مرکزی کابینہ اجلاس

۔5ریاستوں کے 44 پسماندہ اضلاع میں4 جی کیلئے6766 کروڑروپے کا منصوبہ

نئی دہلی// حکومت نے آدیواسی گوردوس منانے کے دو دن بعد ہی نکسل ازم سے متاثرہ پسماندہ اور قبائلی علاقوں میں سڑکوں رابطہ بڑھانے کے لئے پردھان منتری سڑک یوجنا کے تحت 33822 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کو منظوری دی ہے ۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے بدھ کو یہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کے فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محروم قبائلی علاقوں میں پردھان منتری گرامین سڑک یوجن (پی ایم جی ایس وائی) کے تیسرے مرحلے کے تحت 32152 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کو منظوری دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت نکسلی علاقوں میں تین مرحلوں میں سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 سے اب تک نو نکسل متاثرہ ریاستوں کے 44 اضلاع میں 4490 کلومیٹر سڑکیں اور 105 پل تعمیر کئے جاچکے ہیں۔ کابینہ نے پانچ ریاستوں میں ٹیلی کام نیٹ ورک اور سڑک رابطے سے محروم 44 اضلاع کے 7287 پسماندہ اور قبائلی دیہاتوں میں 4 جی نیٹ ورک کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 6466 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت ان گاؤں میں ٹیلی کام ٹاوروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لئے آپریٹنگ اخراجات کا التزام بھی شامل ہے ۔ اس منصوبے میں جن پانچ ریاستوں کے خواہشمند اضلاع کو فائدہ ہو گا، ان میں آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور اڈیشہ شامل ہیں ۔  مسٹرٹھاکر نے بتایا کہ یہ رقم محکمہ مواصلات کے یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ ‘یو ایس او فنڈ’ سے فراہم کی جائے گی ۔ یہ فنڈ پرائیویٹ سیکٹر کی مواصلاتی کمپنیوں سے خصوصی چارجز کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے جو ہر علاقے میں نیٹ ورک کی توسیع کی ذمہ داری کو براہ راست پورا کرنے کے قابل نہیں ہو تی ہیں ۔