامطالبہ کیاہے۔گذشتہ کئی دنوں سے کام چھوڑہڑتال اوراحتجاجی دھرنے پربیٹھی آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں سے خطاب کرتے ہوئے این سی وومن ونگ کی صوبائی صدرستونت کورڈوگرہ نے ان کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت نے آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگوں کی طرف نہ توکوئی توجہ دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کوبلاتاخیرآنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگیں پوری کی جانی چاہیئں۔۔ ستونت ڈوگرہ نے کہاکہ 1975سے آئی سی ڈی ایس سکیم کے تحت  آنگن واڑی ورکرس اورہیلپرس قلیل مشاہرے بالترتیب 3600روپے اور1800روپے ماہانہ پرکام کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اتناہی نہیں ان ورکروں کو نہ توپنشن کے فوائددیئے جارہے ہیں اورنہ ہی انہیں دیگرسہولیات مہیاکرائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ احتجاجی دھرنے پربیٹھی آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کامطالبہ ہے کہ ان کے مشاہرے دہلی ودیگرپڑوسی ریاستوں میں آئی سی ڈی ایس ورکروں کودیئے جانے والے مشاہرے بالترتیب 10ہزاراور5ہزارروپے کے برابرکی جائیں۔ستونت ڈوگرہ نے کہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی مانگ جائزہے اس لیے ریاستی حکومت کوچاہیئے کہ وہ بلاتاخیران کی مانگوں کوپوراکرے۔گذشتہ سال حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیاتھاکہ ان ورکروں کے ماہانہ مشاہرے میں 500روپے کااضافہ کیاجائے گالیکن بدقسمتی سے اس اعلان کوعملی جامہ نہیں پہنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ حکومت خواتین کی بہبودکے بلندبانگ دعوے کرتی ہے لیکن حقیقت میں ان کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔آنگن واڑی اورہیلپروں نے بچوں کی مربوط اسکیموں کی عمل آوری میں مثالی رول نبھایاہے لیکن ریاستی حکومت نے ان کے تئیں بے حسی کاہی مظاہرہ کیاہے۔
 

وومن کارپوریشن کے زیراہتمام پلاسی بسوہلی میں بیداری کیمپ 

جموں//جموں کشمیرسٹیٹ وومن کارپوریشن نے تحصیل بسوہلی کے پریتاپلاسی گائوں میں بیداری کیمپ کاانعقاد کیاجس میں کثیرتعدادمیں خواتین اورمعززشہریوں نے شرکت کی۔اس دوران خواتین کارپوریشن کی ضلع منیجر نے خواتین سے ان کی بہبودکیلئے شروع کی گئی سرکاری سکیموں سے فائدہ اُٹھانے کیلئے آگے آنے پرزوردیا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کوبااختیاربنانے کیلئے حکومت نے مختلف سکیمیں شروع کی ہیں ۔اس موقعہ پر امریش شرمانے ’بیٹی بچائو۔بیٹی پڑھائو‘ کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت خواتین کی بہبودکیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے سوچھ بھارت ابھیان سکیم کے بارے میں کہاکہ ہم سب کواپنے اردگردکے ماحول کوصاف ستھرارکھناچاہیئے۔
 
 
 
 
 

آپسی بھائی چارے اورامن برقراررکھنے کی اپیل

جموں/جموں مسلم فرنٹ نے جموں خطہ کے تمام لوگوں سے آپسی بھائی چارے اورامن کی روایات کوبرقراررکھنے کی اپیل کی ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں جموں مسلم فرنٹ کے چیئرمین شجاع ظفر نے کہاکہ آصفہ قتل معاملے کے بعدفرقہ ورانہ ہم آہنگی کوخطرہ لاحق ہوگیاہے۔انہوں نے ہندوایکتامنچ اورگوجرطبقہ کے لیڈران سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ پراعتبارکریں ۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات کوحکومت پرچھوڑدیناچاہیئے ۔فرنٹ کے صدرقاضی عمران نے جموں کے لوگوں سے کہاکہ وہ امن اوربھائی چارے کی فضابحال رکھنے کیلئے آگے آئیں تاکہ ریاست تعمیروترقی کی راہ پرگامزن ہوسکے۔ 
 
 
 

ادہم پورمیں آنگن واڑی وآشاورکروں کیلئے تربیتی پروگرام 

ماحولیات کوصاف ستھرابنائے رکھنے کیلئے مشترکہ کاوشوں پرزور

اودھم پور//سوچھ بھارت مشن کے تحت آشااورآنگن واڑی ورکروں کیلئے ادہم پورمیں یک روزہ تربیتی پروگرام کاانعقاد کیاگیاجس میں ورکروں کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔ اس دوران مقررین نے ماحول کوآلودگی سے پاک بنانے کیلئے صفائی ستھرائی کی اہمیت کواُجاگرکیا۔اس موقعہ پر ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر ادہم پور اروند شرما،سی ڈی پی او یش پال شرما، ڈپٹی میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ضلع ہسپتال ،چیف میڈیکل افسرڈاکٹرکے سی ڈوگرہ،بی ڈی اواورروپالی وید نے شرکاء کوزریں خیالات سے نوازا۔ ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنرنے کہاکہ ہمیں ماحولیاتی توازب بنائے رکھنے اورصحت مندزندگی کویقینی بنانے کیلئے ماحول کوصاف ستھرارکھناچاہیئے۔ انہوں نے ورکروں سے ماحولیات کوصاف ستھرارکھنے میں تعاون کی اپیل ۔
 
 
 

کشمیری مائیگرنٹوں کاوفداے ڈی ڈی سی آدھارافیئرس سے ملاقی

جموں//کشمیری کھتری ہندومہاسبھاکے بینرتلے کشمیری مائیگرنٹوں کاایک وفدانجینئررمیش چندرمہاجن کی صدارت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر (ڈیپارٹمنٹ آف آدھارافیئرس ) ،ڈی سی دفتر جموں سے ملاقی ہوا۔اس دوران کشمیری مائیگرنٹوں سے متعلق مسائل کواُجاگرکیا۔ اس موقعہ پرمانگ کی گئی کہ تمام جے کے بنکوں کومائیگرنٹ کیمپوں کے نزدیک اندراج مہم منعقدکرنے پرزوردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بیشترکشمیری پنڈت مائیگرنٹوں کے آدھارکارڈنہیں بنے جس کی وجہ سے وہ سکیموں کے فوائدحاصل کرنے سے بھی مجبورہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ،آدھارافیئرس نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائیں گے۔ اس دوران وفدمیں انجینئررمیش چندرمہاجن، سوشیل چوپڑہ، سنجے کھوہلی،ایس کے چوپڑہ ، ستیش ،راج کمارکول، سنجے پنڈتا، سنی سنگھ، بی ایس بمیال، سنیل کھتری،آرکے کپور ،اجے نجوان ،ایس جگمیت سنگھ،آرکے سوری، چرن سنگھ ، ونودکھیرا،شمی ودیگران شامل تھے۔
 
 

 مہاراجہ ہری سنگھ پارک کا افتتاح

محبوبہ مفتی نے مجسمے کی بھی نقاب کشائی کی

جموں/ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموںمیں دریائے توی کے کنارے پر حال ہی میں قائم کی گئی مہاراجہ ہری سنگھ پارک کو عوام کے لئے کھول دیا۔نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔43کنال اراضی محیط اس پارک کو 4.72کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور اس میں جاذبیت کے تمام پہلوئوں کے ساتھ ساتھ سیر و تفریح کی ہر طرح کی سہولیات موجود ہیںجن میں اوپن ائیر جِم اور رنگ برنگی پھولوں پر مشتمل باغات بھی شامل ہیں۔محبوبہ مفتی نے پارک کا دورہ کر کے اس پارک کے رکھ رکھائو میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دریا کی طرف سے شجرکاری مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ علاقے میں سبزے کو بڑھاوا دیا جاسکے ۔وزیر اعلیٰ نے نائب وزیر اعلیٰ جن کے پاس مکانات و شہری ترقی کا قلمدان بھی ہیں سے کہا کہ وہ شہر میں مزید مقامات کی نشاندہی کریں جہاں عوام کی سہولیت کے لئے پارکیں اور سبزہ زار قائم کئے جاسکیں۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے پارک میں موجود مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی ۔انہوں نے پارک احاطے میں کافی ہاوس اور جدید طرز کی لائبریری کا بھی افتتاح کیا۔اس سے قبل وہاں پہنچنے پر نائب وزیراعلیٰ نے وزیر اعلیٰ کا والہانہ اور گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیااور انہیں اس پروجیکٹ کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں جانکاری دی گئی۔مکانات و شہری ترقی کی وزیر مملکت آسیہ نقاش ، رکن اسمبلی راجیش گپتا اور چرنجیت سنگھ خالصا، فائنانشل کمشنر مکانات و شہر ی ترقی کے بی اگروال ، ڈویژنل کمشنر جموں ہمنت شرما ، آئی جی پی جموں زون ایس ڈی ایس جموال کئی دیگر اعلیٰ افسران اور کافی تعداد میں لوگ اس موقعہ پر موجود تھے۔
 
 

 راجپوت سبھا کے کارکنوں کا احتجاج

مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پرتعطیل کامطالبہ

یواین آئی
جموں // جموں وکشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں دریائے توی کے کنارے ریاست کے آخری مہاراجہ ، مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے منسوب پبلک پارک کی افتتاحی تقریب اور پارک کے اندر نصب کئے گئے مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے کی نقاب کشائی تقریب کے موقع پر جمعہ کے روز جموں وکشمیر راجپوت سبھا نامی تنظیم کے کارکنوں نے ایک احتجاجی دھرنا دیا۔ وہ ریاستی حکومت کی طرف سے مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان نہ کئے جانے کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ جس وقت راجپوت سبھا کے کارکنوں نے پارک کے اندر احتجاجی دھرنا دیا، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پارک کا افتتاح ، مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے کی نقاب کشائی اور پارک کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد وہاں سے چلی جاچکی تھیں۔ تاہم پارک کے اندر موجود ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کو احتجاجی راجپوت سبھا کارکنوں کی نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجی کارکن ’چھٹی دو چھٹی دو مہاراجہ صاحب کی چھٹی دو، ہمیں کیا چاہیے چھٹی چاہیے۔ مہاراجہ صاحب کو انصاف دو انصاف دو‘ جیسے نعرے لگارہے تھے۔ احتجاجیوں کی قیادت کرنے والے پون سنگھ جنہوں نے اپنے آپ کی شناخت راجپوت سبھا یوتھ ونگ کے صدر کے بطور کی، نے نامہ نگاروں کو بتایا ’گذشتہ برس مہاراجہ جی کے جنم دن پر چھٹی کا اعلان کرنے کے مطالبے کو لیکر پورا جموں ایک ہوگیا تھا۔ لیکن ہماری وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے صاف صاف نا کہہ دیا۔ جس وزیر اعلیٰ نے مہاراجہ جی کے جنم دن پر چھٹی کا اعلان کرنے سے انکار کیا، انہی کے ہاتھوں مہاراجہ جی سے منسوب پارک کا افتتاح کرانا شرم کی بات ہے‘۔ انہوں نے کہا ’بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کے سامنے سرینڈر کردیا ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ این سی اور پی ڈی پی جموں کے بارے میں نہیں سوچتی ہیں۔ ہمارے لوگ جو ان کا سپورٹ کررہے ہیں، وہ گنہگار ہیں‘۔ 
 
 
 
 
 
Photo 7
———————————————–
ملازمین کے وفد کی وزیرا علیٰ کے ساتھ ملاقات 
کاڈر ریوو کی عمل آوری ، ملازمین کیلئے اقامتی سہولیات تعمیر کرنے کیلئے 
مزید رقومات اورتنخواہوں کی تفاوت کو دور کرنے کا مطالبہ کیا
جموں/ سول سیکرٹریٹ نان گزیٹیڈ ایمپلائز یونین نے آج یہاں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی۔وفد نے حکومت کی طرف سے کئی ملازمین دوست اقدامات اُٹھانے کے لئے وزیرا علیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت ملازمین مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ کام کر نے کے لئے مائل ہوئے ہیں ۔وفد جس کی سربراہی صدر غلام رسول میر کر رہے تھے نے مختلف سروسز کے حوالے سے کاڈر ریوو پر آر کے گوئیل کمیٹی کی سفارشات کی عمل آوری کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف محکموں میں سیل قائم کرنے کی بھی وکالت کی تاکہ ملازمین کے مختلف معاملات پر غور کیا جاسکے ۔وفد نے جو دیگر مطالبات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھیں ان میں ملازمین کے لئے مزید اقامتی سہولیات کھڑا کرنے کے لئے مناسب رقومات کی واگزاری اور سروال ، پانپور ، پنجترتھی اور احاطہ امر سنگھ میں جاری تعمیراتی کاموں میں تیزی لانا بھی شامل تھا۔ انہوں نے جسمانی طور ناخیز ملازمین ، خواتین اور بیمار ملازمین کو قوانین میں نرمی کرتے ہوئے رہائش الاٹ کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ وفد نے اٹیچ منٹس کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنے ، ایس آر او 202کا از سر نو جائزہ لینے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کی شفارشات کی عمل آوری کے دوران تنخواہوں کی تفاوتیں دور کرنے کے معاملات بھی اُجاگر کئے۔وزیراعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ سماج کے ہر ایک طبقے کے مطالبات پورا کرنے کی ضمن میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملازمین کی طرف سے اُجاگر کئے گئے معاملات پر ترجیحی بنیادوں پر ہمدردانہ غور کرے گی۔
 
وزیراعلیٰ اورگورنر کاسیمیل کے انتقال پر اظہاررنج 
جموں/ریاستی گورنر این این ووہر ااوروزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے الگ الگ پیغامات میںجموں و کشمیر کے کاڈر کے ایک آئی پی ایس آفیسر ایس آر سیمیل کے دہانت پر گہرے دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے جو گذشتہ روز انتقال کر گئے ۔اپنے علیحدہ علیحدہ تعزیتی پیغامات میں گورنر نے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کی۔
 
 
 
 
 
جنگلات اراضی کی حد بندی کا کام کیلئے 31مئی ڈیڈلائن:لال سنگھ
جموں/ جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے جموں صوبے کے ڈویژنل فارسٹ افسروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی عملے کو متحرک کریں تا کہ جموں صوبے میں جنگلات کی خالی پڑی اراضی کی حد بندی کی جا سکے اور اسے  ناجائیز قبضے سے بچایا جا سکے ۔ وزیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار آج میراں صاحب کے سوئیل کنزرویشن ٹریننگ انسٹی چیوٹ میں پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پی سی سی جنگلات روی کیسر کے علاوہ متعلقہ محکمے کے کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔ وزیر موصوف نے سیٹلمنٹ اور حد بندی کے ایڈیشل پی سی سی کو ہدایت دی کہ وہ اس مقصد کے لئے فوری طور سے رقومات واگزار کریں تاکہ حد بندی کا کام رواں سال کے مئی مہینے تک مکمل کیا جاسکے۔لال سنگھ نے کہا کہ حکومت نے جنگلات اور جنگلی حیات کو تحفظ دینے کو ترجیحات میں شامل کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنگلات اور وائلڈ لائف کی اراضی کی حد بندی کا کام پوری ریاست میں شروع کیا ہے اور ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیر نے کہا کہ سماج کے تمام طبقوں میں اس حوالے سے بیداری پیدا کی جانی چاہئیں تاکہ جنگلات اور وائلڈ لائف کو تحفظ مل سکے۔بعد میں وزیر نے تربیت پانے والے عملے میں اسناد اور مومنٹوز تقسیم کئے ۔
 
 
زمیندار کوہلوں سے ملبہ ہٹانے کے کام
ہانجورہ نے پیش رفت کاجائزہ لیا
جموں/ زراعت کے وزیر غلام نبی لون ہانجورہ نے جموںمیں مختلف محکموں کے افسروں کے ایک جائزہ میٹنگ کے دوران زمیندار کوہلوں سے ملبہ ہٹانے اور دیگر آبپاشی اثاثے قائم کرنے کے عمل کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں چیف انجینئر آبپاشی جموں، ڈائیریکٹر کمانڈ ائیریا ڈیولپمنٹ جموں ، ڈائریکٹر ایگریکلچر جموں کے علاوہ کئی دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر جانکاری دی گئی کہ دیہی ترقیات محکمہ نے رواں مالی سال کے دوران 686.85 لاکھ روپے کی لاگت سے 710آبپاشی کام عملائے ہیں ۔ان میں سے ملبہ ہٹانے کے 191کام جموں اور سانبہ ضلعوں میں مکمل کئے گئے ہیں۔وزیر نے افسروں کو ہدایت دی کہ ہاتھ  میں لئے گئے تمام کاموں کو آبپاشی کے اگلے سیزن سے پہلے پہلے مکمل کریں ۔انہوںنے کہا کہ ان کاموں کی نشاندہی بھی کی جانی چاہیئے جنہیں کنورجنس کے تحت ترجیحی بنیادوں پر عملایا جاسکتاہے۔وزیر زراعت نے دیہی ترقیات اور آبپاشی و فلڈ کنٹرول اور محکمہ زراعت کے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کر کے اہدا ف کی حصولیابی کو یقینی بنائیں۔
 
 
 
 
 
Photo 9
 پشو پالن محکمے کے کام کاج کا جائیزہ 
رواں مالی سال کے دوران 3.53 کروڑ روپے کی سبسڈی واگذارکی گئی :کوہلی
جموں/ حکومت نے ریاست کے 562 مستحقین میں رواں مالی سال کے دوران ڈی ای ڈی ایس سکیم کے تحت 3.53 کروڑ روپے کی سبسڈی واگذار کی ہے ۔ یہ جانکاری آج پشو ، بھیڑ پالن اور ماہی پروری کے وزیر عبدالغنی کوہلی کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران دی گئی جس میں پشو پالن محکمے کے مجموعی کام کاج کا جائیزہ لیا گیا ۔ وزیر نے متعلقین کو ہدایت دی کہ وہ اگلے مالی سال کیلئے نئے پروجیکٹوں کا ایکشن پلان تیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیری پروجیکٹ کا تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ جدید اور عوام دوست ہونے چاہئیں ۔ وزیر نے ضلع راجوری میں نئے ڈیری فارم اور پولٹری یونٹ قایم کرنے کے حوالے سے سروے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ماہرین کی رائے بھی طلب کی جانی چاہئیے ۔ عبدالغنی کوہلی نے متعلقہ افسروں پر زور دیا کہ وہ مزید تندہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے رقومات کے منصفانہ تصرف کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ سکیموں کا فائدہ بنیادی سطح پر لوگوں تک پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری اور پشو پالن شعبوں میں جدیدیت لائی جانی چاہئیے تا کہ ریاست ان سیکٹروں میں خود کفیل بن سکے ۔ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری پشو پالن آر کے بھگت کے علاوہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ 
 
 
 سلیکٹ کمیٹی کے ممبران نامزد 
جموں//جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے ’’ جموں اور کشمیر شری ماتا سکرالہ دیوی جی شرائین اور شری ماتا بالا سندری شرائین ( ترمیمی) بل2018 ‘‘پر سلیکٹ کمیٹی کیلئے ممبران نامزد کئے ۔  کمیٹی کے سربراہ وزیر سیاحت تصدق حسین مفتی جبکہ ارکانِ قانون سازیہ نوانگ رگزن جورا ، دویندر سنگھ رانا ، ست پال شرما ، پون کمار گپتا ، جیون لال ، راجیو جسروٹیہ ، رویندر رینہ ، دویندر کمار منیال اس کمیٹی کے ممبران ہوں گے ۔ اس سے قبل 12 فروری کو بجٹ سیشن کے دوران ایوانِ زریں نے بل کو ہاوس سلیکٹ کمیٹی کو ریفر کیا تھا اور اس بل کو رُکنِ قانون سازیہ دویندر سنگھ رانا نے پیش کیا تھا ۔ 
 
 
 
 
 
ایتھکس کمیٹی سپیکر سے ملاقی 
متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا
جموں/ جمو ں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کی ایتھکس کمیٹی نے ایم ایل اے عبدالرحیم راتھر کی صدارت میں اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا کے ساتھ ملاقات کی اور کمیٹی کے کام کاج پر تفصیل تبادلہ خیال کیا۔ارکان قانون سازیہ سید محمد باقر رضوی ، اصغر علی کربلائی ، راجہ منظور اور نیلم کمار لنگے بھی چیئرمین کے ہمراہ ایتھکس کمیٹی کے رکن کے طور پر تھے۔ کمیٹی نے کام کاج کے حوالے سے کئی معاملات اُجاگر کئے اور کہا کہ کمیٹی کا کام کاج اثر دار بنانے کے لئے کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔سپیکر نے اس موقعہ پر کمیٹی کی رپورٹ پڑھی اور چیئرمین و ارکان کی یہ رپورٹ تیا رکرنے کے لئے ستائش کی۔کمیٹی نے بجٹ اجلاس احسن طریقے پر منعقد کرانے کے لئے سپیکر موصوف کی تعریف کی اور کہا کہ کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات اور مشاہدات کو من و عن عملانے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جانی چاہئیں۔سیکرٹری اسمبلی ایم آر سنگھ ، ڈپٹی سیکرٹری عبدالقیوم میر اور کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ 
 
 
کویندر نے ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا
جموں/ جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے جی ایم سی کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران گاندھی نگر حلقے میں ہاتھ میں لئے گئے مختلف ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔کمشنر جے ایم سی رومیش کمار اور کئی دیگر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے ۔اس موقعہ پر سپیکرکو جے ایم سی کی طرف سے عملائے جارہے کاموں کی تفاصیل دی گئیں۔سپیکرنے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام پروجیکٹوں اور کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ سکیموں کا فائدہ لوگوں تک پہنچ پائیں۔انہوںنے کہا کہ ان کاموں کو اس ماہ کی 31؍ تاریخ تک مکمل کیا جانا چاہیئے ۔انہوںنے کہا کہ نئے کاموں کا ٹینڈرنگ عمل میں تیزی سے شروع کیا جانا چاہیئے۔انہوںنے کہا کہ حکومت ریاست کے تمام علاقوں میں لوگوں کے معیار حیات میں بہتر ی لانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے۔
 
 
 
 
 
 
اکبر لون کی صدارت میں پی اے سی میٹنگ منعقد 
 محکمہ داخلہ کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا
جموں/ جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی میٹنگ یہاں ایم ایل اے محمد اکبر لون کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں محکمہ داخلہ کے کام کاج سے متعلق آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ارکان قانون سازیہ شمیمہ فردوس، رویندر رینہ ، جیون لال ، محمد یوسف بٹ ، پون کمار گپتا اور فردوس احمد ٹاک نے میٹنگ میں شرکت کی اور آڈِٹ پیرا ز کے جلد از جلد نمٹارے کے حوالے سے اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔میٹنگ کے دوران محکمہ داخلہ کے آڈِٹ پیراز کے حوالے سے ایکشن ٹیکن رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے پولیس محکمہ سے جڑے کئی امور کو بھی زیر بحث لایا ۔ پرنسپل سیکرٹری داخلہ آر کے گوئیل اور ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے کمیٹی کو محکمہ کی طرف سے سی اے جی آڈِٹ پیراز پر ہو رہی کا رروائی کے بارے میں جانکاری دی اور یقین دلایا کہ محکمہ داخلہ کے کام کاج میں مزید بہتری لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔متعلقہ حکام کی طرف سے اطمینان بخش جواب ملنے کے بعد کمیٹی نے کچھ آڈِٹ پیراز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔سپیشل  ڈی جی پی وی کے سنگھ ، اے ڈی جی پی منیر خان، آئی جی پرنسل پی ایچ کیو جے پی سنگھ ، آئی جی ہیڈ کوارٹر پی ایچ کیو آنند جین ، سپیشل سیکرٹری اسمبلی آر ایل شرما کے علاوہ متعلقہ محکموں کے کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔
 
نائب وزیراعلیٰ کی بھاجپالیڈر حملے کی مذمت
جموں/ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے سینئر بی جے پی لیڈر انور خان پر ہوئے حملے کی مذمت کی ہے ۔ان پر کل رات کھنموہ علاقے میں کچھ غیر شناخت شدہ افراد نے حملہ کیا تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے اس حملے کو اُن عناصر کی کارستانی قرار دیا جو امن میں رخنہ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کی سخت مذمت کی جانی چاہئیں۔
 
 
 
 
 
 
Photo 10
ذوالفقا رکی مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات 
گوجری کو آٹھویں دشیڈول میں شامل کرنے اورگجر ریجمنٹ کے قیام کامطالبہ کیا
نئی دلی/خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے نئی دلی میںمرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی اور جموں وکشمیر سے جڑے کئی معاملات پر ان کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران ذوالفقار علی نے سرحدں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کے مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں اور ایل او سی کے نزدیک رہائش پذیر لوگ دونوں ممالک کے درمیان تنائو سے سب سے متاثر ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بادر مائیگرنٹس کے لئے ایک مستقل بحالیاتی پالیسی ہونی چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کافی غریب اور وہ دوسرے علاقوں تک ہجرت کا خرچہ برداشت نہیںکرسکتے۔انہوں نے گوجری زبان کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے 2012ء میں مرکزی حکومت کو اس کی سفارش کی تھی ۔انہوںنے کہا کہ ریاست کی قبائلی آبادی کا ایک اچھا خاصا حصہ گوجر ی زبان بولنے والے لوگوں پر مشتمل ہے ۔انہوںنے کہاکہ گجر بکروال طبقے کے لوگ ایک اچھا خاصہ ثقافتی ورثہ ہونے کے باوجود بھی ابھی تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہے ۔ذوالفقار علی نے ایک گجر ریجمنٹ قائم کرنے کی بھی وکالت کی تاکہ قبیلے کے بے روزگار نوجوانوں کے لئے فوج میں روزگار کے وسائل پیدا کئے جاسکیں۔انہوں نے مرکزی حفاظتی دستوں میں قبائلی نوجوانوں کے لئے ایک خصوصی بھرتی مہم چلانے کی بھی صلاح دی۔انہوںنے سد بھاونہ سکیم کے تحت قبائلی علاقوں کی ترقی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے ریاست میں ایس ٹی طبقے کی بہبودی کے لئے کئی اختراعی اقدامات کئے ہیں۔انہوںنے قبائلی علاقوں میں سڑکوں کی حالت میں بہتری لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پی ایم آر پی کے تحت رقومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے وزیر کے مطالبات غور سے سنے اور یقین دلایا کہ مرکزی سرکار اس حوالے سے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
 
 
نائب وزیر اعلیٰ کا بجلی سیکٹر میں مرکزی معاونت والی سکیموں کی فوری تکمیل پر زور
جموں/نائب وزیرا علیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا ہے کہ افسروں کو چاہیئے کہ وہ مختلف مرکزی سکیموں کی تکمیل کے حوالے سے اہداف مقرر کریں تاکہ بجلی شعبے کو وسعت ملنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بلاخلل بجلی کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔نائب وزیراعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار آج ایک جائزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں بجلی شعبے کی سکیموں کی عمل آوری کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔بجلی کی وزیر مملکت آسیہ نقاش ، کمشنر سیکرٹری پی ڈی ڈی ہردیش کمار، ایم ڈی جے کے سٹیٹ ڈیولپمنٹ پاور کارپوریشن ڈاکٹر شاہ فیصل کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی اس میٹنگ میںموجود تھے۔ڈاکٹر سنگھ نے افسروں سے کہا کہ وہ مختلف سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ سکیموں کی عمل آوری کا کام مشن موڑکے تحت عملایا جانا چاہیئے تاکہ ریاست کے گھر گھر کو چوبیسویں گھنٹے بجلی فراہم ہوسکے ۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت بجلی کی ترسیل کاری میں بہتری لانے کے لئے 30پروجیکٹ ہاتھ میں لئے گئے ہیں۔میٹنگ میں سوبھاگیہ سکیم کا بھی جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ تمام مدوں کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ نے محکمہ اور متعلقہ عمل آوری ایجنسیوں کے باہمی تال میل پر بھی زور دیا تاکہ بجلی کا بہتر بنیادی ڈھانچہ وجود میں لایا جاسکے ۔اس موقعہ پر بتایاگیا کہ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی موبائیل اپلیکیشن اُجرا وستار محکمہ نے اس مقصد کے لئے وجود میں لائی ہے تاکہ لوگ بجلی کے حوالے سے اپنا استفسار پیش کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ اس اپلیکیشن کے ذریعے سے بجلی سے محروم گھروں کی نشاندہی کرنے کے لئے سروے کے عمل میں آسانی پیدا ہوگی۔
 
 
اشتہارات کی بلیں فوری طور ادائیگی کیلئے پیش کی جائیں 
محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کی اخبارات کو ہدایت 
جموں//محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ نے تمام منظور شدہ اخبارات و دیگر جرائد سے کہا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال کی اشتہاری بلیں فوری طور ادائیگی کیلئے پیش کریں ۔ ناظمِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ منیر الاسلام کے مطابق’’ جن اخبارات اور جرائد نے ابھی تک موجودہ سال کی اشتہاری بلیں محکمہ میں پیش نہیں کی ہیں انہیں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام سے پہلے وہ اپنی بلیں ادائیگی کیلئے محکمہ کو پیش کریں ‘‘۔ سرکیولر میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی اخبار کی اشتہاری بل صحیح وقت پر پیش نہ کی گئی تو یہ ذمہ داری اُس اخبار کی انتظامیہ کی ہو گی ۔ سرکیولر میں مزید بتایا گیا ہے کہ جوائینٹ ڈائریکٹر س انفارمیشن جموں /کشمیر سے کہا گیا ہے کہ وہ اُن کے دفاتر میں التوا میں پڑی تمام اشتہاری بلوں کو کلئیر کریں اور کوئی بھی بل التوا میں نہ رکھیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے سرکاری اشتہارات کے سلسلے میں موجودہ مالی سال کیلئے اخبارات و دیگر جرائد کی ادائیگی کیلئے 30 کروڑ روپے کا بجٹ واگذار کیا ہے ۔ 
 
مظفر بیگ کی وزیر دفاع کیساتھ ملاقا ت 
 سادھناٹنل کی تعمیر پر تبادلہ خیال کیا
جموں/ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ کی قیادت میں ایک وفد نے وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے ساتھ کپواڑہ۔کرناہ سڑک پر سادھنا ٹنل کی تعمیر کا معاملہ اُجاگر کیا۔ یہ معاملہ پہلے ہی وزیر اعلیٰ نے وزیر دفاع کے ساتھ اٹھایا ہے ۔ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے ، میر فیاض ، ایم ایل اے راجا منظور اور ایم ایل سی جاوید مرچال بھی وفد کا حصہ تھے ۔ ارکان نے مرکزی وزیر کو کپواڑہ خاص طور سے کرناہ کے لوگو ں کے مسائل کے بارے میںجانکاری دی کیونکہ یہ سڑک بھاری برفباری کی وجہ سے لگ بھگ 6مہینے بند رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سادھنا کے مقام پر ٹنل کی تعمیر سے یہ سڑک تمام موسموں والی سڑک میں تبدیل ہوگی اور لوگوں کی راحت رسانی بھی ہوگی۔ وفد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پہلے ہی یہ معاملہ وزیر دفاع کے ساتھ اُٹھایا ہے۔وزیر دفاع نے وفد کے مطالبات غور سے سنے اور کہا کہ وزیرا علیٰ نے یہ معاملہ ان کے ساتھ اُجاگر کیا ہے ۔انہوںنے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
 
ایس ایم وی ڈی ایس بی کی 62ویں میٹنگ منعقد 
 بھون کیلئے ماسٹر پلان کو منظور ی دی گئی
جموں/ شری ماتا ویشنودیوی شرائین بورڈ کی 62میٹنگ راج بھون میں گورنر این این ووہرا جو شرائین بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔بورڈ نے ہاتھ میں لئے گئے بڑے پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا ۔میٹنگ میں بورڈ سے جڑی کئی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔بورڈ نے شری ماتا ویشنو دیوی کالج آف نرسنگ کو بھی منظوری دی گئی ۔گورنر نے ہدایت دی کہ مجوزہ دو نئی ہوسٹل عمارتوں کو جون 2019ء تک مکمل کیا جانا چاہیئے ۔بورڈ نے ایس پی اے کی طرف سے تیار کئے گئے نیا درگا بھون کے ڈیزائن کو منظوری دی جہاں 2000 یاتریوں کو اقامتی سہولیات دستیاب ہوں گی۔اس موقعہ پر بتایاگیا کہ 2031ء تک بھون احاطے میں 90فیصد رہائشی سہولیات یاتریوں کیلئے مفت دستیاب ہوں گی۔بورڈ نے جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی نائرائنا سپر سپیشلٹی ہسپتال ککریا ل کے ایکسٹنشن سینٹر کے طور 30بستروں پر مشتمل سینٹر قائم کرنے کو بھی منظور ی دی جہاں ڈے کیئر سہولیات دستیاب ہوں گی جن میں ڈائیلیسس ، کیمو تھراپی شامل ہوں گی۔جاری پروجیکٹوں پر ہو رہے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ نے شرائین بورڈ کے سی ای و کو ہدایت کہ وہ ماسٹر پلان کی بروقت عمل آوری اور تمام کاموں کو وقت مقررہ پر مکمل کرنے کو یقینی بنائیں۔
 
 
 سیاحتی مقامات کو کوڑا کرکٹ سے پاک بنایاجائے:تصدق مفتی
جموں/ سیاحت کے وزیر تصدق حسین مفتی نے سیاحتی مقامات کو کوڑا کرکٹ سے پاک کرنے کے لئے اختراعی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وزیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار یہاں ایک میٹنگ کے دوران کیا جس میں سیاحتی مقامات پر کوڑا کرکٹ کو سائنسی طریقے پر ٹھکانے لگانے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اس موقعہ پر پولیوشن کنٹرول بورڈ جموں کی سائنسداں انورادھا نے ایک جامع پرزنٹیشن پیش کی۔انہوں نے وزیر کو جانکاری دی کہ کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کام کو انجام دینے کے لئے اختراعی طور طریقے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔تصدق مفتی نے کہا کہ لوگوں کو کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے جدید طریقوں سے روشنا س کرانے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کئے جانے چاہیئے۔انہوںنے کہا کہ نچلی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور پالتھین کے استعمال کو بھی ترک کیا جانا چاہیئے اور خاص طور سے سیاحتی مقامات پر ایسی چیزیں استعمال میں نہیں لائی جانی چاہیئے جن سے ماحولیاتی توازن پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ان مقامات پر آنے والے لوگوں اور سیاحوں کو صفائی ستھرائی کی اہمیت کے ساتھ ساتھ وہاں کے حیاتیاتی تنوع کے بارے میں بھی روشناس کرایا جانا چاہیئے۔