مزید خبرں

پارٹی کارکنان کانگریس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں:ٹھاکربلبیرسنگھ

 چھاترو میں متعدد سیاسی کارکنان کی کانگریس میں شمولیت کا دعویٰ

کشتواڑ//سب ڈویژن چھاتروعلاقہ جات کے دوران سینکڑوں سیاسی کارکنان نے مختلف پارٹیوں کوخیربادکہتے ہوئے کانگریس کاہاتھ تھام لیا۔نئے کارکنان کی کانگریس میں شمولیت کے سلسلے میں جموں وکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کے نایب صدرورکن اسمبلی اندروال غلام محمد سروڑی کی رہائش گاہ پرکشتواڑمیں ایک تقریب منعقدہوئی جہاں نئے لیڈرا ن کاپارٹی میں والہانہ استقبال کیاگیا۔اس موقع پرایم ایل سی ٹھاکربلبیرسنگھ بھی موجودتھے۔جی ایم سروڑی نے اس موقع پربولتے ہوئے کہاکہ کانگریس میں آئے روز سیاسی لیڈران وکارکنان کی شمولیت سے ہمیں بدلتے حالات کااندازہ ہوتاہے،لہٰذاپارٹی نوجوانوں کو بہترین پلیٹ فارم مہیاکراتی ہے، اورپارٹی کے نئے قومی صدرراہول گاندھی کے نظریات سے متاثرہوتے ہوئے نوجوان نسل کانگریس کی جانب متوجہ ہورہی ہے۔سروڑی نے کہاکہ انہیں یقین ہے یہ رجحان کانگریس کوملک کی مضبوط ترین جماعت بنائے گا۔سروڑی نے نئے کارکنان کی شمولیت پراُمیدظاہرکی کہ وہ تندہی سے کام کریں گے اور پارٹی مضبوطی کی جانب گامزن ہوگی ،مزید علاقے میں بھائی چارے کوفروغ ملے گا۔اس موقع پربولتے ہوئے ایم ایل سی ٹھاکربلبیر سنگھ نے کہاکہ کانگریس کارکنان پارٹی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور کارکنان کوہمیشہ ساتھ رکھاجاتاہے اورانہیں ساتھ لیکرہی پارٹی آگے بڑھتی جارہی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ کانگریس کی بھاگ ڈور اب ہردلعزیزرہنماراہول گاندھی کے ہاتھ میں ہے جوانتہائی ذہین اورسیاسی بصیرت سے مالامال ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ راہول گاندھی جموں وکشمیرمیں قیام امن وتعمیروترقی کیلئے کوشاں ہیں۔بلبیرسنگھ نے مزیدکہاکہ پارٹی کارکنان زمینی سطح پراپنی سرگرمیوں کووسعت دیں اور پارٹی کے پروگراموں کو گھرگھرپہنچانے کیساتھ ساتھ عوامی مسائل سے بھی روشناس ہوتے رہیں۔اس موقع پرپارٹی میں شمولیت اختیارکرنے والے نئے کارکنان نے پارٹی اورپارٹی لیڈرشپ میں مکمل اعتمادکااِظہارکرتے ہوئے کانگریس کی زمینی سطح پرمزیدبہتری ومضبوطی کیلئے لگن سے کام کرنے کااعادہ کیا۔اُنہوں نے کانگریس میں شمولیت کواپنے لئے باعث فخرقرار دیتے ہوئے عوام کی خدمت کااعادہ کیا۔
 
 
 
 

وطن کی فکر کر نادان 

 صیہونیت اورہندوتو میں گہری مماثلتیں ہیں کہنے کی ضرورت نہیں کہ دونوں کی قیادتیں ابتداءسے ہی سود خور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں رہی ہیں۔ یہ بھی دُہرانے کی ضرورت نہیں کہ ۰۹۹۱ءکے آس پاس اشتراکیت واشتمالیت پر سرمایہ داری کی فتح سے ن دونوں کی رگوں میں نیا خون دوڑ گیا اوران کے روابط میں نئی گرم جوشی آئی ۔ جہاں ہندوستان میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی اقتدار میں آگئی وہیں اسرائیل میں انتہا پسندوں کی جماعت لیکود پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگیا ۔ جس کی قیادت کی باگ ڈورصابرہ شتیلہ کے قصائی ایریل شیرون کے ہاتھوں میں تھی۔ وقت کی اس کروٹ نے دنیا کی دو انتہائی خطرناک تحریکوں میں گہرے روابط کو مزید گہرا اور طاقتور بنا دیا ۔ ہندوستان میں دہشت گردانہ وقعات کی تحقیقات میں ملوث مشہور آئی پی ایس افسر ہیمنت کرکرے نے پایا کہ ہندوستانی فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل، اس کے فوجی اور غیر فوجی ساتھ یاور ہندوتوناواز تنظیموں کے لوگ اسرائیل کی مدد سے ہندوستانی حکومت (کانگریس سرکار) کا تختہ پلٹ کر ملک کے اقتدار کو ہندو نواز تنظیم کو سونپ دینے کی سازش میں عمل پیرا ہیں۔ دوسرا رُخ یہ ہے کہ بھارت کو اشتراکیت کے زوال یعنی سقوط ماسکو کے بعد یہ احساس شدت سے ہواکہ پچھلے چالیس تک فلسطینیوں کی حمایت کرنے سے اِسے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ اس ملک جہاں کروڑوں مسلمان آباد تھے پاکستان اور دوسری مسلم ممالک کی مخالفت کے باعث وہ (او آئی سی) اسلامی سربراہ کانفرنس کا رُک نہیں بن سکا۔ ۱۹۹۱ءمیں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان میڈرڈ امن معاہدہ نے بھی ہندوستان کی سوچ کو متاثر کیا ۔ ہماری ہندوستانی سرکار سوچنے لگی کہ دنیائے عرب اور دوسرے مسلم ممالک اب اسرائیل سے مفاہمت چاہتے ہیں لہٰذا اسے بھی اسرائیل حکومت کے خلاف معاندانہ روّیہ ترک کرنا چاہئے۔ یہی وہ عوامل تھے کہ ۲۹۹۱ءمیں نرسمہاراو¿ سرکار نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے ۔ یہ دوستی کی شروعات تھی اور اس کے بعد تو عسکری ، سائنسی ، معاشی اور زرعی شعبوں میں اسرائیل ۔ہند روابط تیزی سے بڑھنے لگے ، سوشلسٹوں کو بھی یہودی لال نے شیشے میں اُتارنا شروع کردیا ۔۷۹۹۱ءمیں اسرائیلی وزیراعظم اور صدر ایزرویز مان نے ہندوستان کا دورہ¿ کیا اور تب ہماری فوج کے شدید دباو¿ پر سوشلسٹ وزیراعظم دیوگوڑا نے اسرائیل سے میزائل خریدنے کا معاہدہ کرلیا ۔ اور آگے چل کر اسرائیل اور ہندوستان میں قربت کی ہوا کی رفتار سے بڑھی جب بی جے پی برسراقتدار آگئی۔ بی جے پی کہنے کو تو ایک قوم پرست جماعت ہے مگر اس کے بیشتر رہنما آر ۔ ایس ۔ ایس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کے بانی دامودر ساورکر ۔ ان کے ذہنی اور فکری گورو ڈاکٹر بی ایس مونچے۔ ڈاکٹر کیشو ہیڈگوار، ایم ایس گوالکر ۔ ان یہودی رہنماو¿ں کے خیالات اورنظریات سے کافی حد تک متاثر تھے ۔ جنہوں نے صیہونیت کی بنیاد رکھی ۔ ان یہودی رہنماو¿ ں میں موسس ہیس'Moses Hess' یہودالکالی، لیون پنکر ، تھیوڈورہرزل اور ولادمیر ، جابو تینکل نمایاں ہیں۔ جس طرح صیہونیت کے بانیوں نے یہ وکالت کی فلسطین صرف یہودیوں کا ہے چنانچہ عربوں کو وہاں سے نکل جانا چاہئے ۔ اسی طرح RSSکے رہنماو¿ں کی بھی یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ مسلمان بھارت سے نکل جائیں ہدنو (سپر میسی) غلبہ قبول کرلیں ۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران 1924 میں سب سے پہلے آر ایس ایس کے گوالکر نے اس طرح کے خیالات کااظہار چھوٹے چھوٹے جلسوں اور اخبارات کے ذریعے ایک مہم چلا کر کیا 1947 کے ابتداءمیں اس مہم میں شدت آئی اورقائد پاکستان محمد علی جناح کے منہ میں دوقومی نظریہ کے الفاظ ٹھونسے گئے ۔ جس کا ذکر موجودہ دور کے لیڈران بھی دبے الفاظوں میں کردیتے ہیں۔ جیساکہ میں نے ذکر کیا ہے کہ دو نوں ممالک BJP اوراسرائیل کی نظریات مطابقت ایک دوسرے کے زیادہ قریب لے آئی۔ اور یہ قربتیں ہر دن بڑھ رہی ہیںحالانکہ امریکہ اور جرمنی می بھی جو قوم پرستی تھی وہ قوت اور حالا ت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی گئی لیکن ان ملکوں کے سابق رہنماو¿ں کے ایجنڈے کو BJP آرا یس ایس نے اپنے ملک ہندوستان پر مسلط کرنے کا ارادہ کررکھا ہے۔ یہاں تک کہ اب ملک کے ان دماغوں کو جو حقیقت میں ملک کا نظام چلاتے ہیں ۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار کی اصل باگ ڈور ہوتی ہے ان کی تربیت کے لئے ان کو اسرائیل بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ آخر ہمارے نو منتخب آئی پی ایس افسروںکو ملک میں امن وامان ، قانونی حکمرانی قائم کرناے کے کون سے گر ہیں جو دنیا کے گُرو ہندوستان ان کو نہیں سکھاسکتا ۔ کیا ہمارے پاس چانکیہ کی سیاست نہیں یا چندر گپت موریہ کی جرا¿ت شجاعت اور ذہانت ودانشمندی نہیں؟ ہم اسرائیل سے کیا سیکھ رہے ہیں یا کیا لے رہے ہیں ۵۱۰۲ءاس کا واضح اشارہ اس وقاعہ میں موجود ہے کہ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد لاناچاہتی تھیں۔ مگر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اسپیکر نے اس کی اجازت نہیں دی یہ پہلا موقع تھا کہ ہمارے حکمران مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی نہ کرسکا ۔ یہی نہیں بی جے پی کے اشارے اورحمایت سے ہندو قوم پرستوں نے کلکتہ میں ایک جلوس نکال ڈالا اور یوں دُنیا کو اشارتاًپیغام دیا گیا کہ ہندوستان اسرائیل کا قریبی دوست ہے۔۹۶۹۱ءکے حوالے سے مو¿رخین لکھتے ہیں کہ جب ہندوستان کی انٹلی جنس ایجنسی را Raw کی بنیاد رکھی گئی تو آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی نے RAWکے پہلے چیف رامیشور ناتھ کاو¿ کو حکم دیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطہ قائم کریں اوربھارتی جاسوسی کے شعبے میں موساد ایجنسی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اسرائیل حکومت شروع سے ہی جاسوسی کے شعبوں می وسیع پیمانے پر تحقیقی وترقی کرنے میں مصروف رہتی ہے ، تو دوسری جانب جدید ترین مہلک ہتھیار بنانے می اربوں ڈاکٹر خرچ کرتی آرہی ہے ۔ آج اسرایل چوٹی کے سائنسدان اور دیگر ہنر مند رکھتا ہے ۔ حتیٰ کہ امریکی ماہرین عسکرئیت بھی نت نئے ہتھیار بنانے میں اسرائیلیوں سے مدد لیتے ہیں ۔ دور جدید کامہلک ترین ہتھیار ڈرون DRONEبنیادی طورپر اسرائیلی ایجاد ہے ۔ یہودی سائنسدانو کے تجربات اورایجادات سے فائد ہ اٹھانا ایک بات ہے لیکن ان کے نظریات کو اپنا لینا اور اس کے قدموں پر سرڈالدینا ہندوستان جیسے کثیر قوموں والے ملک کے مفاد میں نہیں۔ وقت تیزی کے ساتھ بدلتاجارہاہے۔ ہمارے ملک میں نظریاتی اختلافات کو قومی اور مذہبی اختلافات میں بدلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں ایک نئی ایجاد سامنے آرہی ہے لیکن ہمارے ملک میں مذہب کا نام لیکر لوگوں کے دل ودماغ میں فرقہ پرستی اورفرقہ بندی کازہر گھولا جارہاہے ۔ آج جس طرح کا ماحول بنتا جارہاہے تو اس پر علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل صحیح اور موزوں لگتا ہے کہ 
رُلاتا ہے تیرا نظارہ اے ہندوستان مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں
ہوائے امتیاز ملت وآئیں کی موجوں نے
غضب کا تفرقہ ڈالا تیرے خرمن کے دانوں میں
وطن کی فکرکرناداں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
 نہ سمجھو گے تو مٹ جاو¿ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اب ہمارے ملک کو آزاد ہوئے ۱۷ سال ہوچکے ہیں مگر ہمارے ذہن می ابھی بھی غلام ہیں ہمیں بھڑکایا جارہاہے تو ہم بھڑک جارہے ہیں ۔ ہم پر لگائی گئی تہمتوں کو جائز کہا جاتا ہے ۔ ہمیں ہر شعبے میں پچھلی قطاروں میں رکھا جاتا ہے تو ہم خاموش ہیں۔ ہم جی حضوری کے قائل ہوچکے ہیں کیوں کہ ہمارے ذہن ابھی غلام ہیں۔ ہماری پیروی کرنے والے اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہاں پر پہلی نجوڑ نکلتا ہے کہ یا تو ہم نااہل ہےں بھروسے کے قابل نہیں یا ہم خود ہی شکر اورصبر کرکے خاموش ہیں۔

ایم اسلم خان،جموں

7851106355
 
 

۔2008 کا ناقابل فراموش زخم 

حادثات چاہے کسی بھی صورت میں ظہورپذیرکیوں نہ ہوں ، بنی نوع انسان کےلئے تکالیف اورغموں کے پہاڑلے کرہی آتے ہیں۔حادثات چاہے سیلابی ریلے کی صورت میں ہوں یا فسادکی صورت میں یاکسی اورصورت میں حادثہ ہوتاہے جواپنے پیچھے اپنی یادوں کے ایسے ناسور چھوڑجاتاہے جوتمام عمررِستے رہتے ہیں مگرحادثے کے بعدحادثے کاشکارکنبے پرکیاگذرتی ہے اس کااندازہ اس کنبے کے افرادکے سِوا کسی دوسرے کونہیں ہوسکتاہے۔۷۲ اگست،۸۰۰۲ کاسورج بھی ایک ایساہی حادثہ اپنے ساتھ لیکرآیا، یہ حادثہ شدت پسندوں کی دین تھاجس میں ایک ہونہارنوجوان اپنے والدین ، بھائی بہنوں ، رشتہ داروں ، عزیزواقارب اورقریبی دوستوں کوچھوڑکرچندہی سیکنڈوں میں دُنیاکوخیربادکہہ گیا۔کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ہماراپیارااتناجلدہم سے جداہوجائے گالیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے انسان کربھی کیاکرسکتاہے۔ موت توایک بہانہ ہے اوراس کاوقت متعین ہے۔ ملک الموت اللہ کی جانب سے سونپاگیاکام عین وقت پرپوراکرتاہے۔یہ انسان ہے جواشرف المخلوقات کادرجہ رکھنے کے باوجودفرمانِ اِلٰہی کوٹھکراتاپھرتاہے۔بے شک انسان ایساکرکے گھاٹے کاسوداہی کرتاہے۔ جولائی۔ اگست ۸۰۰۲ میں جس وقت امرناتھ یاتراجموں وکشمیرمیں جاری تھی ، اسی اثنامیں سیاستدانوں نے امرناتھ زمینی تنازعہ کوجنم دے کرایسے حالات پیداکئے جن سے آج بھی ہمیں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ امرناتھ زمینی تنازعہ کوسیاستدانوں نے سیاسی رنگت دے کرہندومسلم مسئلہ کے طورپرا±جاگرکیا۔ا±س وقت ریاست جموں وکشمیرکی سرمائی راجدھائی جموں اورگرمائی راجدھانی کشمیرجوکہ دوالگ الگ صوبوں کے صدرمقام ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں کے لوگوں کوآپس میں مذہب کے نام پرلڑانے کی مذموم کوششیں عروج پرتھیں۔ہرگذرتے لمحے اوردِن کے ساتھ دونوں صوبوں کے لوگوں کوہندومسلم فسادکے آغازکادِن اورلمحہ قریب محسوس ہورہاتھا۔ جموں صوبہ جوکہ دس اضلاع پرمشتمل ہے میں مسلمان طبقہ کے لو گ اقلیت میں ہیں اورکشمیرمیں صورتحال اس کے برعکس ہے۔جہاں جموں کے ہندوﺅں کوکشمیرمیں مقیم ہندوﺅں کی فکرستارہی تھی وہیں کشمیرکے لوگوں کوصوبہ جموں کے مسلمانوں کوفکرتھی۔جموں میں جب سڑکوں پرٹائرجلاکربم بم بولے کے نعرے دیئے جاتے تومسلمان طبقہ کے لوگ سہم جاتے۔اوریہ خدشہ محسوس کرتے کہ فسادابھی شروع ہواکہ ہونے والا ہے ۔ظاہرسی بات ہے کہ کشمیرمیں اقلیتی آبادی ڈری ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ کاریاست جموں وکشمیرکے لوگوں پراحسان عظیم تھاکہ امرناتھ زمینی تنازعہ جوایک وبال کی صورت اختیارکرچکاتھا۔وہ فرقہ وارانہ آتش فشاں کی صورت اختیارنہ کرسکا۔نامساعدحالات کے دوران ہی ۷۲ اگست کادِن آن پہنچا،جس کی صبح کاسورج میرے ایک قریبی دوست شبیت حسین کےلئے موت کاپیغام لیکرآیا، اس دوست کے ساتھ میراتعلق چھٹی جماعت میں قائم ہواتھا، جب میں نے اوراس نے ایک ساتھ گوجربکروال ہوسٹل میں داخلہ لیاتھا۔اس کے بعدشبیت اورمیں نے سات برس تک یعنی چھٹی سے بارہویں جماعت تک کاسفرایک ساتھ طے کیا۔ ہمارے ہم جماعت دیگرساتھی بھی تھے جوایک ساتھ پیارومحبت کے ساتھ رہتے تھے۔گوجربکروال ہوسٹل جموں میں ایک ساتھ زمانہ طالب علمی کے دوران گذار ے ہوئے زندگی کے حسین لمحے۔آج بھی جب یادآتے ہیں تودِل روپڑتاہے۔ آج بھی مجھے لگتاہے کہ کل کی بات ہے کہ میں اورشبیت ایک ساتھ کھیلاکرتے تھے، ایک ساتھ سکول جایاکرتے تھے اورکبھی کبھی آپس میں جھگڑبھی لیتے۔کبھی کلاس میں اول اوردوئم آنے پراورکبھی کلاس کامانیٹربننے کے معاملے پر۔اورکبھی کلاس میں سب سے پہلے ڈیسک پربیٹھنے پر۔شبیت کے ساتھ گذارے حسین لمحوںکی یادیں آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ہرسال اگست کامہینہ شبیت کی یادوں کی سوغات لیکرآتاہے اورشبیت کے ساتھ گذارے حسین لمحے اس مہینے میں میرے لیے کرب اورتلخ یادیں لیکرآتے ہیں۔ ۷۲اگست ،۸۰۰۲ کوگذرے آٹھ سال کاعرصہ ہونے والاہے لیکن آج بھی ایسالگتاہے کہ شبیت ہم سے جدانہیں ہوابلکہ آج بھی ہم میں موجودہے۔میرادِل اپنے دوست کوآج بھی پکارا±ٹھتاہے کہ تم کہاں ہو!۔کیااتنی ہی دوستی نبھانی تھی اوراپنے ساتھیوں کوغموں کی سوغات ہی دینی تھی توکچھ سال اورر±ک جاتے۔اگست 2008 میں،میں ایک ا±ردوروزنامے میں کام کررہاتھا۔27 اگست کی صبح میں اپنے ایک رشتہ دارکے گھرمیں تھاجوکہ رائے چوک سے آدھاکلومیٹردورتھا۔اچانک بندوق کی گولیوں کی گونج سنائی دی۔اورپھرچندہی منٹوں کے بعدبذریعہ فون شبیت کی شہادت کی خبرموصول ہوئی۔خبرتھی کہ ملی ٹینٹوں نے رائے پورچوک میں گولیمارکرکے ایک لڑکے کوشہیدکردیاہے۔فون کرنے والے نے یہ بھی بتایاکہ شبیت حسین اپنے بڑے بھائی شوکت علی جوکہ پولیس محکمہ میں ملازمت کرتاہے کیساتھ جموں میں کالج پڑھنے کےلئے جارہاتھا۔یہ خبرسن کر میرے پاﺅں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔دِل کافی ا±داس ہوالیکن رنج وغم کے سواکربھی کیا سکتاتھا۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیرفرقہ پرستی کی لپیٹ میں تھی۔ اپنے دوست کی قبرپرمیں صحافت کے پیشے کے فرائض انجام دینے کی خاطرنہ پہونچ سکا۔حالات نازک تھے اوراخبار کاکوئی بھی کمپیوٹرآپریٹردفترنہ پہونچ سکاتھا۔دفتروالوں نے پریس کی گاڑی بھیج کرمجھے اخبارتیارکروانے کےلئے رائے پورسے ا±ٹھالیا۔میں چاہتاتھاکہ میں خیری جاﺅں مگرکیاکرتا۔۔ایک طرف صحافت کاپیشہ جوہمیشہ صحافیوں کواپنے دوستوں ،اوررشتہ داروں سے دوری بنائے رکھنے کاکام کرتاہے۔اس پیشے نے مجھے اس دن کافی مایوس کیا۔جس طرح سے 2008 میںشبیت حسین سمیت کئی افرادشدت پسندی اورفرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھے۔اسی طرح کشتواڑمیں بھی 2013میں فرقہ پرستی کی زدمیں دوافرادنے جانیں گنوائیں۔ہراگست شبیت کے لواحقین اورکشتواڑکے سانحے میں جاں بحق ہوئے افرادکے لواحقین کےلئے کسی اذیت یاعذاب سے کم نہ ہوگا۔شبیت حسین اصل میں ۸۰۰۲ کاہیروہے جس نے حالات کوپرامن بنانے کی خاطراپنی جان کی قربانی دی۔سلام ہواس شہیدپرجس نے جموں وکشمیرریاست کی فضا ءکواپنی شہادت سے معطرکرکے امن قائم کیا۔۹اگست ۳۱۰۲کوعیدالفطرکے روزا±س وقت کشتواڑمیں فسادبھڑک ا±ٹھاجب حالات بھی سازگارتھے اورہندومسلم طبقہ کے لوگوں کے درمیان کوئی تنازعہ بھی نہ تھا۔ لوگ پرامن طریقے سے رہ رہے تھے۔ نہ جانے کن فرقہ پرست طاقتوں نے عیدگاہ کشتواڑپہنچ کرفسادکےلئے حالات سازگاربنائے اوراس فسادکی زدمیں آکردوافرادکی جانیں تلف ہوئیں۔فسادکوبھڑکنے سے روکنے کےلئے کشتواڑکی انتظامیہ نے سرگرم رول اداکرکے حالات کوقابوکرلیا اوردونوں طبقوں کے ذی شعورلوگوں نے معاشرے کوامن وبھائی چارے کی بحالی کےلئے کردارنبھانے کےلئے آگے آنے کی تلقین کرتے ہوئے صدیوں پرانے آپسی بھائی چارے کوبرقراررکھنے کی اپیل کی۔ریاستی سرکارکی جانب سے کچھ فیصلے بروقت لئے گئے جس نے حالات کوجلدپٹری پرلانے میں اہم کرداراداکیا۔عیدالفطرکے روزکشتواڑمیں پیش آئے فسادکی وجہ سے نہ صرف صوبہ جموں میں وہی حالات پیداہوئے جوجولائی اگست ۸۰۰۲میں پیداہوئے تھے بلکہ اگست ۳۱۰۲کے حالات سے بھی فرقہ پرستی کی وہی بوآرہی ہے جوجولائی اگست ۸۰۰۲کوفضاﺅں میں بکھری ہوئی تھی۔فسادکے نتیجے میں جن افرادکی جانیں تلف ہوئیں۔ان کے لواحقین کوسرکارنے پانچ پانچ لاکھ روپے بطورایکس گریشیاریلیف دینے کااعلان کیاہے۔ سوال یہ ہے کیا فسادات کے نتیجے میں تلف ہوئی جانیں واپس لوٹ آئیں گی۔مذہب کامسئلہ حساس مسئلہ ہوتاہے لیکن مذہب کے مسئلے پرانسان مذہب کے درس کوکیوں بھول جاتاہے۔کیوں انسان انسانیت کوشرمسارکرنے پرتل جاتاہے۔کیوں باباآدم کی اولادہونے کے باوجودآدمی آدمی سے مذہب کی بناءپرنفرت کرناشروع کرتاہے اوراس کاذہن کیوں مذہب کے درس کوترک کردیتاہے۔جن لوگوں نے فسادجیسے دلدوزحادثے کے نتیجے میں اپنے پیاروں کوکھویاان کاغم کوئی دوسرامحسوس نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے د±عاگوہیں کہ شد ت پسندوں اورفرقہ پرستی کی لپیٹ میں آکرجانیں گنوانے والے افرادکے لواحقین کوصبروجمیل عطافرمائے اورکسی کاپیاراشدت پسندی اورفرقہ پرستی کی آگ کی لپیٹ میں نہ آئے۔ کیونکہ یہ آگ بڑی بھانک ہوتی ہے اوراس کی تپش کوسہنابہت ہی جگروگردے کاکام ہے۔ہم سب کوفرقہ وارانہ ہم آہنگی کوفروغ دینے کےلئے کام کرناچاہے اورہر مسئلے کوافہام وتفہیم سے حل کرنے پرترجیح دینی چاہے۔ طارق ابرار
رابطہ نمبر 9107868150