مزید خبرں

جموں کشمیرٹیچرس فورم کااجلاس منعقد

۔9 جون کوضلع ہیڈکوارٹروں پراحتجاج کااعلان 

جموں//جموں اینڈکشمیرٹیچرس فورم کاایک اجلاس یہاں گاندھی نگرمیں یوگراج سنگھ سلاتھیہ ریاستی جوائنٹ سیکریٹری  کی صدارت میں منعقدہوا۔ اس دوران میٹنگ میں آرای ٹیز،آرآرٹیز،اورایس ایس اے اورآرایم ایس اے کے تحت ہیڈٹیچروں نے7جون کے بجائے 9جون کومنعقدہونے والی میٹنگ سے متعلق لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کیا۔اس دوران جموں کشمیرٹیچرس فورم کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیاکہ 9 جون 2018 کوایس ایس اے ٹیچروں کی تنخواہ مرکزی بجٹ سے ڈی لنک کرکے ریاستی بجٹ سے منسلک کرکے تنخواہوں کوباقاعدہ بنانے کی مانگ کولے کر ضلع ہیڈکوارٹروں پراحتجاج درج کرانے کافیصلہ لیاگیا۔اس دوران مقررین نے کہاکہ اساتذہ ان دنوں تنخواہوں کوڈی لنکنگ کے مسئلے کولے کرذہنی کرب سے گذررہے ہیں جوکہ باعث افسوس بات ہے۔اس دوران میٹنگ میں اعلان کیاگیاکہ 9 جون کوپریس کلب جموں کے باہر صبح دس بجے اساتذہ برادری اپنی مانگوں کے حق میں احتجاجی دھرنادے گی اوریہ احتجاج ضلع ترقیاتی کمشنرکے ذریعے وزیراعلیٰ کومانگوں پرمبنی میمورنڈم سونپنے کے ساتھ اختتام ہوگا۔اس دوران میٹنگ میں گوپال سنگھ، سورت سنگھ طوفانی ، یوگ راج سلاتھیہ،راجندرگپتا، رویندرسنگھ،درشن شرما،کلدیپ بندرال، سوشیل شرما،شانتی سروپ،پروین شرما،پی ڈی سنگھ، گوتم سنگھ ،دلیپ ڈگرا ودیگران شامل تھے
 

  قانون ساز کونسل کی محکمہ جاتی سٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ

محکمہ مال کے کام کاج کاجائزہ لیاگیا

سرینگر  /ایم ایل سی قیصر جمشید لون کی صدارت میں جموں وکشمیر قانون ساز کونسل کی محکمہ جاتی سٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مال ، امداد اور باز آبادکاری محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیا گیا۔ارکان قانون سازیہ غلام نبی مونگا، محمد خورشید عالم ، گردرھاری لال رینہ اور نریش کمار گپتا نے میٹننگ میں  شرکت کر کے محکمہ کے کام کاج میں بہتر ی لانے کے حوالے سے اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنایت اللہ اور ریجنل ڈائریکٹر ایس اینڈ ایل آر جموں رفعت کوہلی نے میٹنگ میں متعلقہ شعبوں کے حوالے سے امو رکے بارے میں جانکاری دی ۔کمیٹی کو کشمیری مائیگرنٹوں کی جائیداد اور وادی میں منادر او ردیگر مذہبی مقامات کو تحفظ دینے سے متعلق امور کے بارے  میں بھی جانکاری دی۔کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ مائیگرنٹوں کی جائیدا د پر ناجائز قبضے سے متعلقہ جامع رپورٹ پیش کریں۔میٹنگ میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ سے جڑے معاملات کو زیر بحث لایا گیا۔اس موقعہ پر ریلیف اور باز آباد کاری کمشنر ایم ایل رینہ ،ڈائریکٹر فائنانس ریلیف سیما بھسین کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔
 

حاجی بلند خان کی 11ویں برسی پرتقریب کااہتمام

سید اعجا ز
جموں // جمون کشمیر گوجر بکروال کانفرنس کے بانی اور سابق چیرمین مرحوم حاجی بلند خان کی 11ویں برسی کے حوالے سے ریاست جموں کشمیر میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔جہاں سب سے بڑی تقریباب ضلع ادھم پور میں منعقد ہوئی جس میں طبقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعدا نے شرکت کی ہے ادھر ضلع ڈوڈہ کشتواڑمیں اور رام بن میں کانفرنس کے صدرحاجی محمد یوسف اور سرینگر میں کانفرنس کے مرکزی دفتر راجباغ میںبھی ایک تقریب کانفرنس کے جنرل سیکریٹری چودھری محمد یاسین پسوال کی صدار ت میں منعقد ہوئی جس میںمرحوم کو شاندار الفاظ میںخراج عقیدت پیش کیا گیا ۔اس موقعے پر محمد یاسین پسوال نے بتایا کہ مرحوم نے پسماندہ قوم کو پسماندگی سے نکالنے کے جو محنت اور کوشش کی ہے اسکو ساری قوم ہمیشہ یاد رکھے گا۔ادھر کانفرنس کے طلباء اور یوتھ کے ریاستی صدر چودھری ذاہد پرواز نے بھی مرحوم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا۔۔
 

کمشنرسیکریٹری انیمل ہسبنڈری کاسرحد ی علاقوں کادورہ

گولہ باری متاثرین کی مشکلات سے آگاہی حاصل کی

جموں//کمشنرسیکریٹری انیمل ہسبنڈری اینڈفشریز راج کمار نے سرحدی علاقوں کادورزہ دورکرے متاثرہ لوگوں کے مسائل کاجائزہ لیا۔اس دوران ڈائریکٹراے ایچ جموں اورمتعلقہ چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر نے بھی کمشنرسیکریٹری کے ہمراہ پرگوال اوراکھنورعلاقوں کے دوران کے دوران تھے۔راج کماربھگت نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اوران کی پریشانیوں کے بارے میں پوچھا۔ اس موقعہ پرکمشنرسیکریٹری نے آفیسران کوسرحدی علاقوں کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی۔کمشنرسیکریٹری نے متعلقہ افسران کے ساتھ ایک میٹنگ بھی منعقدکی جس میں سرحدی علاقوں کے مسائل پرتبادلہ خیال کیاگیا۔کمشنرسیکریٹری نے محکمہ کے اہلکاران کوہدایات دیں کہ وہ دودھ ،گوشت اورپولٹری پیداوارمیں خودکفالت کے ہدف کوحاصل کرنے کیلئے کام کریں۔ اس دوران محکمہ کے اہلکاران نے کمشنرسیکریٹری کوبھرپورتعاون کی یقین دہانی کرائی۔
 

ریاستی حکومت ہرمحاذ پرناکام :شاہنواز

جموں// پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری شاہنوازچوہدری نے کہاہے کہ پی ڈی پی ۔بی جے پی مخلوط حکومت ہرمحاذ پرناکام ہوچکی ہے۔ یہاں جاری پریس بیان میں پی سی سی کے جنرل سیکریٹری شاہنوازچوہدری نے کہاکہ موجودہ مخلو ط ریاستی سرکارنے اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے جووعدے کئے تھے انہیں پوراکرنے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں اتنازیادہ اضافہ ہونے سے عام آدمی کی مشکلات میں کافی زیادہ اضافہ ہوچکاہے جس کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دارہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب سرحدی عوام آئے دن پاکستان کی گولہ باری کاشکارہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ مخلوط حکومت کے دورمیں تعمیروترقی کے کام بالکل ٹھپ ہوکررہ گئے ہیں۔عوام کوگوناں مشکلات کاسامناہے۔عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔رشوت ستانی کادوردورہ ہے۔شہرجموں میں بجلی کی باربار کٹوعتی سے عام آدمی سخت پریشان ہے۔ جموں شہرمیں صحت وصفائی کی حالت خستہ ہوچکی ہے اورعوام کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔بے روزگاری کے مسئلے کوحل کرنے کے لئے کوئی بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاجارہاہے ۔بے روزگاردردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ان کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔موجودہ سرکار کے دورمیں کوئی بھی ترقیاتی پروجیکٹ ہاتھ میں نہیں لیاگیاالبتہ سابقہ ریاستی سرکارنے جوترقیاتی کام شروع کئے تھے ان پرہی اپنالیبل لگاکرعوام کوگمراہ کیاجارہاہے ۔ 
 

آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کی ہڑتال جاری

جموں//محکمہ سماجی بہبودکے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ کے تحت تعینات آنگن واڑی ورکر اورہیلپراپنے مطالبات کولے کرکام چھوڑہڑتال کے 122ویں دن بھی شدومدسے جاری رہی ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روزآنگن واڑی ورکرز اینڈہیلپرس یونین جموں کے پرچم تلے سمن سوری کی قیادت میں پریس کلب کے باہراحتجاجی دھرنادیا۔اس دوران یہ ورکر اپنے مطالبات جن میں آنگن واڑی ورکروں کی ماہانہ اجرت میں اضافہ اورواجب الادامشاہروں کی ادائیگی سرفہرست ہیں کی حمایت اورریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی تھیں۔اس دوران میڈیاسے بات کرتے ہوئے سمن سوری نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کولے کرلگ بھگ گذشتہ سودنوںسے احتجاجی ریلیاں اوردھرنے دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجودسرکارہماری مانگوں پرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوچاہیئے کہ وہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی جائزاوردیرینہ مانگوں کوپوراکرنے کی منظوری دیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے ہماری مانگیں پوری نہ کیں توہم اپنے احتجاج میں شدت لانے کیلئے مجبورہوجائیں گے ۔سمن سوری نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کوبالترتیب 3600اور1800روپے ماہانہ معمولی سا مشاہرہ دیاجاتاہے لیکن دہلی ودیگرریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی تنخواہ بالترتیب 10ہزاراور6ہزارروپے ماہانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جوکام یہاں پرآنگن واڑی ورکرس کرتی ہیں ،وہی کام دہلی ودیگرریاستوں کی ورکرس بھی کرتی ہیں توپھرتنخواہ میں تفاوت اورناانصافی کیوں ؟۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے خواتین کوبااختیاربنانے کے دعوے بے بنیادہیں۔انہوں نے کہاکہ تاحال ہم ریاستی حکومت سے مایوس ہیں لیکن وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے امیدکرتی ہیں کہ بحیثیت خاتون ہمارے جذبات کی قدرکریںاورہماری مانگوں کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری ہڑتال کی وجہ سے گذشتہ 100دنوں سے پورے خطے کے آنگن واڑی مراکزبندہیں۔آنگن واڑی ورکروہیلپر احتجاجی مظاہرے کے دوران مشاہرے میں اضافہ اورواجب الادا مشاہروں کی ادائیگی کے علاوہ سینارٹی فہرستیں جاری کرنے ، پنشن سکیم لاگوکرنے اورریٹائرمنٹ کے وقت آنگن ورکروں اورہیلپروں کے حق میں بالترتیب دولاکھ اورایک لاکھ گریجویٹی منظورکرنے کی مانگیں کررہی تھیں۔قابل ذکرہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ 28ہزارآنگن واڑی ورکراورہیلپرس کام کررہی ہیں۔