مرکزی بجٹ نئی بوتل میں پرانی شراب | اعداد و شمار کی ہیرا پھیری میںجموں کشمیرنظرانداز:نیشنل کانفرنس

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے مرکز کے سالانہ میزانیہ کو نئی بوتل میں پرانی شراب اورا عداد و شمار کی ہیرا پھیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں جموں و کشمیر کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک بیان میںپارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ مرکز کے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ فیصلوں سے جہاں یہاں کا ہر  شعبہ زوال پذیر ہے، وہیں اُمید کی جارہی تھی کہ سالانہ بجٹ میں جموں وکشمیر کے کلیدی شعبوں کو فروغ دینے کیلئے کسی پیکیج کا اعلان کیا جائیگا اور ساتھ ہی بے روزگاری  پر قابو پانے اور تعمیر و ترقی کیلئے بجٹ میں کچھ خاص ہوگا لیکن بجٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ مرکزی بجٹ میں اُس گیس پائپ لائن کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے جس کا اعلان 2011میں کیا گیا تھا۔ ترجمان نے سوال کیا کہ وزیر اعظم نے جموں و کشمیرکیلئے 80ہزار کروڑ روپے پیکیج کا اعلان کیا تھا وہ کہاں گئے؟ وہ 80ہزار کروڑ کب اور کہاں خرچ کئے گئے؟ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کیلئے ایمز، آئی آئی ٹی اورسینٹرل یونیورسٹیوں کے اعلانات کئے گئے لیکن ابھی تک ان پر کام شروع کیوں نہیں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعدسے جموں وکشمیر میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے جبکہ زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ تجارت ہو، سیاحت ہویا دوسرے شعبہ جات، نیز ہر ایک شعبہ شدید مالی خسارے سے دوچار ہے۔  انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ پیوندکاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جموں وکشمیر کیلئے جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اُس میں جموں وکشمیر کیلئے مختص رکھے گئے رقومات بالکل ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بجلی کی کمی بہت بڑا مسئلہ ہے اور حکومت کو چاہئے تھا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے الگ سے رقومات کا اعلان کیا جاتا۔ بجٹ میں دستکاروں، کاریگروں، ہنرمندوں کیلئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا حالانکہ یہ طبقہ جی ایس ٹی کے اطلاق سے نان شبینہ کے محتاج بن گئے تھے جبکہ گذشتہ ڈیڑھ سال کی گراں بازاری نے اس طبقہ کی کمر مکمل طور پر توڑ کر رکھ دی ہے۔