مرحوم ڈاکٹر قاضی معراج الدین کی یاد میں تعزیتی مجلس کا انعقاد

 سرینگر// ڈاکٹر قاضی معراج الدین منشی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں۔ وہ ایک بہادر مجاہد آزادی تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ ان باتوں کا اظہار جموں  کئی سرکردہ شخصیات نے کل مرحوم کی یاد میں منعقدہ ایک تعزیتی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہ مجلس کل مرحوم کے گھر واقع نگین پر منعقد ہوئی اور اسکی صدارت ان کے فرزند ڈاکٹر قاضی طارق نے کی جبکہ اس میں کئی سرکرہ شخصیات جن میں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک،پروفیسر عبدالرحمان وانی، مولانا خورشید قانون گو،شبیر احمد ڈار( مسلم کانفرنس)،ظریف احمد ظریف،سراج الدین قادری،شیخ عبدالرشید اور جاوید احمد میر قابل ذکر ہیں‘ نے بھی اس میں شرکت کی۔اس موقع پر خطا ب کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ مرحوم  لبریشن فرنٹ کے نظریہ ساز،عظیم مجاہد آزادی اور معروف معالج تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات سے تاریخ کشمیر نیز ہماری مزاحمتی تحریک کاایک اور سنہرا باب بند ہوگیا ہے۔ مرحوم ایک انتہائی حلیم الطبع شخصیت، ایک عظیم مجاہد ،تاریخی نظریہ ساز،محب وطن ،بے مثل دانشوراور جدوجہد و قربانیوں کی واضح علامت تھے جنہوںنے دوسرے بے لوث مفکرین کے ہمراہ  ۱۹۹۰ ؁ ء میں عوامی انقلاب میں کلیدی رول ادا کیا۔ مرحو م ڈاکٹر صاحب خود اس عوامی انقلاب میں ایک جوان کی طرح کود پڑے اور جیل،ٹارچر، اذیتوں، جلاء وطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ظلم و جبر اور ناجائز تسلط کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کیا اور تادم واپسیں عزیمت اور نظریے کے راہی اور ساتھی بن کر زندگی گزار دی اور بالآخراسی حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اس موقع پر دوسرے مقررین نے بھی مرحوم ڈاکٹر صاحب کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا ۔