مزید خبرں

آنگن واڑی ورکروں کا احتجاج 

حسین محتشم
 
پونچھ//آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔اس دوران ایک بار پھر کارکنوں اور ہیلپروں نے فوارہ گارڈن پونچھ میں جمع ہو کر اپنے مطالبات سرکار کے سامنے رکھے۔ان خواتین ملازموں نے سرکار مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور ریاستی مخلوط سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکار کو صرف اپنی کرسی کی پڑی ہوئی ہے اور ان کے جائز مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔احتجاج میں شامل ایک خاتون ملازم نے کہا کہ وہ تین ہفتوں سے احتجاج کررہی ہیں لیکن آج تک انتظامیہ کا کوئی بھی افسر ان کے پاس نہیں آیا جس سے حکام کی بے حسی کا اندازہ ہوتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورے ملک میں بیٹی بچائو کے نعرے لگائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ان بیٹیوں کا پرسان حال کوئی نہیں۔ایک خاتون نے الزام عائد کیاکہ محکمہ سماجی بہبود نے ان کے مقفل  سنٹر پر تالا لگا کر تانا شاہی دکھائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ تب تک ہڑتال جاری رکھیںگی جب تک کہ ان کے مطالبات پورے نہ کئے جائیں ۔
 
 

یوتھ کانگریس کا اجلاس منعقد 

راجوری //یوتھ کانگریس کی طرف سے راجدھانی علاقے میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس کی صدارت اے وائی سی صدر راجوری حسن مرزا نے کی ۔ اس میٹنگ کے دوران مقامی لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ بجلی و سڑک روابط نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔ مرزانے کہاکہ کانگریس کی حکومت کے دوران راجوری میں کئی پروجیکٹوں پر کام شروع ہواتھاتاہم وہ سب کے سب آج ٹھپ پڑے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت اس پروجیکٹوں پرکوئی دھیان نہیں دے رہی اور اس کی اصل توجہ غیر ضروری معاملات پر ہے ۔انہوںنے کہاکہ مقامی ممبران قانون سازیہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ اس موقعہ پر شفیق احمد اور امتیاز میر بھی موجو دتھے ۔
 
 
 
 

ٹھیکیدار ایسو سی ایشن راجوری کے چنائو 

نیوز ڈیسک
راجوری //ٹھیکیدار ایسو سی ایشن راجوری کے چنائو کروائے گئے جس دوران اشفاق ماگرے کو بلامقابلہ صدر نامزد کرلیاگیا۔اس سلسلے میں ٹھیکیداروں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سبھی نے شرکت کی ۔ اس دوران اتفاق رائے سے ماگرے کو صدر بنایاگیا۔ان کے نام پر سبھی نے اتفاق ظاہر کیا ۔ اس میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ بھی ہواکہ تمام ٹھیکیدار ماگرے کو مکمل حمایت دیںگے تاکہ تنظیم کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جاسکیں ۔
 
 

وبودھ گپتا کا دورہ ٔکوٹلی کالابن 

پرویز خان 
منجاکوٹ //بھاجپا کے سینئر لیڈر و ممبر قانون ساز کونسل ایڈووکیٹ وبودھ گپتا نے منجاکوٹ کے کوٹلی کالابن کادورہ کرکے مقامی لوگوں کے مسائل سنے ۔اس دوران علاقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے مسائل ایم ایل سی وبود گپتا کے سامنے پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالت ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے طلباء کی تعلیم متاثر ہوتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ پانی اور راشن جیسی سہولیات بھی میسر نہیں اور انہیں دربدر کردیاگیاہے۔تمام مسائل سننے کے بعدوبودھ گپتا نے آفیسران کو ہدایت دی کہ وہ ان لوگوں کے تمام مطالبات حل کرنے کی کوشش کریں۔گپتا نے کہا کہ راجوری اور پونچھ کے لوگ آپسی بھائی چارے اور اتفاق کو اسی طرح سے بنائے رکھیں۔انہوں نے محکمہ امورصارفین کے اے ڈی کو ہدایت دی کہ وہ بی پی ایل لسٹ دوبارہ سے سروے کرواکر بنوائیں کیونکہ 2011میں کئی نام غلط ہیں ۔اس موقعہ پر انہوںنے ایک بجلی ٹرانسفارمر اور تیس کھمبوں کی منظوری بھی دی ۔ان کے ہمراہ افسران اور پارٹی کارکنان بھی تھے ۔
 
 

مینڈھر میں گھاس خاکستر 

جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے سنگیوٹ علاقہ میں آگ لگنے سے گھاس جل کر راکھ ہو گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق افسر بی بیوہ محمد ایوب کا گھاس اچانک آگ لگنے سے جل گیا جس کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو گیا۔ آگ کو دیکھتے ہوئے علاقہ کے لوگ بڑی تعداد میں موقعہ پر جمع ہو گئے لیکن وہ تباہی ہونے سے نہ بچاسکے ۔مقامی لوگوں کاکہناتھاکہ سب سے بڑی پریشانی پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے پیش آئی اور انہیں کئی کلو میٹر دور سے پانی لاناپڑا۔انہوںنے انتظامیہ سے بیوہ خاتون کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اسے اس نقصان پر معاوضہ دیاجائے تاکہ وہ مال مویشی کیلئے گھاس کا انتظام کرسکے۔
 

موٹرسائیکل  حادثے میں دو زخمی 

بختیار حسین 
سرنکوٹ //سرنکوٹ کے مرزا موڑ علاقے میں ایک موٹرسائیکل حادثے کاشکار ہواجس کے نتیجہ میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں ۔یہ موٹرسائیکل سرنکوٹ سے معمولی دوری پر مرزا موڑ کے نزدیک حادثے کاشکار ہواجس کی وجہ سے اس پر سوار امتیاز احمد ولد محمد عبدالرشیداورشوکت احمد ولدمحمد لطیف ساکنان اڑی مینڈھر زخمی ہوئے ۔ انہیں فوری طور پر وہاںسے اٹھاکر سب ضلع ہسپتال سرنکوٹ لایاگیاجہاں ان کا علاج کیاگیا۔
 

رام کنڈ مندر میں میلہ اختتام پذیر 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//مینڈھر کے علاقہ رام کنڈ مندر میں میلہ اختتام پذیر ہوگیا۔اس میلے میں راجوری اور پونچھ اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی ۔رام کنڈ مندر خطہ پیر پنجال میں مشہور مندر ہے جہاں ہر سال دیسی مہینے چیت کی چودہ تاریخ کو میلہ لگایا جاتا ہے ۔میلے کے پہلے دن مینڈھر ہنومان مندر سے ایک چھڑی نکالی جاتی ہے جو کئی کلو میٹر سفر پیدل کرکے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ رام کنڈ مندر پہنچتے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات ہوتے ہیں۔رام کنڈ مندر کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں پر تمام لوگ شنان کرتے ہیں کیونکہ تین کنڈ بنے ہوئے ہیں جن میںسے ایک میں عورتیں شنان کرتی ہیں اور دوسرے میں مرد شنان کرتے ہیں جن کا نام رام، سیتا اور لکشمن ہے ۔ہندو برادری کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو میلے کا انتظام کرتی ہے جبکہ ایک پجاری ہمیشہ رام کنڈ مندر میں رہتا ہے ۔چھجلہ رام کنڈ کے مقام پر سینکڑوں کنال زمین بھی مندر کے نام ہے جس زمین سے سامان فروخت کرکے ہر سال لاکھوں روپے جمع بھی ہوتے ہیں اور لنگر بھی چلتا ہے۔ 
 
 
 

خاتون کی زہریلی شے کھانے سے موت 

عشرت بٹ 

 
منڈی// تحصیل منڈی کے اڑائی گائوں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی زہریلی شے نگلنے سے موت ہوگئی ہے۔ زینت بیگم زوجہ محمد صدیق اپنی پانچ معصوم بچیوں کو چھوڑ کر کوئی زہریلی شے کھاکر خود ْکشی کر بیٹھی ۔ذرائع کاکہناہے کہ جمعہ کودوپہر اپنے ہی گھر میں موصوفہ نے اچانک کوئی زہریلی شے کھالی جس کے بعد اس کو مقامی لوگوں کی مدد سے سب ضلع ہسپتال منڈی میں پہنچایا گیا جہاں سے ڈاکٹروں نے ابتدائی علاج کے بعد ضلع اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی ۔بعد ازآں نعش کا پوسٹ مارٹم کرکے اسے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپرد کیاگیا۔ اس سلسلے میں پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شرو ع کردی ہے ۔
 
 

سرنکوٹ میں فٹ پاتھ تعمیر کرنے کی مانگ 

بختیار حسین 
 
سرنکوٹ//سرنکوٹ بازار میں گریف حکام کی طرف سے کنکریٹ سڑک تو تعمیر کردی گئی ہے لیکن ابھی تک فٹ پاتھ نہیں بنایاگیاجس کی وجہ سے پیدل چلنے والے لوگوں کو دشواری کاسامناہے اور انہیں راستہ تک نہیں ملتا۔پیدل چلنے والے لوگ مجبوراًسڑک پر سفر کرتے ہیں جس سے ان کو گاڑیوں سے ٹکر لگنے کا خطرہ رہتاہے ۔ مقامی لوگوںنے گریف حکام اورانتظامیہ سے فٹ پاتھ کی تعمیر کا مطالبہ کیاہے تاکہ چلنے والوں کو مشکل کاسامنا نہ کرناپڑے ۔حاجی بدرالدین ، منظر خان اور خالد چوہدری وغیرہ کاکہناہے کہ فٹ پاتھ کسی بھی شہر یا قصبہ میں سب سے پہلے بنائے جاتے ہیں لیکن سرنکوٹ میں آج تک اس کی تعمیر نہیں ہوئی جس سے یہاں کی ترقی کا اندازہ ہوتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کو مجبوراًسڑک پر چلایاجارہاہے جس سے کوئی حادثہ بھی پیش آسکتاہے ۔ ان کاکہناہے کہ بازار میں ٹریفک کا جام پہلے سے ہی پریشان کن مسئلہ ہے اور اس پر فٹ پاتھ کا نہ ہونا تشویش کا باعث ہے ۔انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ میں فوری طور پر فٹ پاتھ تعمیرکرنے کا کام شروع کیاجائے تاکہ راہگیروںکو چلنے میں مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے اور نہ ہی ٹریفک جام لگیں ۔