مزید خبرں

درہال کے تین افراد ڈھانگری جیل منتقل 

درہال //درہال کے تین افراد کو پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں بشمول منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کی پاداش میں احتیاطی طور پر حراست میں لے لیاہے ۔پولیس نے ان افراد کی شناخت محمد لطیف ولد محمد ایوب ساکن ناریا ں درہال ،سلیمان قیصر ولد ذوالقرنین ساکن سگراوٹ درہال اور محمد شعبان ولد عبدالمجید ساکن ٹوپہ درہال کے طور پرکی ہے ۔انہیں ضلع جیل ڈھانگری منتقل کیاگیاہے جن کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر107/151/110سی آر پی سی کا کیس درج کیاگیاہے ۔یہ کارروائی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے احکامات پر ایس ایچ او درہال حبیب پٹھان کی قیادت میں کی گئی ۔
 

بدھل کے سموٹ علاقے میں پانی کا بحران 

بدھل //راج نگر بدھل کی پنچایت سموٹ میں پینے کے پانی کا شدید بحران پایاجارہاہے جس وجہ سے مقامی لوگ پریشان حال ہیں۔مقامی شہری محمد صادق ملک نے بتایاکہ محکمہ صحت کے نیڈ بیس ورکر ڈیوٹی سے غائب ہیں اور اب پانی کی سپلائی فراہم کرنے والاکوئی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کا کام کاج ایک مذاق بن کر رہ گیاہے اور کوئی ذمہ داری سے کام نہیں لے رہا۔انہوں نے بتایاکہ دس روز سے ان کے علاقے میں پانی نہیں اور لوگ ایک ایک بوند کو ترس گئے ہیں لیکن محکمہ کا کوئی ملازم نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ اس دور میں بھی پانی کی سہولت کا فراہم نہ ہوناباعث افسوس ہے ۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری سے اپیل کی کہ پانی کی فراہمی کویقینی بنایاجائے ۔
 

سرنکوٹ میں مدرسے کے 3طلاب پراسرار طور پر لاپتہ 

سمت بھارگو
 
راجوری //سرنکوٹ کے موہڑہ بچھائی علاقے میں چل رہے ایک مذہبی مدرسے کے تین کمسن طلباء پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں جس پر پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔لاپتہ ہونے والے طلباء کی پہچان چودہ سالہ ثاقب علی ولد لیاقت احمد،پندرہ سالہ ابرار حسین ولد محمد افضل اور سولہ سالہ پرواز احمد ولد محمد اکرم ساکنان موہڑہ بچھائی کے طور پرکی گئی ہے ۔یہ طلباء محب الاسلام مدرسہ موہڑہ بچھائی میں زیر تعلیم تھے جہاں سے وہ سنیچر کی صبح لاپتہ ہوگئے جس پر مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے پولیس کے پاس گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ ان میں سے ایک گزشتہ سال بھی لاپتہ ہوگیاتھاجسے بعد میں سرنکوٹ میں اس کے ایک رشتہ دار کے گھر سے بازیاب کیاگیا۔ایس ایس پی راجوری راجیو پانڈے نے بتایاکہ تینوں طلباء لاپتہ ہیں جن کے بارے میں پولیس تھانہ سرنکوٹ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی ہے اور پولیس ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے ۔
 

پونچھ کے بھینچ گائوں میں پانی کی شدید قلت 

حسین محتشم
 
پونچھ//پونچھ قصبہ کے ملحقہ گائوں بھینچ میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔اس سلسلہ میں مقامی لوگوں کی طرف سے محکمہ پی ایچ ای کے خلاف ایک پرامن احتجاج کیاگیا جس کی قیادت مولانامدثرقادری نے کی ۔مظاہرین نے محکمہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہاکہ ایک ماہ سے اس گائوں کے عوام  پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں بار بار محکمہ کے اعلیٰ آفیسران تک رسائی کی گئی لیکن ان کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔انہوں نے کہا کہ گرمی کا زمانہ ہے اورپانی نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔احتجاجی مظاہرہ کافی دیر تک جاری رہنے کے بعد متعلقہ محکمہ کے افسر وہاں پہنچے جن کی یقین دہانی پر لوگ پرامن طور پر منتشر ہوگئے ۔تاہم انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر پانی کی سپلائی کا معاملہ حل نہ ہواتو وہ پھر سے احتجاج کی راہ اختیار کریں گے ۔
 

تھنہ منڈی کے آنگن واڑی مراکز غذائیت سے خالی 

طارق شال 
 
تھنہ منڈی //آئی سی ڈی ایس درہال کے تمام آنگن واڑی مراکز خالی پڑے ہوئے ہیں ۔اس آئی سی ڈی ایس کا ہیڈ کوارٹر تھنہ منڈی میں ہے جس میں کل 287آنگن واڑی مراکز چل رہے ہیں تاہم یہ الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ یہ مراکز بند پڑے ہوئے ہیں ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ متعلقہ حکام کی لاپرواہی سے یہ مراکز خالی پڑے ہوئے ہیں اور اس وقت تک محکمہ کی طرف سے غذائی اجناس کی فراہمی نہیں ہوئی ۔ مقامی غیر سرکاری تنظیموں نے الزام عائد کیاہے کہ ریاستی گورنر انتظامیہ کو ان مراکز کی فکر نہیں ۔انچارج سی ڈی پی او تھنہ منڈی کرامت بیگم کاکہناہے کہ صرف تین غذائی اجناس موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے جس میں بی ڈی او تھنہ منڈی اور بی ایم او درہال ہیں جس کی رپورٹ کے بعد غذائی اجناس تقسیم کی جائیں گی ۔
 

لڑکی کی اغواکاری کامعاملہ 

مینڈھر میں لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا

جاوید اقبال 
 
مینڈھر //مینڈھر کے کاس بلاڑی علاقے کے لوگوں نے ایک لڑکی کے اغواکے معاملے پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران مینڈھر جموں اور مینڈھر پونچھ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کئی گھنٹوں تک بند رہی ۔اس لڑکی کو پچھلے ماہ کی پچیس تاریخ کو اغوا کیاگیا جس پر پولیس تھانہ مینڈھر میں ایک کیس بھی درج ہوا اور بالآخر پولیس نے اغواکار محمد امزاد ولد محمد لطیف ساکن اوچھادسمیت لڑکی کو چندی گڑھ سے بازیاب کرتے ہوئے گزشتہ رات مینڈھر پہنچایااور پھر اہلکاروں کی بھاری نفری کے بیچ عدالت لیجاکر اس سے بیانات دلائے ۔اس دوران لڑکی کے رشتہ داروںنے مینڈھر پہنچ کر احتجاج کیا اورمینڈھر جموں روڈاور مینڈھر پونچھ روڈ ٹریفک کی نقل و حرکت کیلئے بند کردی ۔انہوں نے پولیس تھانہ مینڈھر کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا۔احتجاج اوردھرنے کا سلسلہ صبح نو بجے سے لیکر دن کے ایک بجے تک جاری رہاجس کے بعد پولیس نے بات چیت کرکے ماحول ٹھیک کیا اور سڑکیں کھلوائی گئیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ اغواکار کی طرف سے لڑکی کی جعلی تاریخ پیدائش پولیس کے سامنے پیش کی گئی جس میں اس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد بتائی گئی جبکہ لڑکی کے رشتہ داروں نے سکول سے اس کی تاریخ پیدائش لاکر پیش کی جس میں وہ نابالغ نکلی ۔تاریخ پیدائش کی تحقیق ہونے کے بعد پولیس نے اس کو والدین کے حوالے کردیااور اس سلسلے میں تھانہ میں پہلے سے ہی درج ایف آئی آر زیر نمبر 144کی تحقیقات جاری ہے ۔لڑکی کے رشتہ داروں کاکہناہے کہ جعلی سرٹیفکیٹ کی تحقیقات کی جائے اور یہ بھی واضح کیاجائے کہ پولیس نے کیوں اتنی عجلت میں اسے عدالت لیجاکر اس کے بیانات قلمبند کروائے۔
 

روبیلا و خسرہ مخالف ویکسین

5دنوں میں 15618بچوں کا احاطہ کیاگیا

راجوری //محکمہ صحت نے روبیلا و خسرہ مخالف مہم جاری رکھتے ہوئے پانچ دنوں میں ضلع راجوری کے 15618بچوں کا احاطہ کیا ۔یہ ویکسین پورے ملک میں چلائی جارہی ہے اورراجوری میں بھی اسے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں و ڈپٹی کمشنر راجوری کی نگرانی میں چلایاجارہاہے ۔اس ویکسین کیلئے ایک روڈ میپ تیار کیاگیاہے اور پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں بشمول دینی تعلیمی اداروں میں بچوں کو ویکسین دی جائے گی جس کے بعد طبی مراکز میں یہ کام مسلسل جاری رہے گا۔ضلع امیونائزیشن افسر ڈاکٹر انیس نبی نے بتایاکہ چیف میڈیکل افسر راجوری ڈاکٹر سریش گپتا کی قیادت میں ضلع بھرمیں مہم چلائی جارہی ہے اور نو ماہ سے لیکر پندرہ سال تک کے بچوں کو یہ خوراک دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ پانچ روز میں 15618بچوں کا احاطہ کیاگیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ ابتدا میں کچھ مسائل کاسامناکرناپڑاتاہم اب لوگوں کی طرف سے بھرپورتعاون مل رہاہے ۔دریں اثناء سنیچر کو نیشنل پبلک ہائراسکینڈری سکول راجوری میں ویکسین کا اہتمام کیاگیا جس دوران 550طلاب کو یہ ویکسین دی گئی۔
 

ساوجیاں میں روبیلا و خسرہ مخالف ویکسین کا آغاز

عشرت حسین بٹ
 
 
منڈی//ریاست بھر کی طرح بلاک منڈی میں بھی 28 ستمبر کو روبیلا وخسرہ ویکسین کا آغاز ہوا جس کا افتتاح سرحدی علاقہ ساوجیاں کے سب سینٹر میں تعینات میڈیکل آفیسر ڈاکٹر علی محمد نے کیا۔ اس موقعہ پر نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین، مستقل فارماسسٹ اور سپروائزر بھی موجود تھے جنہوں نے گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول اور گورنمنٹ مڈل اسکول ساوجیاں کے طلباء کو ویکسین دی۔ڈاکٹر علی محمد نے بتایا کہ پہلے اور دوسرے روز ساوجیاں کے اسکولوں میں زیر تعلیم زیادہ تر بچوں کو ویکسین دی گئی اور محکمہ صحت نے علاقہ کے تمام اسکولوں کی ہم آہنگی کے ساتھ ایک پروگرام تیار کیا ہے جس میں ہر اسکول میں پہنچ کر ٹیم بچوں کو ویکسین دے گی ۔ ڈاکٹر علی محمد نے کہا کہ اس ویکسین کا بنیادی مقصد بچوں کومیزل اور روبیلا جیسی مہلک بیماریوں سے بچانا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بھی اس عمل میں تعاون دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بیماری ماں سے اس کی اولاد میں منتقل ہوتی ہے اور آگے چل کر اس وجہ سے پیدائش میں نقائص سامنے آتے ہیں اور اسی سب کو ختم کرنے کے لئے آشا و آنگن واڑی ورکر ساوجیاں علاقہ کے پہلے مرحلہ میں علاقہ کے تمام بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔