مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں | انڈیااتحاددرجہ فہرست ذات وقبائیل کے حقوق مسلمانوں کو دیناچاہتا ہے:مودی

یواین آئی

مرزاپور//وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو انڈیا اتحاد پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ریزرویشن ختم کر کے مسلمانوں کو دینا چاہتے ہیں لیکن ایس سی۔ ایس ٹی اور پچھڑوں کا ریزرویشن چھیننے والوں کے سامنے مودی کھڑا ہے۔یہ مودی کی گارنٹی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہونے دیں گے۔یہاں این ڈی اے کی اپنا دل امیدوار انوپریا پٹیل اور سونبھدر سے اسی پارٹی کی رنکی کول کی حمایت میں منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ریزرویشن کے مسئلے پر انڈیا اتحاد کے اہم جماعتوں سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور کانگریس پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد دلتوں اور پچھڑوں کا ریزرویشن ختم کر کے مسلمانوں کو دینا چاہتے ہیں۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہونے دیں گے۔ان لوگوں کے نشانے پر آئین بھی ہے لیکن ان کے سامنے مودی کھڑا ہے۔ایس پی نے 2012 اور 2014 میں اپنے منشور میں باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ دلتوں، پچھڑوں کو ملنے والے ریزرویشن کی طرح مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ پولیس اور پی اے سی میں 15فیصدی ریزرویشن دیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہ اکہ انڈیا اتحاد پانچ سال میں پانچ وزیر اعظم کے شرط پر الیکشن لڑرہی ہے۔ یہ ملک کے لئے نہیں بلکہ اپنی کرسی بچانے میں ہی رہیں گے جبکہ ملک کو مضبوط وزیر اعظم چاہئے۔ آپ لوگ مکان بنانے کے لئے بھی بار بار۔ مستری نہیں بدلتے یہ تو مضبوط ملک کی بات ہے۔ ملک اس بار پھر مودی سرکار بنانے کا من بنا لیا ہے۔ اور عوامی حمایت مل رہی ہے۔سماج وادی پارٹی کو ووٹ دے کر ووٹ برباد نہ کریں۔ جیسے ڈوب رہی کمپنی میں کوئی شیئر نہیں لیتا ہے ویسے ڈوب رہے اپوزیشن کو ووٹ دے کر برباد نہ کریں۔مودی نے کہا کہ کانگریس اور ایس پی فرقہ پرست، ذات وادی اور پریوار وادی ہیں۔ اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں ایس پی کے میعاد کار میں مایفا سے عوام کانپتی تھی۔ اب مافیا کانپ رہے ہیں۔ مافیا کو قانون کا کوئی خوف نہیں رہتا تھا انہیں حکومت کا تحفظ حاصل رہتا تھا۔ زمین پیسہ کب چھن جائے گا پتہ نہیں رہتا تھا۔ اب مافیا گیری ختم ہوگئی ہے۔ان کے یہاں پہنچنے پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران نائب وزیر اعلی کیشو پرسا دموریہ اور وزیر دیا شنکر مشر دیالو کے ساتھ مرزاپور سونبھدر کے عوامی نمائندے موجود رہے۔ایک اورریلی میںوزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سمیت انڈیا اتحاد پرووٹ بینک کی سیاست کو لے کر تلخ لہجے میں کہا کہ انڈیا اتحاد کو اپنے ووٹ بینک کی غلامی کرنی ہے تو کرے اور ان کو وہاں جا کر مجرا کرنا ہے تو بھی کریں۔پاٹلی پترا پارلیمانی حلقہ سے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے امیدوار رام کرپال یادو کے حق میں ہفتہ کو وکرم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ” مودی کے لیے آئین سب سے اہم ہے۔ مودی کے لیے بابا صاحب امبیڈکر کے جذبات سب سے اہم ہیں۔ اگر انڈیا اتحاد کو اپنے ووٹ بینک کی غلامی کرنی ہے تو کرے۔ ان کو وہاں جا کر مجرا کرنا ہے تو بھی کریں۔ میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) – درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (اوبی سی) کے ریزرویشن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔کانگریس، آر جے ڈی اور انڈیا الائنس کے لیڈروں پر ذات پات، فرقہ پرست اور خاندانی سیاست میں یقین رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے لیڈروں نے ایس سی-ایس ٹی، او بی سی اور اقتصادی طور پر کمزور طبقہ (ای بی سی) کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور وہ کبھی بھی بہار کے لوگوں کابھلا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے لیڈروں نے ان طبقات کا ریزرویشن کوٹہ چھین لیا اور التزامات کے برعکس مسلمانوں کو ریزرویشن دے دیا۔ مودی نے کہا کہ ووٹ بینک کو خوش کرنے کی نیت سے کانگریس نے راتوں رات اقلیتی اداروں کے قانون کو بدل دیا اور ایس سی-ایس ٹی، او بی سی اور ای بی سی زمروں کے طلباء کو محروم کرتے ہوئے ہزاروں اداروں کو اقلیتی درجہ دے دیا۔ کانگریس نے مسلمانوں کی 77 ذاتوں کو او بی سی کا درجہ دیا اور عام او بی سی زمرے کے لوگوں کو محروم رکھتے ہوئے انہیں او بی سی کوٹہ ریزرویشن فراہم کیا۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے اپوزیشن کے ارادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انڈیا اتحاد کے لیڈر ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن جب تک وہ زندہ ہیں وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔