مزاحمتی قائدین کےخلاف کریک ڈاو

 سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مزاحمتی قائدین کیخلاف جاری کریک ڈاﺅن کو کشمیریوں کی تحریک آزادی کمزور کرنے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ NIA کے ذریعہ تحریک پسند قیادت کیخلاف جاری مہم جوئی کا مقصد کشمیر میں بھارت کے جبری فوجی قبضے کو دوام بخشنا ہے اور اس کام میں ریاستی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ایک سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہے۔قائدین نے شبیر احمد شاہ کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گرفتاری اور مابعد انہیں پوچھ تاچھ کیلئے دلی لے جانے اور اس سے قبل متعدد مزاحمتی رہنماﺅں اورکارکنوںکو NIA کے ذریعہ دلی لے جاکر حراست میں رکھنے کو جارحانہ اور سراسر سرکاری اغواکاری کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے جارحانہ اور اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ تو حریت پسند قیادت کو مرعوب کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں اپنے جائز مقصد سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔ قائدین نے تحریک کے اس نازک مرحلے پر تحریک آزادی کے تئیں بھر پور یکجہتی اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ایک جائز اور مبنی برحق مقصد کے حصول کیلئے اس قوم نے اب تک لاکھوں نفوس کے علاوہ مال و جائیداد کی بے پناہ قربانیاں پیش کی ہیں اور ان قربانیوںکو ثمر آور بنانے اور ان کی حفاظت کیلئے قیادت اورپوری قوم اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔قائدین نے مژھل میں پیش آئے خونین واقعہ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو ایک فوجی عدالت کی جانب سے انکی عمر قید کی سزا معطل کرکے انہیں رہا کئے جانے کو عدل و انصاف کے مسلمہ اصولوں کا خون قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں آج تک درجنوں اجتماعی خونین واقعات رونما ہوئے مگر آج تک کسی بھی واقعہ میں ملوث کسی بھی فورسز اہلکا ر کو نہ تو سزا ہوئی اور نہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا اور اب مژھل کیس میں ملوث فوجی اہلکاروں کو صاف بری کیا جانا اس بات کا عکاس ہے کہ کس طرح کشمیریوں کی قتل وغارت میں ملوث فوجی اہلکاروں کو کلین چٹ سے نواز اجاتا ہے۔قائدین نے مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوں کیخلاف جارحانہ پالیسیوں اور مژھل انکوانٹر میں ملوث فوجی اہلکاروںکو بری کئے جانے کیخلاف 28 جولائی کو بعد از نماز جمعہ پر امن ہمہ گیر احتجاج کی اپیل کی ہے۔