مزاحمتی قیادت کیخلاف این آئی اے کی ہراسانی قابل مذمت

سرینگر//حریت چیرمین سید علی گیلانی نے بھارت کی مرکزی ایجنسی انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے حریت کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ اور محمد اسلم وانی کے علاوہ ڈاکٹر بلقیس شاہ کو EDکی طرف سے دہلی صدر دفتر پر بار بار پیش ہونے اور کورٹ بلوال جیل میں محبوس حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری کو جیل کے اندر غیر ضروری پوچھ گچھ کرنے اور انہیں ذہنی کوفتوں میں مبتلا کرکے تنگ طلب کرنے کی کارروائیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان ظالمانہ کارروائیوں کا مقصد حریت پسند قائدین اور ان کے اہلِ وعیال کو خوف وہراس میں مبتلا کرکے تحریکِ حقِ خودارادیت سے دور رکھنا ہے۔ بزرگ رہنما نے ڈاکٹر بلقیس شاہ جوکہ سینئر حریت پسند راہنما شبیر احمد شاہ کی اہلیہ ہیں، کے ساتھ اپنی پدرانہ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلوں کو قابل ستائش قرار دیا۔ حریت رہنما نے غلام محمد خان سوپوری جو کہ اس وقت کورٹ بلوال جیل میں مقید ہیں کو EDکی طرف سے تنگ طلب کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خان سوپوری کا مکان چند برس قبل بلاجواز مقفل کرکے انہیں جبراً گھر سے بے دخل کردیا گیا اور اب اس بزرگ حریت پسند رہنما کو جیل کے اندر بھی سکون چھیننے کی ظالمانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔اس دوران تحریک حریت  نے گلزار احمد بٹ ولد ثناء اللہ بٹ ، فیاض احمد بٹ ولد غلام حسن ساکنان آرونی کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس غیر ضروری اور بلاجواز گرفتاریوں کا چکر چلاکر خوف وہراس پھیلارہی ہے۔ لواحقین کے مطابق گلزار احمد بٹ تین ماہ قبل ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک طویل مدّت جیل میں گزار چکا ہے، جبکہ فیاض احمد بٹ بھی دوماہ تک تھانے میں بند تھا۔ فیاض احمد پیشے کے لحاظ سے ایک ڈرائیور ہے، ان پر پولیس عتاب اور پھر گرفتار کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تحریک حریت نے ان کو گرفتار کرکے تھانہ بجبہاڑہ میں گرفتار رکھنے کی مذمت کی۔