مزید خبرں

خراب موسمی حالات 

 پونچھ میں4کچے مکانوں سمیت5ڈھانچے تباہ

سمت بھارگو
راجوری //حالیہ دنوں ہوئی برفباری اور بارشوں کے باعث جہاں دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچاہے وہیں ضلع پونچھ میں چار کچے مکانات سمیت پانچ ڈھانچے بھی تباہ ہوئے ہیں تاہم ضلع راجوری سے کسی ایسے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ منڈی میں دو اور سرنکوٹ کے چندی مڑھ میں بھی دو کچے مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ سرنکوٹ میں ایک گائو خانے کو بھی نقصان پہنچاہے ۔انہوںنے بتایاکہ مجموعی طور پر پانچ ڈھانچوں کو نقصان پہنچاہے تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایاکہ مغل شاہراہ کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ذیلی سڑکیں بھی ٹریفک کیلئے بند ہوئی تھیں جن میں سے کئی پر ٹریفک بحال ہوگئی ہے جبکہ کچھ پر کام جاری ہے ۔راہل یادو کے مطابق پونچھ کو جانے والی بجلی کی 33کے وی اے فیڈر لائن کو نقصان پہنچاجبکہ ضلع میں 35ٹرانسفارمر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔وہیں ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد نے بتایاکہ خراب موسم کے دوران بکروال کنبے کی ایک لڑکی کی موت ہوئی جبکہ 108بھیڑ بکریاں بھی ہلاک ہوئیں تاہم اس کے علاوہ کسی طرح کے نقصان کی اطلاع نہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ ضلع بھر سے کسی بھی طرح کے ڈھانچے یا مکان کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی ۔تاہم انہوںنے بتایاکہ مین پاور سٹیشن سولکی سمیت بجلی ڈھانچے کو نقصان پہنچاہے ۔
 
 

مینڈھر میں 4ملازمین معطل 

جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر میں محکمہ صحت کے چار ملازمین کو معطل کردیاگیاہے جو اپنی ڈیوٹی سے غیرحاضر تھے ۔ایس ڈی ایم مینڈھر محمد افضل مرزا نے گزشتہ روز پرائمری ہیلتھ سینٹر چھترال کا اچانک معائنہ کیاجس دوران چار ملازمین کو ڈیوٹی سے غیر حاضر پایاگیا جس پر موصوف نے کارروائی کرتے ہوئے ان کو معطل کردیاہے۔ایس ڈی ایم نے بتایاکہ اچانک معائنے کے دوران لطیف حسین ،نصرت رانی،غلام عباس اور محمد اسلم ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے جن کو معطل کرکے بلاک میڈیکل افسر کو ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کرنے  کی ہدایت دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر محکمہ کے ملازمین ڈیوٹی پر حاضر نہیں رہیں گے تو پھر لوگوں کا کیا ہوگا اور ان کو علاج کی سہولت کیسے ملے گی ۔
 
 

منشیات کے مضر اثرات پر بیداری پروگرام 

راجوری //فوج کی طرف سے یوتھ سنٹر پلمہ راجوری میں منشیات کے مضر اثرات پر بیداری پروگرام کا انعقاد کیاگیا ۔اس دوران ایک لیکچر کے ذریعہ مقامی عوام و طلباء خاص طور پر نوجوانوں کو بتایاگیاکہ منشیات کے سماج کیلئے کیا کیا مضر اثرات ہوتے ہیں اوراس سے کس طرح سے انسانی صحت ومعاشرہ متاثر ہوتاہے ۔ فوج کے میڈیکل افسر نے بتایاکہ منشیات کے ذریعہ نوجوانوں کو ہدف بنایاجاتاہے اور پہلے انہیں بہت کم قیمت پر اشیاء فراہم کی جاتی لیکن جب وہ ان کا عادی ہوجائے تو اسے اس کے دیگر فائدے بتاکر استحصال کیاجاتاہے ۔انہوںنے طلباء کو بتایاکہ اس ناسور کے کئی کیا اثرات ہوسکتے ہیں اوراس سے کیسے دوری رکھی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ علاج سے بہتر پرہیز ہے اور ریاستی حکومت و غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے متعدد بازآبادکاری مراکز چلائے جارہے ہیں جن میں منشیات کے عادی افراد کی اصلاح کرکے انہیں معمول کی زندگی میں واپس لایاجاسکتاہے ۔انہوںنے کہاکہ منشیات کے عادی افراد کو جلد سے جلد ان مراکز میں لیجاناچاہئے ۔آخر پر سوال و جواب کا سیشن ہوا ۔
 

مینڈھر کا نڑول علاقہ 

بجلی سپلائی دوماہ سے نہ دارد ،فیس بل آنے کاسلسلہ جاری

جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر کی نڑول پنچایت کے محلہ پلون میں گزشتہ دو مہینے سے اندھیرا چھایا ہوا ہے کیونکہ محلہ کا بجلی ٹرانسفارمردوماہ سے خراب ہے جسے ٹھیک نہیں کیاگیا اورنہ ہی اس کی جگہ کوئی دوسرا ٹرانسفارمر نصب کیاگیاہے۔تاہم حیران کن امر یہ ہے کہ بجلی نہ ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو کرایہ کے بل آرہے ہیں۔مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے ملازمین نے لوگوں کو دھوکہ دیکر ایک جلا ہوا ٹرانسفارمر رات کو لگایا جو اگلی صبح تک بھی بجلی فراہم نہیں کرسکا۔ان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے کاندھے پر ٹرانسفارمر اٹھا کر سڑک تک پہنچایامگر محکمہ انتہائی درجہ کی لاپرواہی برت رہاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کے ملازمین ان سے کرایہ وصول کرنے کیلئے پہنچ جاتے ہیں مگر انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ بجلی سپلائی بھی ہوتی ہے یا نہیںاور حالت یہ ہے کہ دو ماہ سے انہوں نے بجلی کا منہ نہیں دیکھا۔سابق ممبر پنچایت حاجی عبدالعزیز کاکہناہے کہ محکمہ بجلی کے ملازمین غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں جو بجلی سپلائی تو بحال نہیں کرپائے مگر کرایہ لینے پہنچ جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ دو ماہ سے ان کا ٹرانسفارمر ٹھیک نہیں کیاگیا جس پر لاپرواہ ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب علاقہ میں بجلی نہیں تو پھر 38 گھروں میں بجلی کے بل کیوں دیئے گئے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہئے  ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ فوری طور پر بجلی سپلائی بحال کروائی جائے نہیں تو وہ مینڈھر پہنچ کر احتجاج کریں گے ۔
 
 

ناقص غذائی اجناس کی فروخت 

اہالیان راجوری ڈرگس و فوڈ کنٹرول حکام پر برہم 

عظمیٰ نیوز
راجوری //راجوری کے عوام نے ڈرگس و فوڈ کنٹرول حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی شکایت کی ہے کہ قصبہ میں ناقص غذائی اجناس کا کاروبار ہورہاہے مگر محکمہ کے افسران غفلت میں ہیں ۔مقامی لوگوںنے کہاکہ محکمہ کے افسران توقعات کے مطابق کام نہیں کررہے اور جب غیر معیاری اورناقص غذائی اجناس کی فروخت کی بات آتی ہے تو محکمہ کا رول انتہائی مایوس کن نظر آتاہے ۔ایک مقامی نوجوان امیت کمار نے بتایاکہ محکمہ کے افسران کومشکل سے کسی وقت ڈیوٹی پر دیکھاجاتاہے اور انہیں ناقص غذائی اجناس کی فروخت کی کوئی پرواہ نہیں ۔ان کاکہناہے کہ راجوری میں ناقص اور غیر معیاری غذائی اجناس کی فروخت کھلے عام ہورہی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ ایک اور شہری وشال کمار شرما نے کہاکہ نہ صرف محکمہ بلکہ ضلع انتظامیہ بھی اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کررہی اور غذائی اجناس کی جانچ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جارہی ۔انہوں نے کہاکہ زمینی سطح پر کوئی کارروائی نہیں ہورہی اور بے حسی کا مظاہرہ کیاجارہاہے ۔ وشال نے کہاکہ محکمہ کا فوڈ سیفٹی ونگ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہاہے جس کو اپنے کام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔وہیں محمد اسلم کاکہناہے کہ راجوری میں اس محکمہ کی کارکردگی مایوس کن ہے اور ادویات کئی دکانیں بھی بغیر لائسنس کے چل رہے ہیں جبکہ ناقص غذائی اجناس کی فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے  کہ محکمہ کے افسران کو اسی لاپرواہی کے باعث گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ کے دوران لوگوں کے غم وغصہ کاسامنا کرناپڑاتھاتاہم اس کے باوجود کام میں کوئی سدھار نہیں آیا ۔
 
 

خواتین کی بااختیاری پر توسیعی لیکچر کااہتما م 

سرنکوٹ //سرنکوٹ کے درابہ علاقے میں خواتین کی بااختیاری پر ایک توسیعی خطبے کا اہتمام کیاگیا ۔یہ پروگرام یونیورسل ہائراسکینڈری سکول درابہ میںہوا۔لیکچر کا اہتمام فوج کی طرف سے کیاگیا تھا جس دوران خواتین کی بااختیاری اور خودکفالی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں ان سہولیات اور سکیموں کے بارے میں بتایاگیاجو انہی کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کی گئی ہیں ۔پروگرام میں سکول کے پرنسپل ، اساتذہ ، طلباء اور مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی ۔اس دوران یہ بات اجاگر کی گئی کہ آج کے دور میں خواتین کا رول اہم ہوگیاہے اور ان کا تعلیم یافتہ و خود کفیل ہونا بھی لازمی ہے ۔ 
 

راجوری میں پنچایتی انتخابات کی تیاریوں کاجائزہ لیاگیا

راجوری //ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد جو ضلع پنچایت الیکشن افسر بھی ہیں ، نے ایک میٹنگ کے دوران پنچایتی چنائو کے سلسلے میں کی جارہی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔راجوری میں پہلے مرحلے کی پولنگ سترہ نومبر کو ہوگی جس دوران بلاک منجاکوٹ اور بلاک پنج گرائیں میں ووٹ ڈالے جائیںگے ۔میٹنگ کے دوران مختلف امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیاگیا اور خاص طور پر رائے دہندگان کا اندراج، بیلٹ پیپر، پولنگ اسٹیشن، افرادی قوت کی فراہمی ، عملے کی تربیت، پولنگ بوتھوں کیلئے درکار سہولیات کی فراہمی ، ٹرانسپورٹ سہولیات، ترسیلی منصوبے ،ووٹ شماری کا منصوبہ ودیگر معاملات زیربحث آئے ۔اس موقعہ پر ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں بتایا جس پر ڈپٹی کمشنر نے پولیس و دیگر حکام کو ہدایت دی کہ آئی ٹی آئی راجوری اور گورنمنٹ بوائز ہائراسکینڈری سکول راجوری میں عملے کی روانگی اور کلکشن سنٹر کا سروے کرکے اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے ۔انہوںنے ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایت دی کہ ٹرانسپورٹ کا بہترسے بہتر انتظام رکھاجائے تاکہ انتخابی عملے کو آمدورفت میں مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے۔عملے کی تربیت کے حوالے سے  بتایاگیاکہ انتخابات کیلئے 6000پولنگ عملے کو تربیت فراہم کی گئی ہے ۔ڈی سی نے تمام افسران پر زور دیاکہ وہ انتخابات کو صاف و شفاف طرز پر منعقد کرانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں اور تمام تر تیاریاں مقررہ مدت میں مکمل کی جائیں۔میٹنگ میں ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس ، اے ڈی سی راجوری شیر سنگھ، اے ڈی سی سندربنی گرمکھ سنگھ، اے ڈی سی نوشہر ہ سچن دیو سنگھ، اے ڈی سی کوٹرنکہ وید پرکاش، سی ای او راجوری ڈیولپمنٹ اتھارٹی طاہر فردوس، اے سی ڈی راجوری اختر قاضی ، اے سی آر راجوری محمد اشرف ، ایس ڈی ایم کالاکوٹ ،ایس ڈی ایم تھنہ منڈی ڈاکٹر تنویر خان، ضلع ٹریجری افسر راجوری عمران محمود، ضلع فارسٹ افسر ، چیف ایگریکلچرافسر، ڈپٹی ضلع الیکشن افسر راجوری امرجیوتی رینہ، ضلع پنچایت افسر ڈاکٹر عبدالخبیر، ایگزیکٹو انجینئر محکمہ بجلی منشی خان، ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای سنیل کول ، تحصیلدار و بلاک ڈیولپمنٹ افسران بھی موجود تھے ۔