مزید خبرں

 خطہ ڈوڈہ میں غیر معیاری راشن کی فراہمی کا الزام 

محمد اسحٰق عارف
 
ڈوڈہ//ڈوڈہ میں راشن کی عدم موجودگی اور موجودسڑا گلہ آٹے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈوڈہ ڈیویلپمنٹ فرنٹ کے صدر اشتیاق احمد دیو نے وزیر خوراک پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈوڈہ میں جب بھی آئے تو زمین آسمان ملانے کی بات کرتے ہیں مگر امر واقع یہ ہے کہ حکومت وزیر امور صارفین کا قلمدان سنبھالنے کے بعد وہ ہم کو اب تک راشن کارڈ نہ دے سکے اور بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ڈوڈہ میں راشن موجود نہ ہے اور جو آٹا موجود ہے وہ گلہ سڑا بدبودار ہے اُنہوں نے پریس کے نام جاری بیان میں مزید کہا کہ محکمہ سب کچھ جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ خامی کہاں ہے مگر چونکہ اس میں وزیر اور محکمہ کے اعلیٰ آفیسران کے مفاد وابستہ ہیں ورنہ کیا بات ہے کہ گذشتہ چھ برسوں سے مسلسل ڈوڈہ خطہ کو گلہ سڑا بدبودار آٹا بار بار دیا جاتا ہے اور ہر بار وعدہ ہوتا اگر جموں شہرو مضافات میں عمدہ و معیاری آٹا و راشن دیا جاتا ہے تو ہم ڈوڈہ خطہ کے لوگ اس سے محروم کیوں ہیں۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ستر برسوں تک جموں صوبہ کے ساتھ ناانصافی کا رونا رونے والی جماعتیں کبھی کنک منڈی گاندھی نگر، راجندر بازار و یئر ہاوس کے باہر نہ دیکھتی ہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور اگر حکومت نے جلد سے جلد گلہ سڑا بدبودار آٹا بند کرکے اصلی عمدہ و معیاری آٹا صارفین کو فراہم نہ کیا تو اس کے بعد کی صورت حال کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہوگی۔ 
 

ڈوڈہ میں جموں کشمیر ہائی کورٹ بینچ کے قیام کا مطالبہ

محمد اسحٰق عارف
 
ڈوڈہ//ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن ڈوڈہ کی طرف سے نئے کورٹ کمپلیکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈوڈہ میں جموں کشمیر ہائی کورٹ بینچ کے قیام کا مطالبہ کو جائز و درست ٹھہراتے ہوئے جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر ضلع ڈوڈہ شہاب الحق بٹ و پی ڈی پی رہنما مرزا مظفر حُسین بیگ نے اس مطالبہ کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی دیسہ کپرن سڑک کی تعمیر ، RUSAکے تحت کلسٹر یونیورسٹی کا قیام چناب ویلی کے لئے علٰحیدہ کونسل کا قیام و دیگر مطالبات سمیت جموں کشمیر ہائی کورٹ بینچ ڈوڈہ کا مطالبہ شامل کیا تھا اور سال 2003میں باضابطہ طور ڈوڈہ سیول سوسائٹی نے متفقہ طور ایک پاس شُدہ قرار داد کے ذریعہ اس کا مطالبہ کیا تھا دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی آئین میں بھی اس طرح کے بیچن کے قیام کا قانون موجود ہے اور ڈوڈہ خطہ کے جغرافیہ مالی حالات اور طویل مسافت کے پیش نظر یہ اور بھی ضروری ہے اُنہوں نے کہا کہ وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈوڈہ اور ڈوڈہ ڈیویلپمنٹ فرنٹ کی طرف سے ’’جموں کشمیر ہائی کورٹ بینچ ڈوڈہ‘‘ کے قیام کے مطالبہ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور جہاں بھی موقع ملے اس کو ہر فورم میں اُٹھائیں گے۔ تاکہ چناب ویلی کے لوگوں کو انصاف آسان ہو۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سڑک رابطوں کے بعد مختلف اداروں کا قیام ہی ڈوڈہ خطہ پسماندگی اور غربت سے نجات دلا سکتا ہے۔ اور ہم استحصالی نعروں  کے بجائے اداروں کے قیام پر یقین رکھتے ہیں۔ اور ہماری حکومت میں گذشتہ تین برسوں میں ڈوڈہ میں زنانہ پولیس تھانہ ، فاسٹ ٹریک عدالت ، آئی سی پی ایس دفتر، جائنٹ ڈائیریکٹر ایجوکیشن ڈوڈہ سمیت کئی اداروں کا قیام عمل میں لایا اور مزید کئی ادارے آنے والے تین برسوں میں ڈوڈہ میں قائم ہوں گے جس سے سماج کے تمام طبقوں کو آسانی بھی ہوگی اور روز گار کے وسائل بھی پیدا ہوںگے۔ 
 
 

ریاسی میں طبی کیمپ کا اہتمام

ریاسی //ضلع کے پر ائمری ہیلتھ سنٹر ٹھاکرا کوٹ(پناسہ) میںچیف میڈیکل افسر ڈاکٹر پرمیندر سنگھ کی جانب سے ایک خصوصی طبی کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔ ڈاکٹروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے شرکت کی جن میں ڈیا ایچ ریاسی کے کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر راکیش رینہ، سی ایچ سی کٹرہ کے کنسلٹنٹ آرتھو ڈاکٹر نیتال گپتا اور بلاک پونی کے دیگر میڈیکل افسر بشمول نیم طبی عملہ نے کیمپ میں شرکت کی اور   355افراد کو طبی معاونت فراہم کی۔اسکے علاوہ موقعہ پر ہی 34ناخیزی سرٹفیکیٹ اور 70  اشخاض کو عمر کی سرٹفیکیٹ بھی جاری کی گئی۔اس موقعہ پر چیف میڈیکل افسر نے کہا کہ ضلع کے دور دراز علاقوںن میں لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر ہی طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے مزید ایسے کیمپ منعقد کئے جائیںگے۔
 
 

گوجر طبقہ دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم:سیوا دل  

نمائندہ عظمیٰ
 
بھلیسہ//وادی چنا ب کے کانگریس سیوا دل کے انچارج سنجے منہاس نے کہا ہے کہ ریاستی سرکار کے بلند بانگ دعووں کے باوجود گوجر طبقہ  آزادی کے دن سے ہی اپنے بنیادی حقوق کیلئے جد و جہدکر رہا ہے۔انہوںنے ریاستی سرکار کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا سماج کے دیگر طبقوں کی طرح ایس ٹی طبقہ کی بھی موجودہ مخلوط سرکار کے خلاف ناراضگی ہے کیونکہ انکی بہبودی اور بھلائی کے لئے شروع کئے گئے مرکزی سرکارکی مختلف سپانسرڈ سکیموں کے فوائد مستحق کنبوں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غریب ایس ٹی طلبا کے لئے سکالرشپ منظور تو کیا جاتا ہے لیکن اسے وقت پر واگُذار نہیں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبقہ کی بھلائی کے لئے جاری اسپیشل سکیموں کو متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد لاگو نہیں کیا جاتا ہے۔انہوں نے طبقہ کے لئے خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس طبقہ کو ہر شعبہ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ٹی طبقہ کی بیشتر آبادی کو پینے کے پانی کی سخت قلت کا سامنا ہے اور اسکے لئے ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی محاذیں بھی طبقہ کو فراموش کیا گیا ہے ا ور فنڈز کی دستیابی کے باوجود طبقہ کے لئے مختلف سکیمیں جیسے کہ بد رو، بجلی سڑکوں کو جان و بوجھ کر پس پشت ڈالا گیا ہے یا ان فنڈز کا استعمال ہی نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بار ہا طبقہ کے مسائل متعلقہ حُکام تک پہنچائے گئے ہیں لیکن انکی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔منہاس نے گوجر طبقہ آبادی والے علاقوں کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 

کشتواڑ کے تعلیمی اداروں میں تمام مضامین متعارف کرانے کی مانگ 

نمائندہ عظمیٰ
 
کشتواڑ //ضلع کے طلاب نے تمام ہائر سیکنڈری سکولں اور یونیورسٹی کیمپس میں تمام مضامین بشمول ایجوکیشن، بی ایڈ، ایم ایڈ، پولٹیکل سائنس، کمپیوٹر ایپلکیشنز،کامرس، ہسٹری، فارسی، انگلش، سنسکرت ،عربی، ہندی، اردو،سوشالوجی اور فلاسفی متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے میڈیکل اور نان۔میڈیکل اسٹریم بھی متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے 12ویں جماعت کے ایک طالب علم امجد احمد بٹ نے کہا کہ وہ یہ مضامین پڑھنا چاہتے ہیں جو کہ تقابلی امتحانات میں انکے لئے کار آمد ہیں۔اُس نے کہا کہ مختلف تقابلی امتحانات میں اکنامکس، ہسٹری، سوشالوجی،اور پولٹیکل سائنس وقت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مضامین انہیں کے اے ایس، آئی اے ایس میں شامل ہونے کے لئے کافی فائدہ مند ہیں۔کیمپس کے طلاب نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں فقط ایم ایس سی آئی ٹی، جیالوجی، اور کشمیری مضامین پڑھائے جاتے ہیںاور ابھی تک کوئی دوسرا مضمون متعارف نہیں کیا گیا ہے۔اُس نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں پولٹیکل سائنس اور ہسٹری پڑھوں گا ،جو کہ میرے من پسند ہیں۔طلاب نے کہا کہ آجکل جن مضامین کی مانگ زیادہ ہے وہ ضلع کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں نہیں پڑھائے جاتے ہیں اور تعلیم کے حُکام سے تمام ہائر سیکنڈری سکولوں بشمول یونیورسٹی کیمپس میں نئے مضامین شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایجوکیشن میں پوسٹ گریجویٹ اور نئیٹ کوالیفائڈ ایک طالب علم انشو شرما نے کہا کہ یونیورسٹیاں جیسے کہ کشمیر اور جموں یونیورسٹی بشمول اگنوسے بھاری تعداد میںپوسٹ گریجویٹ تیار ہو کر نکلتے ہیںلیکن محکمہ تعلیم ضلع کے تعلیمی اداروں میں یہ مضامین شروع نہیں کرتے ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ غورنمنٹ ڈگری کالج کشتواڑ میں پولٹیکل سائنس ،کامرس ،اکنامکس، اردو، ہندی،میڈیکل ،نان ۔میڈیکل ،جغرافیہ،فشرئیز مضامین دستیاب ہیںلیکن ہائر سیکنڈری سکولوں میں یہ مضامین ستیاب نہ ہونے کی وجہ سے طلاب کو کالج سطح پر یہ مضامین لینے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ ضلع کے طلاب نے ا س سلسلہ میں وزیر اعلیٰ کی مداخلت طلب کی ہے۔
 

کھڑی کے منگت علاقے میں واٹر ہارویسٹنگ ٹینک کی تعمیر

محکمہ دیہی ترقیات اور واٹر شیڈ کی طرف سے رقومات کی عدم ادائیگی سے مزدور پریشان

محمد تسکین
 
بانہال // محکمہ دیہی ترقیات اور واٹر شیڈ پروگرام کے تحت بلاک کھڑی ضلع رام بن کے منگت علاقے میں کئی لوگوں سے واٹر ہارویسٹنگ ٹینک بنانے کے احکامات دیئے گئے لیکن دس مہینے کا عرصہ بیت جانے کے باوجود بھی کئی زمینداروں کو رقومات ادا نہیں کی گئی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچایت منگت بلاک کھڑی ضلع رام بن کے کڈجی ، آرمڈکا اور منگت کے علاقوں میں کئی واٹرہارویسٹنگ ٹینک اور واٹر ٹینک محکمہ واٹر شیڈ ڈویولپمنٹ اور دیہی ترقیات کے کہنے پر ذاتی رقومات خرچ کرکے تعمیر کئے ہیں لیکن ابھی تک مزدوروں کی اجرتیں محکموں کی طرف بقایا ہیں۔ انہوں نے کہا محکمہ نے کام انجام دینے سے قبل غریب زمینداروں کو یقین دلایا تھا کہ کام مکمل کرنے کے بعد تمام رقومات کی ادائیگی فوری طور کی جائیں گی لیکن مئی 2017 میں واٹر ہارویسٹنگ ٹینکوں کے کام مکمل کرنے کے بعد سے اب تک ان کی رقومات کی ادائیگی میں فنڈس نہ ہونے کا بہانہ بناکر مزدوروں کو ٹالا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان پروجیکٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور میٹریل فراہم کرنے والے افراد کی رقومات پھنس کر رہ گئی ہیں اور وہ سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت منگت کے بیشتر افراد کا پیشہ زمینداری اور سردیوں میں پنجاب جاکر مزدوری کرنا ہے اور ان کی رقومات نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اور ان کے کنبوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واٹر ٹینک تعمیر کرنے کے بعد کسی بھی ملازم نے غریب مزدوروں کی خبر نہ لی اور رقومات کی عدم ادائیگی نے مزدور پیشہ افراد کو پریشان کرکے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ضلع رام بن کے باقی علاقوں میں بھی لوگوں کی رقومات محکمہ طرف بقایا ہیں اور اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
 

 ڈٹیچمینٹ احکامات لاگو کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرہ

 ایم ایم پرویز
 
رام بن//ضلع کے دور دراز علاقوں میں تعینات ماسٹرس ،اساتذہ اور آر ای ٹی اساتذہ کے ڈٹیچمینٹ احکامات کوعملی شکل دینے میں محکمہ ناکام رہا ہے ۔ اساتذہ نے مبینہ الزام لگایا ہے کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں تعینات تما م اساتذہ اور ماسٹرس کے ڈٹیچمنٹ احکامات پوری طرح سے لاگو نہیں کئے گئے ہیں، جو کمشنر سیکرٹری محکمہ تعلیم نے جاری کئے ہیں۔انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ ایسے اساتذہ اور ماسٹرس کو سیاسی رسوخ کی وجہ سے اٹیچمنٹ کے فوائد حاصل ہیںکیونکہ انہوںنے یہ احکامات کمشنر ،سیکرٹری سے التوا میں رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے الزام لگایاہے کہ کمشنر سیکرٹری نے تمام دفاتر سے اٹیچمنٹ سٹاف کو ڈیٹیچ کرنے کے زبانی احکامات جاری کئے تھے لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بعض اساتذہ دہائیوں سے بغیر کسی وجہ کے سی ای او آفس کے ساتھ اٹئیچ ہیںاور اپنا نجی کارروبار کر رہے ہیں ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ مختلف زیڈ ای او کے ساتھ اٹیچ اساتذہ کو ابھی تک ڈیٹیچ نہیں کیا گیا ہے جبکہ بعض با رسوخ اساتذہ نے سی ای او کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مختلف حربے آزماتے رہتے ہیں۔
 

چیف جسٹس نے وکیل کی ستائش کی 

ڈوڈہ//پریس کے لئے جاری ایک ریلیز کے مطابق گزشتہ روز ڈوڈہ میں ضلع کورٹ کمپلیکس کی نئی عمارت کے افتتاح کے دوران ایکٹنگ چیف جسٹس راما لنگم نے ہائی کورٹ جموں کے سینئر وکیل اقبال بٹ کی قابلیت اور خطہ کے لوگوں کیلئے ہمدردی اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی سراہنا کی جس پر موصوف نے جسٹس راما لنگم کا شکریہ ادا کیا اوراُمید ظاہر کی کہ خطہ کی عوام کیلئے وہ ایسے ہی کام کرتے رہیں گے۔
 

 بی جے پی ضلع نائب صدرڈوڈہ مستعفی

ڈوڈہ // ڈوڈہ ضلع کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلع نائب صدر(ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر) ڈاکٹر امر چند بھگت پارٹی سے مستعفی ہوئے ہیں ۔ ایک پریس بیان میں انہوں نے اپنے مستعفی ہونے کو مرکزی اور ریاستی سرکار کی جانب سے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا عملانے میں ناکامی کو وجہ بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پریس بیان میںانہوںنے مزید کہا ہے کہ کافی غور و فکر کے بعد میں نے اپنی ضمیر کی آواز کا احترام کرتے ہوئے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا ہے۔
 

 بھمبر براہمناں ریاسی کے عوام مرکزی 

و ریاستی سرکار سے خفا
 ریاسی// ضلع پنچایت بھمبر براہمناں میں عوام کی ایک میٹنگ زیر صدارت سابقہ سرپنچ بودھراج کی قیادت میں منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے کہا کہ دریا چناب کاٹی دیوتہ بھمبر کے مقام سے چوبیاں تک1992 سے لے کر آج ہزاروں ایکڑ اراضی کسانوں کی سیلاب آنے سے بہہ گئی ہے جس کے بارے میں ضلع انتظامیہ، ریاسی سرکاروں واب کی ریاستی سرکار ومرکزی سرکار سے کئی بار زبانی وتحریری فریادیں کی جاچکی ہیں کہ بھمبر کائی دیوتہ دریا چناب کے کنارے60 میٹر تا40 میٹری لمبی وچوڑی دیوار بنائی جائے۔ 26 سال عرصہ گذر گیا اس بارے مرکزی وریاستی سرکار اور ضلع انتظامیہ ریاسی خاموش تماشہ دیکھ رہی ہیں۔ بڑے وعدے کئے جاتے ہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس صرف اور آج تک صرف یہ دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں ایسا لگتا ہے ضلع ریاسی کے اندر سیاست کابول بالا ہے جس کی وجہ سے جہاں کے عوام کو دشواریوں کا سخت سامنا کرنا پڑ رہاہے بھمبر دریا چناب کے کنارے بسنے والی صدیوں سے یہ آبادی جہاں بے حال ہے مقررین نے مسئلہ کوزیر غور لاکر ریاستی ومرکزی اور ضلع انتظامیہ ریاسی سے پر زور اپیل کی ہے کہ ایڈمنسٹریشن کے اندر سیاست کے بجائے پسماندہ علاقوں کی طرف توجہ دے کر عوام کی دشواریوںکو فوری دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ یہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبورنہ ہوں تاکہ جہاں کا عوام بھی آئین ہند سے ملنے والی رعایات سے مستفید ہوسکیں ، میٹنگ میں مقررین کے علاوہ اکبر علی، کالی داس ، سنسار چند، کانتا دیوی ، شریشن کمارسوم، محمد حسین دیگر کافی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔