مرکز کے متضاد بیانات سے پیدا کنفیوژن کے بیچ

بارہمولہ// نیشنل کانفرنس نے کہا کہ مذاکرات پر مرکزی سرکار کے متضاد بیانات نے جو کنفیوژن پیدا کیا ہے اس کے چلتے علیحدگی پسندوں سے مثبت ردعمل کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ پارٹی کار گذار صدر عمر عبداللہ نے بارہمولہ میں یک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملی ٹنسی کی ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔ ہمارے نوجوانوں، جن کو ہم نے بندوق سے دور کرکے تعلیم، کھیل کود، انڈسٹری اور روزگار جیسے شعبوں کی طرف راغب کیا تھا ، میں آج بندوق کا رجحان بڑھتا جارہاہے۔ پڑھے لکھے نوجوان اپنی نوکریاں چھوڑ کر بندوق اُٹھا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا ایک پروفیسر جمعہ کے دن بچوں کو پڑھاتا ہے، سنیچر کو غائب ہوتا ہے، اتوار کو ملی ٹنٹ بنتا ہے اور اگلے روز اُس کی لاش ملتی ہے۔ ایسے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر یہاں آکر بندوق اُٹھاتا ہے، ایک اور نوجوان، جس نے آرمی کی نوکری کیلئے امتحان پاس کیا تھا، بھی بندوق اُٹھانے کو ترجیح دیتا ہے۔اس طرح کی کتنی مثالیں ہیں جہاں نوجوانوں نے تعلیم، روزگار، کارخانے، نوکری اور ایک بہتر کل کو چھوڑ کر بندوق اُٹھایا۔ اس سب کیلئے ہم کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟2014تک تو ایسے حالات بالکل نہیں تھے؟یہ مایوسی، یہ ناراضگی، یہ بے بسی کہاں سے پیدا ہوئی،یہ حالات اگر بنے تو 2014کے بعد ہی بنے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آج پی ڈی پی والے کہتے ہیں ہم نے سیز فائر کروایا اور ہم سے کہتے ہیں کہ آپ نے 2009سے 2014تک حکومت کی لیکن سیز فائر نہیں کرواسکے، ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے سیز فائر اس لئے نہیں کیا کیونکہ اُس وقت ایسا کچھ نہیں تھا، اُس وقت ضرورت ہی نہیں پڑی، اُس وقت بندوق اُٹھانے والا ہی کوئی نہیں تھا،اُس وقت IEDدھماکے نہیں ہوتے تھے، اُس وقت آج کی طرح ہفتے میں ڈیڑھ درجن گرینیڈ نہیں پھٹتے تھے۔آج یہاں حالات ایسے ہیں کہ یہاں انکائونٹر کے دوران احتجاج کررہے لوگوں پر گولیاں برسائیں جارہی ہیں اور ایک ایک انکائونٹر میں 5پانچ لوگ مارے جاتے ہیں۔ میرے دور میں ایسے حالات تو نہیں تھے۔اگر آپ نے سیز فائر کیا ہے تو یہ آپ کی مجبوری تھی کیونکہ آپ کی حکومت میں حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ آپ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا اور آپ نے اس میں بھی دیری کی‘‘۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم لگاتار 2016سے آپ سے کہتے آرہے ہیں کہ حالات کو سدھارنے کیلئے کچھ قدم اُٹھایئے۔جب وادی جل رہی تھی، میں نے یہاں کی اپوزیشن جماعتوں کو لیکر دلی میں صدرِ ہند، وزیر اعظم، کانگریس صدر کے دروازے کھٹکھٹائے اور اُن سے استدعا کی کہ خدارا کشمیر میں امن و امان کی بحالی کیلئے کچھ کیجئے، جموں وکشمیر کے لوگ مالی پیکیج کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں، روزگار کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں، یہ لوگ اپنے سیاسی حقوق کیلئے احتجاج کررہے ، یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ اُن سے کئے گئے وعدوں کا ایفاء کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ 1947سے لیکر آج تک وعدے کئے گئے لیکن کبھی پورا نہیںکیاگیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں لوگ آج سڑکوں پر آکر اپنے آپ کو گولیوں اور بندوقوں کا شکار بنا رہے ہیں، لیکن اُس وقت بھی مرکز کی نیند نہیں ٹوٹی۔ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو غلط فہمی تھی کہ 2016جائیگا اور 2017کے بعد حالات خود بہ خود ٹھیک ہوجائیں گے۔لیکن جب ان سے اننت ناگ پارلیمانی نشست کا الیکشن نہیں ہوپایا تو اِن کو پتہ چلا گیا کہ یہ کتنے پانی میں ہیں۔ آج بھی ان سے اننت ناگ کے انتخابات نہیں ہورہے ہیں، آج تک محبوبہ مفتی کی چھوڑی ہوئی نشست خالی پڑی ہے۔ یہ1996کے بعد سب سے تاخیر شدہ الیکشن ہے، اسی سے پتہ چلتا ہے یہ کتنے ناکام ہوگئے ہیں۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اب ہمیں ساتھ چلانا ان کی مجبوری بن گئی ہے۔اب یہ ہمیں آل پارٹیز میٹنگ میں بلاکر رائے لیتے ہیں اور ہم انہیں سیز فائر کی رائے دیتے ہیں۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم سے آل پاٹیز ڈیلی گیشن ملنے کا فیصلہ ہوا اور ہم نے اس پر بھی لبیک کیا اور پی ڈی پی والوں سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اِس وقت ہماری حکومت ہوتی اور ہم پی ڈی پی والوں کو آل پارٹیز میٹنگ یا وزیرا عظم سے ملنے کیلئے بلاتے تو وہ نہیں آتے۔ لیکن ہم اُن جیسے نہیں، ہم اُن کے ساتھ وزیر اعظم کے پاس جائیں گے اور کہیں کہ سیز فائر تو ٹھیک ہے لیکن آگے کیا؟مرکز کو آڑے ہاتھوں عمر عبداللہ نے کہا کہ مذاکرات کو لیکر الگ الگ وزیر مختلف آراء پیش کررہے ہیں۔ وزیر داخلہ کہتے  ہیں کہ مرکز بات چیت کیلئے تیار ہے، وزیر خارجہ اس کے برعکس بیان دیتی ہے، وزیر دفاع کوئی اور کہانی سناتی ہے اور بچی کچھی کسر وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھے ایک اور وزیر پوری کرجاتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا ’’صاف مؤقف اور ایک آواز میں کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں، جب آپ ایک آواز میں بات نہیں کرسکتے تو ہم حریت کو بات کرنے کیلئے کیسے قائل کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیلئے مرکز کے متضاد بیانات نے کنفیوژن پیدا کیا ہے، حریت سے مثبت جواب کی کیسے اُمید کی جاسکتی ہے؟انہوں نے کہا کہ ہمارے اندرونی مسئلے بھی اور حکومت لوگوں کی اُمیدوں پر کھرا اُترنے میں ناکام ہوگئی ہے۔