مرکزی سرکار کی مداخلت رنگ لائی,شاہپور ڈیم کی تعمیر عنقریب

 
نئی دہلی // مرکز نے جموںو کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کو اس بات پر قائل کردیا ہے کہ وہ گرداس پور میں شاہپور کنڈی ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع کرے ۔یہ پروجیکٹ سند طاس معاہدے کے دائرے میں آتا ہے ، اس طرح بھارت کو مشرقی دریاﺅں پر اپنا حق استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔اس ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر اُس وقت کام بند ہوگیا تھا جب دونوں ریاستوں میں ڈیم کے ڈئزائن اورپانی کی تقسیم اور دیگر معاملات پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے،اب مذکورہ ڈیم پر تعمیر کا کام بہت جلد شروع ہونے جارہا ہے۔سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیکریٹری اری گیشن اور انکے ہم منصب پنجاب کے اری گیشن سیکریٹری کے ایس پنو کے درمیان جمعہ کی شام نئی دہلی میں ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ اس موقعہ پر آبی وسائل کے مرکزی سیکریٹری امرجیت سنگھ بھی موجود تھے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ دونوں ریاستوں میں اس وقت مفاہمت ہوگئی ہے جب اسی ماہ سندھ طاس کمیشن کی اہم میٹنگ منعقد ہونے وال؛ی ہے جس میں سند طاس معاہدے کے حوالے سے دیگر معاملات پر گفت و شنید کی جائے گی۔یاد رہے پچھلے سال اوڑی حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کیساتھ بات چیت منسوخ کی تھی۔اس ڈیم سے دونوں ملکوں کی ہزاروں ہیکٹراراضی سیراب ہونے کے ساتھ ساتھ206میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی۔ پنجاب کے گرداس پور علاقے میں دریائے راوی پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کرنے کا کام1999میں شروع ہوا تھا اور اس ضمن میں جموں کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کے درمیان باضابطہ طور ایک معاہدہ طے ہوا تھا۔سال2008میںشاہپور کنڈی پروجیکٹ کے نام سے منسوب اس ڈیم کی تعمیر پر2285.81کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا ۔55.5میٹر اونچے ڈیم کی تعمیر کا مقصد پنجاب میں 5000ہیکٹر اور جموں کشمیر میں32173ہیکٹر اراضی کا سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ 206میگاواٹ بجلی پیدا کرنا تھا۔ اس پروجیکٹ کو مرکزی سرکار نے نیشنل پروجیکٹ قرار دیا تاکہ اس کی تکمیل سے پانی کا استعمال کرنے میں مدد مل سکے۔تاہم بعد میں ڈیم کی تعمیر کو لیکر دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور سال2014میں تعمیر کا کام روک دیا گیا۔حکومت جموں کشمیر کو پروجیکٹ کے ڈیزائن کے ساتھ ساتھ اس کے تحت پانی کی تقسیم اور اس کی نگرانی سمیت کئی معاملات پر اعتراض تھاجس کا پنجاب حکومت ازالہ کرنے میں ناکام رہی۔ آبی وسائل کی مرکزی وزارت نے جموں کشمیر کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں اس کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پہلے سے طے شدہ معاہدے کے خدوخال کا از سر نو جائزہ لیا گیا جس میں دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو ان کا حصہ دینے پر اتفاق کیا گیا جس میں پانی اور بجلی کا حصہ بھی شامل ہے۔اس ضمن میں دیگر لوازمات طے کئے جارہے ہیں اور اس حوالے سے دونوں ریاستوں کے مابین بات چیت کے مزید ادوار ہونگے۔ مرکزی سرکار کی کاﺅشوں کے تناظر میںدونوں ریاستوں کے متعلقہ حکام کے درمیان شاہپور کنڈی ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ایک سمجھوتہ طے پایا ہے ۔معاہدے کی رو سے ڈیم کی تعمیر کا کام عنقریب شروع کیا جائے گا۔ سمجھوتے پر پنجاب کے سیکریٹری اری گیشن کے ایس پنو اور ان کے جموں کشمیر کے ہم منصب سوربھ بھگت نے آبی وسائل کی مرکزی وزارت کے سیکریٹری امرجیت سنگھ کی موجودگی میںباضابطہ طور دستخط کئے ہیں۔سمجھوتے کے تحت حکومت پنجاب پروجیکٹ سے تیار ہونے والی بجلی کا20فیصد حصہ 3.50روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کرے گی جو مرکزی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کی منظوری سے مشروط ہوگی۔اس کے علاوہ ڈیم کےلئے حاصل کی جانے والی اراضی کا معاوضہ بھی حکومت پنجاب ہی فراہم کرے گی۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ جموں کشمیر کو 1150کیوسک پانی کا اپنا حصہ ملے۔