مرکز،داخلی سلامتی کے مسائل سے سختی سے نمٹنے کیلئے پُرعزم: کشن ریڈی

حیدرآباد//مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی نے کہا ہے کہ مرکز،داخلی سلامتی کے مسائل سے سختی سے نمٹنے پُرعزم ہے ۔انہوں نے حیدرآباد کے چندرائن گٹہ میں سی آر اپی ایف گروپ سنٹر میں 81ویں یوم تاسیس تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے موقف کو واضح کیا کہ تمام قسم کے داخلی مسائل کو سختی سے نمٹاجائے گا۔ماونوازوں کے تشدد پر قابو پانے سی آر پی ایف کے رول کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اس مسئلہ پر سخت موقف کے سبب گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس تشدد میں بتدریج کمی آئی ہے ۔انہوں نے ملک بالخصوص جموں وکشمیر اور شمالی مشرقی ریاستوں میں بیشتر چیلنج سے نمٹنے کے دوران داخلی سلامتی کو برقرار رکھنے میں سی آر پی ایف کے رول کی بھی ستائش کی۔مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت سی آر پی ایف کے جتھوں کو تمام قسم کے تکنیکی آلات، عصری جنگی آلات فراہم کرے گی اور سی آر پی ایف کی بہبود کے تمام امور کا خیال رکھے گی۔انہوں نے لوک سبھا انتخابات 2019کے کامیاب انعقاد کے لئے اپنی پیشہ واریت کا مظاہرہ کرنے پر عہدیداروں کو مبارکباد پیش کی۔مسٹر ریڈی نے کہا کہ سی آر پی ایف کا قیام 27جولائی 1939کو کراون ری پریزنٹیٹیو پولیس (سی آر پی)کے طورپر آیا تھا۔بعد ازاں اس کو سی آر پی ایف کانام دیاگیا۔اس فورس کا اصل مقصد لا اینڈ آرڈر کی برقراری،داخلی سلامتی کو موثر بنانے ،یکجہتی کو محفوظ رکھنے ، سماجی ہم آہنگی اور ریاستوں کی ترقی میں ریاستی حکومتوں کی مدد کرنا ہے ۔عصری آلات اور اپنی مہارت میں اضافہ کے ذریعہ اموات میں کمی کرنے سی آر پی ایف پرزور دیتے ہوئے مسٹر ریڈی نے یقین دہانی کروائی کہ وزارت داخلہ اس سمت تمام ممکنہ مدد کرے گی۔یوم تاسیس کے موقع پر سی آر پی ایف کی جانب سے حیدرآباد میں بیشتر پروگراموں کا اہتمام کیاگیا۔ملک بھر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے پلوامہ کے شہدا کو کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار، مسٹرنائیک آئی جی پی، سدرن سکٹر اور دیگر سینئر عہدیداروں کے ساتھ خراج پیش کیا۔پلوامہ میں شہید 40جوانوں کے علامتی احترام میں اس موقع پر 40مختلف اقسام کے پودے لگائے گئے ۔مسٹرریڈی کی اہلیہ نے خون کے عطیہ کے کیمپ کا افتتاح کیا جس میں سی آر پی ایف کے 81جوانوں نے خون کا عطیہ دیا۔مرکزی وزیر نے سکٹر ٹریننگ سنٹر کا بھی معائنہ کیا اور مختلف پیشہ وارانہ تربیتی پروگراموں کے دوران جتھوں کے مظاہرہ کا بھی مشاہدہ کیا۔نکسل علاقوں جیسے منظر نامہ کی پیشکشی کے ذریعہ جتھوں نے عصری ہتھیاروں کے ساتھ نکسلیوں کے خفیہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کا مظاہرہ کیا۔ہجوم کو منتشر کرنے اور ہجوم کوکنٹرول کرنے کے مظاہرے بھی کئے گئے ۔بعد ازاں وزیر موصوف نے سی آر پی ایف کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں تلنگانہ اور اے پی میں تعینات فورس کے بیشتر مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا۔