مرکز انتہا پسندی کا اچھوتانمونہ!

آج کے بھارت کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہاں انتہا پسندی کی انتہا کے مناظر عیاں ہیں تو مبالغہ نہیں ہو گا۔اِس انتہا پسندی کا محور مذہبی عقائد ہیں ۔بھارت ایک وسیع دیش ہے جس میں مختلف مذہبی عقائد کے لو گ رہتے ہیں ۔مختلف مذہبی عقائد کا وجود بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کو نہ صرف امر لازمی بلکہ نا گزیر بناتا ہے ۔بھارت میں مذہبی عدم ہم آہنگی قومی زندگی کیلئے ناسور بن سکتی ہے البتہ دیکھا جائے تو پچھلے چند سالوں سے یہ ناسور پھیل رہا ہے ۔فرقہ وارانہ تفرقے کو سب سے زیادہ فروغ الیکشن کے زمانے میںملتا ہے ۔الیکشن کے دوراں نہ صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پہ بلکہ بین المذہبی فرقہ بندی بھی بری طرح متا ثر ہو تی ہے۔ اِس مذموم عمل میں سب ہی سیاسی احزاب ملوث ہیں لیکن یہ وبا سب سے زیادہ سنگھ پریوار سے وابستہ جماعتوں میں پائی جاتی ہے ۔سنگھ پریوار سے وابستہ جماعتیں جن میں سب سے نمایاں پریوار کا سیاسی فرنٹ بھاجپا ہے نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے خلاف مصروف بہ عمل رہتی ہیں بلکہ اکثریتی مذہبی جماعت کے اندر جتنے بھی فرقے ہیں جنہیں بھارتی لغت میں جاتیاں کہا جاتا ہے اُن سے اُلجھاؤ کی کیفیت عیاں ہوتی ہیں ۔او نچی جات کے اونچے مقام کی آج کے بھارت میں بھی جے جے کار ہوتی رہتی ہے اور زیادہ سے زیادہ وؤٹ بٹورنے کیلئے اب بھی اشاروں او ر کنایوں میں جاتی کے نام پہ وؤٹ کی باتیں احزاب سے لے کے مطبوعات تک مطرح رہتی ہیں ۔
بھارت کا آئین کہنے کو تو سیکولر ہے اِسی آئین میں یہ بھی آیا ہے کہ جاتی کے نام پہ او نچ نیچ کی تفریق نا قابل قبول ہے ۔کہنے کو تو یہ اقوال زریں آئین میں موجود ہیں لیکن جہاں تک اُنہیں عملیانے کا سوال ہے تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب سے بھارتی آئین  1950میں معرض وجود میں آیا تب سے آج تک گر چہ قول میں اُس کی تائید ہوئی ہے البتہ فعل میں اُسکی نفی ہو تی رہی البتہ اب تو صورت احوال یہ ہے کہ ہر گذرتے ماہ وسال بلکہ ہر گذرتے دن کے ساتھ نہ صرف فعل میں بلکہ قول میں بھی اُسکی نفی ہو رہی ہے۔ یہ عمل الیکشن کے دنوں میں جیسا کہ پہلے ہی تحریر میں آیا ہے تیز تر ہو جاتا ہے حتیٰ کہ حالیہ دنوں میں اور تو اور بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے یوپی میں الیکشن مہم کے دوران قبرستان و شمشان گھاٹ کی بات اِس انداز میں کی جہاں یوپی کی حکومت نشانے پہ رہی اِس اشارے کے ساتھ کہ شمشان سے زیادہ قبرستان پہ توجہ دی جا رہی ہے ۔یہ بھی کہا گیا کہ جہاں رمضان میں بجلی فراہم رکھی جاتی ہے وہی دیوالی کے دن بھی بجلی کا خیال رکھا جانا چاہیے ۔دانتوں تلے زباں ر کھنے کی اِس ادا سے یہ بات زمانے کی آنکھ سے چھپ نہیں سکتی کہ بھارتی وزیر اعظم کے اِس بیاں کا مدعا و مقصد کیا ہے ؟ جہاں بھارتی وزیر اعظم اِس حد تک جانے کی اپنے آپ کا اجازت دیں وہاں اُس سے یہ توقعہ رکھنا کہ وہ جوگی ایودھیا ناتھ یا گری راج کیشور جیسے افراد پہ کسی قسم کی روک لگا سکیں بعید ہے ۔ مانا کہ بھارت کے سب سے بڑے صوبے کے الیکشن کو جیتنے کیلئے بھاجپا سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے۔بہار اور دہلی میں بری طرح الیکشن ہارنے کے بعد اور پنجاب میں احتمالی شکست کے خوف سے بھاجپا یوپی کا الیکشن جیتنے کیلئے کوئی بھی حد پار کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اُس کیلئے فرقہ پرستی کو ہوا دینا بھارت کی داخلی امنیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 
ایسا تو نہیں ہے کہ بھارت کے دانشور حلقوں میں اِس روش کے سنگین نتائج کا نو ٹس نہیں لیا جا رہا ہے البتہ کہا جا سکتا ہے کہ سنگھ پریوار کے شور وغل میں سنجیدہ آوازیں دبی جا رہی ہیں ۔بات ماضی کی مانند عدم رواداری کی کیفیت تک محدود رہتی تو مانا جا سکتا تھا کہ بھارت کے آئین میں سیکولرازم کی شق ہونے کے باوجود ایک قابل قبول روش ہے لیکن جو کچھ ہو رہا ہے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ الیکشن بخار سے صرفنظر کرتے ہوئے بھی ایک سنگین دائمی کیفیت بنتی جا رہی ہے ۔ ارون دتی رائے جیسے دانشور کا ماننا ہے کہ اِس کیفیت کیلئے عدم رواداری کا کلمہ پڑھ کم سکتا ہے ۔ محترمہ کا مدعا کوئی اور کلمہ تراشنے کا ہے تاکہ اِس سلسلے کی نوعیت بیاں ہو سکے۔ارون دتی رائے سے اتفاق کرنا پڑے گا چونکہ آج کے بھارت میں یہ کہنا بھی کہ عدم رواداری کی کیفیت عیاں ہے کہنے والے پہ بھاری پڑھ سکتا ہے ۔مدعا و مقصد یہی دیکھائی پڑتا ہے کہ سنگھ پریوارکی اکائیاں کوئی بھی حد پار کریں مد مقابل کیلئے تحمل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ثقافتی وطن پرستی کے نشے میں بد مست یہ اکائیاں گھر واپسی کی مہم میں کچھ بھی کر گذرنے کیلئے تیار رہتی ہیں ۔گھر واپسی کا مدعا یہی ہے کہ بھارت میں مذہبی نسبت،وطن پرستی و ثقافتی نوعیت کی یکسانیت لازم و ملزوم ہے ۔ظاہر ہے کہ سنگھ پریوار کی ثقافتی وطن پرستی میں بھارت کے اکثریتی مذہب کے علاوہ کسی اور مذہبی نسبت کی کوئی گنجائش نہیںچونکہ پریوار کی اکائیوں کی نظر میں کسی اور مذہبی نسبت میں بھارتی وطن پرستی اور ثقافت کے پنپنے کی کوئی گنجائش نہیں لہذا گھر واپسی یعنی اکثریتی مذہب کی پیروی کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ 
سنگھ پریوار کا سیاسی پاٹھ مندوہ فلسفہ ہے جو کم و بیش ایک صدی پہلے سے رقم ہوا ہے۔ویر سوارکر سے لے کے گولواکر کی تحریروں میں یہی دیکھنے کو ملتا ہے اور آج کل سنگھ پریوار کے کاری کرتا یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جس کیلئے یہ فلسفہ مقابل قبول نہیں وہ یا تو بھارت سے ہجرت کرے یا انسانی حقوق سے عاری دوسرے درجے کے شہری کی زندگی گذارنے پہ آمادہ رہیں۔عدم رواداری کا یہ سلسلہ دور جدید تک محدود نہیں بلکہ تاریخی تجزیے میں یہ حقیقت عیاں سے عیاں تر ہو جاتی ہے کہ عدم رواداری ہندوستان کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔پچھلے کئی سالوں سے چاہے ذکر ٹیپو سلطان کا ہو یا اداکار عامر خان کا عدم رواداری کی کیفیت عیاں ہے۔جہاں ٹیپو سلطان کے تئیں رویے میں بھارت کی تاریخی تلخیاں چھلکتی ہیں وہی عامر خان کے تئیں رویے میںحالیہ زمانے کی زیادتیاں عیاں ہے جن کا بہر حال ایک تاریخی پس منظر ہے۔
تاریخی حقائق کے بارے میں کشمیر کے نامی گرامی تاریخ داں ڈاکٹر عبدالاحد کے ایک مقالے میں تاریخی حقائق کی عکاسی کے علاوہ یہ بھی منعکس ہوا ہے کہ دہلی و بہار میں الیکشن میں بھاجپا کی شکست کے باوجود سنگھ پریوار اپنی چنی ہوئی عدم رواداری کی راہ پہ گامزن رہے گا۔ظاہر ہے کہ ڈاکٹر عبدالاحد  صاحب کی نظر میں اِس عدم رواداری کی کیفیت کے ر یشے بہت ہی گہرے ہیں ۔ موصوف نے بھارتی تاریخ داں رام چندر گوہا کے اِس بیاں پہ اپنے مقالے میں شدید تنقید کی جس میں ٹیپو سلطان کو جمہوریت مخالف حکمراں قرار دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ سیکولر و سوشلسٹ نظریے کے خلاف تھے۔ ڈاکٹر عبدالاحد صاحب نے بھارتی تاریخ داں سے یہ سوال کیا کہ ٹیپو کے دور میں سیکولر و سوشلسٹ نظریہ کہاں منظر عام پہ تھا جو ٹیپو اُس کی پیروی کرتے؟ ڈاکٹر صاحب کا سوال حق بجانب ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی تاریخ داں 18ویں صدی کے حالات و واقعات جو ٹیپو سلطان کی حکمرانی کا دور تھا کو 20ویں صدی کی عینک سے جانچتے ہیں۔ٹیپو سلطان کو تاریخی کٹہرے میں کھڑے کرنے کے ضمن میںڈاکٹر عبدالاحد صاحب یہ سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اشوک چکر کا بھارتی قومی علامت بننا کہاں جمہوری روایات سے مطابقت رکھتاہے؟ ڈاکٹر صاحب کے سوال کو تاریخ کے اُس دائرے میں پرکھنے کی ضرورت ہے جہاں ٹیپو سلطان کی مانند اشوک بھی ایک مطلق العناں راجہ کے روپ میں نظر آتے ہیں اور مطلق العنانی کو جمہوریت،سیکولرازم یا سوشلزم کے ترازو میں تولنا کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا سکتا۔ ڈاکٹر عبدالاحدصاحب بھی تاریخ کے ارتقائی فعل کو مانتے ہوئے جمہوریت،سوشلزم و سیکولرازم جیسے جدید یورپی نظریات کو مطلق العنانی کے قدیم و لمبے دور سے مقایسے کے قائل نظر نہیں آتے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ٹیپو سلطان کو تاریخی کٹہرے میں کھڑا کرنا اور اشوک کو مثالی تاریخی کردار ماننے پہ اُنہوں نے ایک سوالیہ ڈالا اور اِس سوال کی تاریخی اہمیت ہے ۔
دو تاریخ دانوں رام چندر گوہا اور ڈاکٹر عبدالاحد کی دلچسپ تاریخی بحث کو بھارت کے تاریخی ارتقا کے دائرے میں پرکھنا ہو گا۔اشوک نے کالنگا کی جنگ میں قتل عام کرنے کے بعد جنگ و جدل سے پشیماں ہو کے امنیت کی راہ اپنائی۔اِس پشیمانی اور امنیت کی راہ اپنانے پہ وہ تاریخی کردار بن گئے اور آج بھارتی جھنڈے پہ اشوک چکر ایک نمایاں علامت ہے اِس حقیقت کے باوجود کہ کالنگا کی جنگ میں اُن کے سامنے بھارتی تھے جن کا قتل عام ہوا جبکہ ٹیپو سلطان کی جنگ ایک خارجی طاقت کے خلاف تھی جو سارے بھارت پہ قابض ہونا چاہتی تھی۔اِس تاریخی حقیقت کے باوجود اُن کی حب الوطنی مشکوک ہے۔سچ تو یہ ہے ٹیپو سلطان کے تاریخی کردار پہ سوالیہ اُن کے مسلمان ہونے کے سبب ہے اور تنہا وہی مورد سوال قرار نہیں دئے گئے بلکہ بنگال کے سراج الدولہ کی مقاومت کو بھی وہ اہمیت حاصل نہ ہوسکی جس کے وہ مستحق تھے بلکہ مانا جا تا ہے کہ ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کی جنگی مہمات ہندوستان میں مسلمان سلاطین کی حکمرانی کی پا بر جائی کی مہمات تھیں۔
1857؁ء میں بھارتی فوجی دستوں کی بغاوت کو بھی یہی نام دیا جاتا ہے اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں بھی آج تک اِس بغاوت کو غدر کا منفی نام دیا جاتا ہے صرف اِس وجہ سے کہ باغی دستوں نے جن میں ہندو و مسلمان دونوں شامل تھے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو ہندوستان کا بادشاہ ماناحالانکہ مغلیہ سلطنت ادھار کی سانس پہ زندہ تھی اور بہادر شاہ ظفر ایسٹ انڈیا کمپنی کے وظیفہ خوار تھا ۔وہ لال قلعے میں مقید تھے اور اپنی اِس بے حالی میں اُن میں کسی بغاوت کی رہبری کو سنبھالنے کی سکت نہیں تھی پھر بھی وہ فرہنگی عتاب کا شکار ہو کے رنگون ملک بدر ہوئے ۔ظفر تا حیات رنگون میں فرہنگیوں کے قیدی بن گئے اور ایک تاریخی قطعہ شعر اُردو زباں کا سرمایہ بن گیا:
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کیلئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں!  
بھارتی سماج میں ہزاروں سال سے برہمن ازم کی ترتیب یافتہ طبقہ بندی عدم روادار ی کی داستاں گویائی ہے ۔اِس طبقہ بندی میں نچلی جاتیوں کو انسانیت کی اُس سطح سے مطابقت نہیں دی جاتی جو اونچی جاتیوں کیلئے مخصوص ہے بلکہ انسانیت کی درجہ بندی میں اُنہیں اگر انسان مانا بھی جاتا ہے تو بھی اِس قدر کمتر جہاں اُن سے سماجی رابطہ رکھنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ۔آزاد بھارت کے قانون اساسی میں گر چہ جاتیوں کو مساوی حقوق دئے گئے لیکن اِس قانون اساسی کی قسمیں کھانے والے بھی اطمینان سے یہ دعوا نہیں کر سکتے کہ جن مساوی حقوق کی ضمانت قانون اساسی نے دے رکھی ہے وہ عملی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔قانون اساسی کے اجرا سے پہلے مہاتما گاندھی نے نچلی ذاتوں سے وابستہ افراد کو ہریجن یعنی بھگوان کے جنے ہوئے مانا لیکن اِس میں مساوات کی ترجمانی سے زیادہ ترحم چھلکتا تھا جس پہ نچلی جاتیوں کے رہنما امبیدکر نے کہا کہ اُنہیں ترحم کی نہیں برابری کی چاہ ہے۔بابا صاحب امبیدکر برہمن کی تراشی ہوئی سماجی شکیل سے اِس قدر عاجز تھے کہ اُنہیں بدھ ازم میں جائے عافیت نظر آئی اور وہ اِسی مذہب کے پیروکار بن گئے۔ بابا صاحب امبیدکر سے بہت پہلے بھارتی سماج میں جو نا ہمواری پائی جاتی تھی اُس کے منفی اثرات سے سماج کے ایک حصے نے نئے دین کو قبول کیا جو کہ اُن کے تئیں نفرت کا سبب بن گیااور یہ نفرت ایک ناسور بنتی جا رہی ہے ۔ ماضی کے ٹیپو سلطان سے لے کے حال کے عامر خان تک سبھی اِس نفرت کی چبھن محسوس کر رہے ہیں ۔ یہی آج کے بھارت کا المیہ ہے ۔
……………………………….
Feedback on: [email protected]