مزاحمتی قیادت کا ترکی بہ ترکی, کیا 10لاکھ فوج کم پڑگئی؟

سرینگر// مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان پر گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا ہے جس میں موصوف نے کشمیر میں ڈرون حملے کرنے کی بات کی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہاتنی بڑی فوج کے ’’بہادر‘‘ سربراہ کا چند جوانوں کو زیر کرنے کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر طاقت کے استعمال کی دھمکی مضحکہ خیز ہی نہیں بلکہ بچگانہ بھی ہے۔ 10؍لاکھ فوج جدید اسلحہ سے لیس ہوکر بھی ہمارے آزادی پسند جیالوں کے عزم اور حوصلے کے آگے کمزور پڑ رہی ہے، اس سے بڑھ کر فوجی سربراہ کی تسلیم شکست اور کیا ہوگی۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو متنبہ کیا کہ اخلاقی اور جمہوری پیمانوں سے آپ یہ جنگ کب کے ہار چکے ہیں، اب آپ کی فوجی طاقت بھی جواب دے چکی ہے، اسی لئے ڈرون حملوں کی مدد سے پوری آبادی کو نیست نابود کرکے یہاں کی زمین پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی سازش رچاتے ہیں ۔ آزادی پسند رہنماؤں نے کہا کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کرکے بھارتی فوج کو تسلی نہیں ہوئی، ہزاروں جوانوں کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کرکے ان کے سنگ دل نرم نہیں ہوئے، بے شمار خواتین کی بے حرمتی اور عصمت ریزی کرکے ’’سیتا کے پجاریوں‘‘ کے سر شرم سے نہیں جھکے، عربوں اور کھربوں مالیت کی املاک کو تباہ وبرباد کرکے اُن کی انا کو تسکین نہیں ملی، معصوم بچوں کی پیلٹ گنوں سے بینائی چھین کر ان کی آنکھیں کبھی نم نہیں ہوئیں۔  18ماہ کی معصوم ہِبا کو دنیا کی سب سے بڑی ’’جمہوریت‘‘ کہلانے والی بہادر فوج کی طرف سے پیلٹ گن سے زخمی کرکے بینائی سے محروم کیا جاتا ہے۔قائدین نے کہا کہ ملک کا تاج قرار دئے جانے پر اس بدنصیب ریاست کو فوجی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ Collateral Demageمیں نشانہ بننے والے لوگ ایک خاص طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں عالمی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے بدنام القاب سے نواز کر سبق سکھانے کی بھارتی پالیسی ساز عملانے کی تاک میں رہتے ہیں، تاکہ اکثریتی ووٹ بنک کے جگر کو ٹھنڈک بھی نصیب ہو۔یہاں کے قدرتی ذخائر اور وسائل کو ہم سے چھین کر اپنے ملک واسیوں کے لیے وقف کیا جارہا ہے۔ ہمارے اداروں کو شفافیت کے نام پر نیلام کرکے اُن کی پہچان مٹانے کی گھناونی سازشیں رچائی جارہی ہیں۔مشترکہ قیادت نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور خاص کر جمہوریت پسند ممالک سے اپیل کی ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے نہتے عوام کے خلاف کھلی اور ننگی جارحیت کا یہ کھلا اعلان ہے اور اس دیوانہ پن پر سنجیدگی سے روک لگانے کی ضرورت ہے۔