مزاحمتی قیادت گرفتار و خانہ نظر بند

سرینگر //پولیس نے سنیچر کو لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک کو دوبارہ گرفتار کر کے سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے۔ ملک کو صرف جمعہ کی صبح رہا کیا گیا تھا۔ اس دوران میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر خانہ نظر بند کیا گیا اور انکے گھر کے باہر ی راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔سید علی گیلانی بدستور اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے محمد یاسین ملک کوگرفتار کرنے میرواعظ عمر فاروق کو نظر بند اور سید علی گیلانی کو مسلسل خانہ نظر بندرکھنے اور انکی رہائش گاہوں کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کرنے کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حربوں سے نہ صرف مذکورہ تحقیقاتی ایجنسی بلکہ اس کا نام نہاد تحقیقاتی عمل بھی بے نقاب ہوگیا ہے۔ قیادت نے کہا کہ اگر چہ وہ خود رضاکارانہ طور دلی جاکر این آئی اے کے سامنے گرفتاری دینے جارہے تھے تو اس پر پابندی کیوں لگا دی گئی؟۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری سطح پر بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے کہ قائدین کو دلی جانے سے نہیںروکا جائیگا اوراس ضمن میں میرواعظ کو نظر بندی سے اور محمد یاسین ملک کو جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ قائدین نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کو گرفتاری سے روکنے اور متضاد بیانات اور امن و قانون کا ہوا کھڑا کرنے سے سرکار کی دوغلی پالیسی بے نقاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ NIA کو ہراسانیوں کا عمل فوراً بند کرنا چاہئے۔ قائدین نے کہا کہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت ہندوستان فوجی طاقت کے بل پر یہاں کی پُر امن جد وجہد کو کمزور کرنے کی خاطر مختلف اداروںکا استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا پچھلے تین ماہ سےNIA کی جانب سے لگاتارچھاپے، نوٹس اور کشمیر ی عوام بالخصوص مزاحمتی قائدین، تاجر برادری، وکلاء ، صحافیوں اور طلباء کو تحقیقات کی آڑ میں پریشان کیا جارہا ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دلی میں مقیم انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن ایس اے آر گیلانی جوبقول دلی پولیس کے مزاحمتی قیادت کو ہوائی آڑے پر لینے آرہے تھے کو نظر بند رکھنے کی مذمت کی۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارتی وزیر داخلہ کی آمد پر اتوا ر10 ستمبر کی احتجاجی ہڑتال کی کال کو دہراتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس روز مکمل ہڑتال کرکے تحریک کے تئیں اپنی استقامت اور وابستگی کا مظاہرہ کریں۔