مزید خبرں

بھیم سنگھ کی پارلیمنٹ سے کشمیرمیں خون خرابہ روکنے کامطالبہ

جموں//سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن پروفیسر بھیم سنگھ نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے  وہاں ایک غیر سرکاری وفد بھیجنے کے لئے مداخلت کریں جس سے ریاست میں مزید خون خرابہ اورتباہی کو روکا جاسکے۔پنتھرس پارٹی کے سپریمو نے کہاکہ مرکزی حکومت کے پینل سے کسی تانا شاہ کو بھیجنا پرانا طریقہ ہوچکا ہے کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگ وہاں کی موجودہ حکومت کی ناکامی سے متاثر ہیں۔ موجودہ حکمراں صرف مال جمع کرنا اور وہاں کے امن پسند لوگوں کو کچلنا چاہتے ہیں جن کے آب و اجدادنے پوری ایمانداری کے ساتھ بیرونی دراندازوں کی مخالفت کی تھی۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کی قربانیاں ریکارڈ میں ہیں۔ انہوں نے 1946میں شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں سری نگر کے لال چوک پر ترنگا جھنڈا لہرایا  تھا۔ انہوں نے سیکولرازم کی آواز اٹھائی حالانکہ اس وقت ہندستانی آئین میں سیکولرازم لفظ شامل نہیں کیا گیا تھا۔ان کی وفاداری، ایمانداری اور جمہوریت اور سیکولرزم کے تئیں ان کے عزم پر شبہ کرنا افسوسناک کہانی ہے جسے جموں وکشمیر کے حکمرانوں نے نئی دہلی کے اشار ے پر پھیلا یا ہے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے جب کانگریس رکن کے اسمبلی کے تھے اور اس کے بعد بھی خود آٹھ سے زیادہ برس جیل میں کاٹے ہیں ۔غصائے کشمیری نوجوانوں کو غیرملکی ایجنٹ یا دہشت گرد بتانا کچھ اقتدار کے بھوکے ریاست کے لیڈروں کی شرارت ہے جنہیں غیرملکی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدرپر فوری مداخلت کے لئے زور دیا کیونکہ وہی واحد آئینی اتھارٹی ہیں جو جموں وکشمیر کے آئین اور ہندستانی آئین کی دفعہ370کے تحت مداخلت کرسکتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی جلد از جلد قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کی جس میں ہرسیاسی جماعت کے نمائندے شامل ہوں اورجس میں جموںوکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرکے ریاست میں امن بحالی کے اقدامات کئے جاسکیں۔انہوں نے کہاکہ گولیوں اور تشدد سے کشمیری لوگوں کا اعتماد بحال نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی بی جے پی۔پی ڈی پی حکومت کو برخاست کرکے گورنر راج لگانا ہی واحد حل ہے جس کا کشمیر سے کنیا کماری تک تمام لوگ خیرمقدم کریں گے۔
 
 

 سیکرٹری پھولبانی کا فلاور گارڈن بھور کیمپ کا دورہ 

جموں//سیکرٹری پھولبانی طلعت پرویز نے حلقہ انتخاب گاندھی نگر کے بھور کیمپ میں فلاور گارڈن کا دورہ کیا اور وہاں جاری تعمیری سرگرمیوں کا جائیزہ لیا۔ڈائریکٹر فلوری کلچر جموں ببیلا رکوال اور محکمہ کے سنئیر افسران بھی تھے۔طلعت پرویز احمد نے بچوں کے پارک، جھیل، روز گارڈن، جاگری پاتھ وے اور دیگر ترقیاتی کاموں کا جائیزہ لیا۔انہوں نے متعلقین پر زور دیا کہ وہ جاری تعمیراتی کاموں کی رفتار میں سرعت لائیں۔ انہوں نے پارک میں مزیدپودے لگانے کی ہدایت دی۔
 
 

جیوکااپنے بنیادی ممبران کیلئے تحفہ 

مزیدایک سال تک لازمی فوائد دینے کااعلان کیا 

جموں//جیونے اپنے پرائم ممبران جن کی ایکلوسیوممبرشپ فوائد کیلئے سبسکریشن 31مارچ 2018 کیلئے خوشخبری ہے،جیونے اپنے ممبران کوایک سال مزیدکمپلی منٹری پرائم فوائد ،بغیرکسی فیس کے غیرمعینہ مدت کیلئے دینے کافیصلہ لیاہے۔جیوممبران کواضافی فوائد اورمعیاری خدمات حاصل رہیں گی۔جیوکے نئے صارفین کیلئے جیوپرائم ممبرشپ سالانہ ممبرشپ فیس 99 کے ساتھ دستیاب ہے۔جیواپنے صارفین کوبہترین ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کیلئے وعدہ بندہے۔گذشتہ برسوں میں جیوکے صارفین نے محسوس کیاکہ جیوکے ریٹ پوری انڈسٹری میں بہترہیں، بہترین سروس فراہمی ہے،ہردن مزیدویلیو(ای ڈی ایم وی ) خدمات 20سے 50فیصد ویلیوفراہم کی جاتی ہے۔کمپلی منٹری اسیس جوکہ موادکی شاندارلائبریری ہے اوراس میں 550سے زائد لائیوٹی وی چینلز،6ہزارفلمیں، لاکھوں ویڈیوز،ٹی وی شوز1.4کروڑ گیت، 5ہزارسے زائدمیگزین ،500 سے زائد اخبارات وغیرہ کاخزانہ موجودہے۔
 

حکومت کی پالیساں نوجوان کش:ایڈوکیٹ اکرم چوہدری

جموں//گجر بکروال یوتھ کانفرنس نے حکومت پرنوجوانوں کے مستقبل کوتاریک بنانے کاالزام عائدکرتے ہوئے بے روزگارنوجوانوں کے مسائل کاسدباب کرنے کامطالبہ کیاہے۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں گجربکروال یوتھ کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ اکرم چوہدری نے موجودہ مخلوط سرکار پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار جموں خطہ کے نوجوانوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے ۔انہوں نے  کہا کہ جموں کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی وجہ سے ذہنی انتشار پیدا ہو گیا ہے۔سیاسی زیادتیوں کی  وجہ سے خصوصاًجموں خطہ میں بیروزگاری بام عروج پر پہنچ گئی ہے اور اب ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لے لے کر بازار میں ریڑیاں لگانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔بیروز گاری ان پڑے لکھے نوجوانوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ بن کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ دن بدن احساس کمتری کی محلق بیماری میں مبتلہ ہوتا جا رہا ہے۔والدین بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنی زمین وجائیداد دائو پر لگا دیتے ہیںلیکن سرکار کی نوجوانوں کے تئیں بے راہ روی قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا  دور حاضر کے بے روزگار نوجوان منشیات مین مبتلا ہو گئے ہیںاوران مظہر نشائوں کی وجہ سے اچانک اموات کا معمول بن گیا ہے۔ چوہدری نے موجودہ مخلوط حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امتحانات منعقد کرنے والی ایجنسیاںبھی بے ضابطگیاں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہی ہیں اورپچھلے دروازے سے بھرتیاں  پڑے لکھے نوجوانوں کے لئے ایک بہت بڑا المیہ بن گیا ہے۔اکرم چوہدری نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بے روزگار نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلیںاور فوری طور پر ان نوجوانوںکو روزگار فراہم کرنے کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے وگرنایہ تنظیم ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ احتجاج پر اتر آئے گی۔گجر بکروال یوتھ جنرل سکرٹری نے مزیدکہاکہ خطہ کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کی پامالی کو دیکھنے کے لئے خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ موجودہ حکومت کی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔
 
 

وزیراعلیٰ ریاست کواقتصادی طورکمزورکرنے کیلئے ذمہ دار:عبدالغنی وکیل

جموں//جمو ں کشمیر بچائو تحریک  کے صدر اور سابق وزیر عبد الغنی وکیل  نے یہاں جاری ایک بیان میں محبوبہ مفتی سرکار کو متنبہ کیا ہے کہ اگر حالیہ رپورٹ اور اعداد شمار کے پیش نظر مرکزی سرکار ریاستی سرکار کو وعدے کے مطابق مالی امداد اور پروجیکٹس کو مکمل کرنے کے لئے سرمایہ واگزار نہیں کررہی ہے اور 85,000کروڑ میں سے آج تک صرف 17,000کروڑ ہی ریاستی سرکار کو واگزار کئے گئے ہیں۔یہ بڑی حیران کن بات ہے اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار کو ریاست جموں و کشمیر کو خوشحال بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اقتصادی طور پر ریاست کو مفلوج بنانے پر تلی ہوئی ہے اوراس صورت حال میں محبوبہ مفتی خاموش تماشائی بن کر نظر آرہی ہے اور سرکار سے الگ نہیں ہوتیں۔عبدالغنی وکیل نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر زور دیا ہے کہ اگر واقع مرکزی سرکار ریاستی سرکار کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی دونوںمحاز پرسوتیلی ماںکا سلوک روا رکھی ہوئی ہے تو ان اس سلسلے میں خاموشی توڑ دینی چاہیئے اور عوام کو اعتماد میںلا کر اپنے ضمیر سے پوچھ کربغیر کسی تاخیر کے دست بردار ہونا چاہئے۔ورنہ عوام یہ بات مان کر چکے گی کی پی ڈی پی کو اپنے لئے اقتدار کی ضرورت ہے اور عوام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
 
 

لیک شدہ سی بی ایس ای پرچہ جات کا از سر نو انعقاد 

جموں کے طلباء کا انتظامیہ مخالف مظاہرہ

عظمیٰ نیوز 
جموں//حال ہی میں سی بی ایس ای کے دسویں اور بارہویں جماعت کے پرچے لیک ہونے کے بعد دوبارہ کروائے جانے پر جموں میں بھی طلباء کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ طلباء کا کہنا تھا کہ مرکزی سرکار امتحانات کا تقدس قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں اب دوبارہ امتحانات منعقد کر کے انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ اس دوران سی بی ایس ای پیپر لیک معاملہ میں نیا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپروں کو 10 وہاٹس ایپ گروپ کے توسط سے لیک کیا گیا ، جس میں 50 سے زیادہ ممبران تھے۔ ان ممبروں میں کچھ کوچنگ سینٹروں کے اساتذہ بھی تھے۔ دہلی پولیس مسلسل اس وہاٹس ایپ گروپ کے ممبروں سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔سی بی ایس ای کے 10 ویں کے ریاضی اور 12 ویں کے معاشیات کے پیپر منسوخ ہونے کی وجہ سے  طلبہ بھی کافی کشیدگی میں ہیں۔ جیسے ہی کل پیپر منسوخ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے ، طلبہ میں ایک خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ طلبہ کے مطابق ان کیلئے یہ کافی افسوسناک ہے۔ اس طرح امتحان منسوخ ہونے سے وہ مایوس ہیں۔طلبہ کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرست اور اساتذہ کا بھی ماننا ہے کہ سی بی ایس ای میں پہلی مرتبہ اس طرح پیپر لیک کی خبر ا?ئی ہے۔ ایسے میں ہمیں اب بچوں کے مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے۔