مرکز کی کشمیر کی جانب بے رخی قابل تشویش: کمال

 سرینگر // نیشنل کانفرنس  کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ مرکز کی غلط پالسیوں اور کشمیر کے بارے میں بے رخی اور کشمیریوں کے ساتھ بار بار وعدہ خلافی اور ہمارے ساتھ کئے گئے تحریر ی وعدے کا انحراف کرتے رہے اور ریاست کے لوگوں کو دئے گئے آئینی اور جمہوری حقوق بار بار چھن جاناہی موجودہ حالات کی بنیاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دلی کی موجودہ سرکار نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیاہے اور ہمیں اپنی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے لیکن اہل کشمیر نے نہ کبھی غلامی قبول کی ہے اور نہ ہی اور نہ کسی کی نوآبادی قبول کی ہے اور ہمیشہ اپنے عزت نفس کے لئے سر بکفن ہوکر میدان عمل میں کود پڑے ہیں اس لئے ہندوستان کو بھی چاہئے کہ وہ دفعہ 370 اور 35 اے کے تحت ریاست کے لوگوں کو اندرونی خود مختاری حاصل ہوئی ہے اور وہ بھی مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کے تحت جس نے ریاست میں فوج بھی لایا اور ہندوستان کے ساتھ تین چیزوں پر الحاق کیا ہے ان پر عمل کر کے ریاست کے لوگوں اپنے جمہوری اور آئینی حقوق واپس کئے جائے اور ریاست پر اب تک 45 کالے قانون لگا کر یہاں کی انفرادیت ، شناخت ، کشمیریت اور وحدت کے ساتھ کھلم کھلا دخل اندازی کی گئی اور کشمیریوں کے دلوں میں نفرت کی آگ بڑھتی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی آر ایس والی موجودہ سرکار نے ریاستی عوام کے مفادات ، احساسات کا سودا کیا ۔ اس طرح قلم دوات والوں نے جعفر بنگال اور صادق دکن رول اداکیا۔اس موقعہ پر پارٹی کے سینئر نائب صدر اور صابق وزیرچودھری محمد رمضان ، سینئر نائب صدر حاجی محمد سعید آخون، سابق ایم ایل اے حضرت بل صوبائی سیکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، ضلع صد ر و سابق ایم ایل اے پیر آفاق احمد نے بھی خطاب کیا