مرکزی وزیر زراعت کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات

 سرینگر//مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے سرینگر میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی ۔ میٹنگ کے دوران جموں کشمیر میں زراعت سے جُڑے کئی معاملات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں فصلوں کی پیداوار کا معیار بڑھانے اور زرعی و میوہ سیکٹر میں پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کو کم کرنے کیلئے ایک کولڈ چین قایم کرنے کا معاملہ مرکزی وزیر کی نوٹس میں لایا ۔ انہوں نے مرکزی وزیر کو جانکاری دی کہ ہارٹیکلچر سیکٹر میں ریاستی حکومت نے ایک خصوصی سکیم متعارف کی ہے جس کے تحت ریاست میں سیب اور آم کے گاو¿ں قایم کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کولڈ چین نظام وجود میں لانے سے میوو¿ں کو وقت پر بازاروں تک پہنچانے میں مدد ملے گی اور اُن کے معیار میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہو گی ۔ محبوبہ مفتی نے راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا اور وزیر اعظم کرشی سنچائی یوجنا جیسی فلیگ شپ سکیموں کے تحت ریاست کو فراخدلانہ مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ مرکزی وزیر نے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ مرکز ریاست کو ان پروگراموں کے تحت مکمل رقومات بہم رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی وزارت نے پی ایم کے ایس وائی کے تحت نبارڈ کے ساتھ مل کر پانچ ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت نے ایگرو فارسٹری کے تحت دو نئی سکیمیں شروع کی ہیں جن کے تحت کسانوں کو خالی پڑی اراضی میں پودے لگانے کی اجازت ہو گی ۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ ان سکیموں سے بھر پور استفادہ کریں ۔ وزیر اعلیٰ نے زرعی سیکٹر میں عملائی جا رہی تحقیقی سرگرمیوں کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر کو جانکاری دی کہ سکاسٹ ، سی آئی ٹی ایچ اور دیگر تحقیقی مراکز قابلِ فخر تحقیق انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دھان اور مکئی میں کچھ نئے اقسام وجود میں لائے گئے ہیں جن کی پیداواری صلاحیت بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں مشک بدجی بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہاں کے سائینسدانوں نے غنچہ ابریشم کے کئی اعلیٰ اقسام بھی وجود میں لائے ہیں ۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو لیبارٹریوں سے کھیتوں تک لے جانے کیلئے مرکز کا مزید تعاون طلب کیا ۔ رادھا موہن سنگھ نے محکمہ زراعت ، باغبانی ، ماہی پروری ، پشو پالن محکمے ، آئی سی اے آر ، سکاسٹ اور دیگر تحقیقی اداروں کے افسروں کے مابین متواتر طور میٹنگوں کے انعقاد پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی سرگرمیوں پر نچلی سطح پر نظر گذر رکھی جانی چاہئیے تا کہ صحیح معنوں میں یہ تحقیق کسانوں تک پہنچ پائے ۔ میٹنگ میں ریاست کے باغبانی وسائل کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہاں ایک ہارٹیکلچر یونیورسٹی قایم کرنے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس میٹنگ میں ریاستی وزراءغلام نبی لون ہانجورہ ، سید الطاف بخاری ، ڈاکٹر حسیب درابو اور سنیل شرما کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔