مرتے ہیں کبھی مرنے سے فنکار بھی سیفیؔ

صحیفہ تونے دل کا آجتک کھولا نہیں سیفیؔ
ذرا اس کی زباں سمجھیں ذرا اسکا متن دیکھیں
مذکورہ شعر کے پیش نظر جب قاری‘ سیفی ؔ سوپوری کا صحیفہ دل بصورت ’’صحرا صحرا ‘‘کھولتا ہے توواقعی اس کی زبان اور متن میں تخلیقی تجربات کاایک گلستان نظر آتاہے۔یہ شعر ی مجموعہ سیفیؔصاحب کی طویل عمر کا فن کارانہ تجربہ ہے جو زیادہ ترغزلیات اور نظموں پر مشتمل ہے۔ سیفیؔ سوپوری(1922-2017ء)ایک ممتاز استاد‘دانشور‘ادیب‘شاعر اور منتظم کی حیثیت سے جانے جاتے رہے ہیں۔کشمیری زبان کے علاوہ انہیں جہاں اردو‘عربی‘فارسی اور انگریزی زبان پر کامل عبور حاصل تھا وہیں ادبی و دینی علوم‘فلسفہ و تصوف اور قواعد وعروض پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ان ہی خوبیوں کا یہ ثمر ہے کہ ان کے کلام میں فنی و فکری پختگی جگہ جگہ نظر آتی ہے۔  ؎
ہے میرے نام سے سیفیؔ قلم کی شب خیزی
نگہ کا حسن جھلکتا ہے جاں سپاروں میں
     تخلیقی تناظر میں دیکھیں تو تخلیق میںتصور سے زیادہ تخیل کی اہمیت ہوتی ہے اور اگرشعر میں تخیل کے بدلے صرف تصور ہی در آئے تو وہ شعر اپنا دیرپا تخلیقی تاثر قائم رکھنے میں ناکام رہے گا۔ایک باشعور شاعر کاکلام جمالیاتی تجربے(Aesthetic Experience )کا آئینہ ہوتا ہے جو قاری کو فنی و فکری اور تخلیقی پیرائے کے صدرنگ جلوئے دکھاتا ہے اور یہ صد رنگ جلوئے تب ہی کسی کلام میں نظر آئینگے جب شاعر کے تخلیقی تجربے میں تخیل کی چمک شامل ہوگی۔اب اگر تخلیق کار کے تخلیقی تجربے پر غور کریں تو ایک ذہین تخلیق کار مشترک محسوسات (Common Sensibles)کو مخصوص محسوسات(Special Sensibles)کی صورت میں تخلیق کا حصہ بناتاہے اوریہی تخلیقی تجربہ قاری کے احساس پراثر انداز ہوتاہے ۔ٹی ۔ایس ۔ایلیٹ T.S.Eliot)) کے الفاظ میں:
 ’’جب شاعر کا ذہن مکمل طور پر اپنے کام پر آمادہ ہوتا ہے تو یہ مستقل طور پر منتشر تجربوںکو وحدت میں ڈھالتا رہتا ہے۔‘‘ 
     مذکورہ تصورات کے پیش نظر جب سیفی ؔسوپوری کے کلام کا مجموعی جائزہ لینے کی کوشش کریں تو ان کے بیشتر اشعار تخیل کے جمالیاتی تجربے اور مخصوص محسوسات کے تخلیقی رچاؤکی عمدہ مثال پیش کرتے ہیں۔سیفی ؔ صاحب کی تخلیقی زبان کی خوبی کا اعتراف کرتے ہوئے معروف شاعر رفیق راز ؔ رقمطراز ہیں:’’وہ زبان کو تخلیقی طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے کلام میں تہہ داری پیدا ہوئی ہے۔‘‘
  (صحرا صحرا۔۔ص ۱۱)
  یہی تخلیقی رچاؤ اور جمالیاتی تجربہ سیفی ؔ صاحب کے شاعرانہ اختصاص کا اشاریہ بن جاتا ہے،بطور دلیل چند اشعار پیش کررہا ہوں:   
میرا دل میرے خیالات کی دنیائے حسیں
موسم گل میں کوئی صحنِ گلستاں جیسے
ہم بیا بانوں میں کرتےتھے بہاروں کو تلاش
اب یہ کیا پوچھ رہے ہوکہ کہاں تھے پہلے
برگ گل پر سے اسی طرح گزرتی ہے نسیم
ترے ہونٹوں پہ تبسّم گزراں ہو جیسے
مجھے تو ڈر ہے کسی بادباں کی خیر نہیں
بہت قریب سے دیکھا ہے میں نے طوفاں کو
ہر سانس کے پردے میں چھپا کھولتا  چشمہ
ہر چہرے پہ احساس کا آئینہ لگا ہے
دل حرف کو فولاد کی شہتیر بنا دے
پُل برف سے بنتے ہیں تو محکم نہیں  ہوتے
دل کو تڑپاتا ہے انداز غزل سیفیؔ کا
یہ سخن سنج کوئی اہل زباں ہو جیسے
       آخری شعر تجاہل عارفانہ کی عمدہ مثال ہےورنہ اُنکا کلام پڑھ کر انہیں کوئی اہل زبان کیوں نہ پیچھے کیونکہ انکا کلام زباںدانی اور شخص شناسی کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتا ہےچونکہ موصوف نہ صرف اردو اور فارسی زبان پر مکمل دسترس رکھتے تھے بلکہ دونوں زبانوں کی اصطلاحات ‘ تراکیب اور محاورات کا موزوں استعمال بھی ان کی تخلیقات میں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ اب دوسرے اشعار پر ارتکاز کریں تو ان اشعارمیں رومان انگیز جمالیاتی احساس کو دلنشین پیرائے میں ڈھالا گیا ہے کہ قاری کی حسیات متاثر ہوئے بغیر نہیںرہ سکتی۔دل کے حسیں خیالات کو موسم گل کے صحن گلستان سے تشبیہ دینا،بیابانوں میں بہاروں کی تلاش یعنی کسی مقصد کے لئے جان جوکھم میں ڈال کر جدوجہد کرنا اور کامیابی ملنے کے بعدنظر انداز ہونے کا شکوہ‘  ہونٹوںکے تبسم گزرتی نسیم سے تشبیہ دینا‘مصیبت کے طوفان کو سانس کے ابلتے چشمے کی علامت  اور برف کے پل یعنی ناپائیداری کی علامت کے طو پیش کرنا اسکی نمایاں مثالیں ہیں۔
      سیفیؔصاحب کے کلام میں حسی نظام(Sensory Organization )کا دلکش منظرنامہ نظر آتا ہے جو قرات کے دوران قاری کی جمالیاتی حس کو فکری و بصری لطافت سے محظوظ کردیتا ہے۔یہ منظر نامہ شعر میںخوبصورت تشبیہات ا ور استعارات کے مصورانہ تجربے کی بدولت بن گیا ہے۔جیسے:
جو سیفی ؔآہ مسلا جارہا ہے صحن گلشن میں
گلستان جوانی کا گل شاداب ہے ساقی
میرا دل میرے خیالات کی دنیائے حسیں
لب لعلیں کا تبسم گل خنداں جیسے
شاید کسی بہار نے دیکھا نہ ہوکبھی
وہ پھول جو گلاب سے اچھا لگا  مجھے
گل مہکتے ہیں‘ فضا راگ سنانے آئے
کیا دل وجاں سے گزرنے کے زمانے آئے
حواس ہی کھو دئے ہیں لگتا ہے گلستاں نے
نہیں تو سروسمن کو بھی یاد تھے قرینے
زمانہ تجھ سے لکھانے لگا تھا لوح جبیں
صبا نے سونپا تھا خوشبو کا کاروبار تجھے
صبا آئینے سحر ِ سامری سے کم نہیں
عبا پیرا فرشتے ہیں ‘ بنی آدم نہیں ہیں
سب ہنس شبِ ماہ کی کشتی میں رواں تھے
ہر سمت بس آوازۂ گلبانگ سحر تھا
سیفیؔسوپور ی کا کلام اظہار اور معنوی سطح پر معنی خیز تشبیہات و استعارات اور علامتوں کے فن کارانہ اسلوب کا مظہر ہے اور یہی اسلوب ان کے کلام میں معنوی جہات کو مہمیز کرتا ہے۔ایک طرف ان کے اشعار میں عرفان و آگہی کی متنوع تعبیریں پوشیدہ ہیں اور دوسری جانب ان میں اپنے معاشرے کی سیاسی‘سماجی‘معاشی اور ثقافتی صورتحال کی فکرانگیز عکاسی نظر آتی ہے۔ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ کشمیر میں اردو زبان وادب کے فروغ کا احساس بھی سیفی ؔصاحب کو یہ کہنے پر مجبور کردیتا ہے کہ جب دلی جیسے علم وادب کے گہوارے میں اردو کا گلابی چہرہ  دھوپ کی تپش سے جھلسنے لگا تو جنت کشمیر کی گلابی آب وہوا ہی اس کی گلابی رنگت کو نکھارنے کے لئے سازگار ثابت ہوئی۔   ؎
دلی کے کوچوں میں جب لو لگی اسکو
کشمیر کی جنت میں چلی آئی ہے اردو
چاہئے کتنا ہی مخالف ہو زمانہ سیفیؔ
مٹ نہیںسکتی مرے دیس سے ہرگز اردو
دل کھڑکی سے کبھی جھانک لیا تو ہوتا
اس بیا باں میں ہیں پوشیدہ خزانےکتنے
دیار فکر سے امکان کا گزر ہوگا
دلوں کا نور نگاہوں کا ہمسفرہوگا
ہم نے طوفانوںسے خوشبوئیں چھپا رکھیں ہیں
وقت آئے گا تو ہم بات کریں گے من کی
غاروں سے نکلتا ہوا صحرا نظر آیا
دیوار کا ہٹنا تھا کہ دریا نظر آیا
میں نے خود اس کے ہاتھ میں تلوار سونپ دی
اب کانپتا ہوں وہ مجھے اس کی سزا نہ دے
    ’’صحرا صحرا‘‘میں غزلوں کے علاوہ نظمیں بھی شامل ہیں ‘جن کا مطالعہ بھی خوشگوار تاثر چھوڑ رہا ہے۔ان میں ایک خوب صورت نظم بعنوان ’’جھیل ڈل اور چاندنی رات‘‘بھی شامل ہے۔نظم میں کشمیر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کے دلفریب مناظر کی دلکش منظر کشی کی گئی ہے۔ جھیل کے نیلے پانی میں چاندنی رات کے نورانی منظر سے محظوظ ہوکر شاعر کاجمالیاتی شعور بھی بیدارہوجاتا ہے اور وہ جھیل کے پانی میں ’’جہانگیر‘‘ کی روح کے ساتھ چاند کے روپ میں’’ نورجہاں‘‘ کا عکس بھی دیکھ لیتا ہے اور پھر جھیل کے طلسماتی ماحول کے زیر اثر سینۂ ڈل سے’’ ثریا‘‘ کے ابھرتے ہوئے جواب کے بعد باغات اور سرو وچنار کا ذکر چھیڑ دیتا ہے:
شالہ ماروں کا نشیمن ‘ نسیموں کا  وطن
سایہ افگن ہیں بہاروںپہ جہاں سروو چنار
چاندنی راتوں  میں بن جاتے ہیں عنوان بہشت
ڈل کے شاداب کنارے ہیں تقدس بکنار
کتاب میں شامل دوسری نظمیں بھی شاعرانہ حسن سے آراستہ ہیںجن پر بات کرنے کی ضرورت توہے لیکن مجموعے کا پورا جائزہ ایک مقالےمسبوط کا تقاضا کررہا ہے ۔مجموعی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر کے اس کہنہ مشق شاعر کا کلام فنی طور پر کسی بھی قادرالکلام شاعر سے کم تر نہیں لگ ر ہا ہے۔ اس خوبی کے باوجود کہ اگرچہ پیش نظر مجموعے کی غزلوں میں فکر و فلسفہ اور شاعرانہ حسن موجود ہے تاہم ایک بات جو مجھے محسوس ہوئی  کہ ان کی بیشتر غزلوں میں غنائی آہنگ (Lyrical melody) کی کیفیت کم ہی نظر آتی ہے۔اس کی ایک وجہ فارسی تراکیب اور فلسفیانہ  افکار کا غلبہ بھی ہوسکتا ہے ۔بہرحال یہ ایک قابل بحث مسٔلہ ہے جو باشعور قارئین کی رائے پر ہی انحصار رکھتا ہے۔    ؎
سیفیؔ آئینۂ حیراں کی طرح سے خاموش
اس کو سمجھانے فسانے پہ فسانے آئے
………………………..
 رابطہ  وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221   
cell.7006544358