مرکز کے نت نئے فیصلے مایوسی کا سبب: ساگر

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کو اس وقت زبردست مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں اور حکومتی سطح پر لوگوں کی راحت رسانی کے بجائے آئے روز ایسے نت نئے فیصلے لئے جاتے ہیں جس سے نہ صرف یہاں کی تہذیب و تمدن کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ یہ فیصلے اقتصادی بدحالی ، بے روزگاری ، نااُمیدی اور مایوسی کا سبب بن رہے ہیں۔ علی محمد ساگر نے  پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سے وابستہ عہدیداران پر زور دیا کہ وہ جولائی میں ہی ممبرشپ مہم اختتام کریں اور اگست سے قبل ہی پارٹی ہیڈکوارٹر کے ساتھ حسابات مکمل کریں تاکہ ماضی کی طرح جمہوری طریقے سے پارٹی کی تمام اکائیوں کا چنائو عمل میں لایا جاسکے۔ انہوں نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ لوگوں کے مسائل و مشکلات ہر سطح پر اُجاگر کریں کیونکہ اس وقت زمینی سطح پر عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ انہوںنے کہاکہ بے روزگاری نے تمام ریکارڈ مات کردیئے ہیں ، نوجوان مایوسی کے شکار ہیں ،ڈیلی ویجروں کی مستقلی کو جان بوجھ کر طول دیا جارہاہے، ملازمین کے مسائل حل نہیں کئے جارہے، مہنگائی اور کساد بازاری عروج پر ہے، اقتصادی بدحالی نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کاروباری طبقے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں جبکہ حکمران محض تشہیر بازی اور عوام مخالف اقدامات میں لگے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں یوتھ لیڈران احسان پردیسی اور مدثر شہمیری اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں شمالی زون صدر محمد اکبر لون( رکن پارلیمان)، وسطی زون صدر علی محمد ڈار ، سینئر لیڈر نذیر احمد خان گریزی، نائب صدرِ صوبہ سید توقیر احمد اور خواتین ونگ کی صوبائی صدر صبیہ قادری کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔