مذہبی معاملات میں فوجی مداخلت ناقابل قبول

 سرینگر//جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں تعینات بھارتی افواج نے عوام کو ہراساں کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کے تحت اب لوگوں کے دینی معاملات میں مداخلت بے جا، مساجد کے ائمہ و خطیب کو کیمپوں پر بلاکر اُن کی دینی سرگرمیوں سے متعلق پوچھ گچھ اور دینی اجتماعات کی کارروائیوں سے متعلق بے جا تحقیقات اور جمعہ خطابات سے متعلق غیر ضروری سوالات بھی شامل ہیں۔ کئی ایک مقامات پر دینی اجتماعات منعقد کرنے پر کئی افراد کو کیمپوں میں بلاکر اُن کے ساتھ وحشیانہ اور غیر شائستہ سلوک بھی کیا گیا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کا ظاہری مقصد یہاں کے دین پسند عوام کو دینی سرگرمیوں سے باز رکھنا دکھائی دیتا ہے علی الخصوص نوجوانوں کے اندر دینی شعور پیدا ہونے کو روکنے کی خاطر‘ اس طرح کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ جنوبی کشمیر میں قائم فوجی کیمپ اس طرح کی کارروائیاں انجام دینے میں سرگرم ہیں جو کہ یہاں کے عوام کے دینی معاملات میں ایک صریح مداخلت ہے اور اس طرح لوگوں کے حساس جذبات کے ساتھ جان بوجھ کر کھلواڑ کیا جارہا ہے اور اُن کو بلاوجہ اشتعال دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایک مقامات پر لوگوں کو دینی اجتماعات میں شرکت سے باز رکھنے کی خاطر‘ نوجوانوں کو کیمپوں پر حاضری دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے اور جمعہ خطیبوں کو اپنے خطبات کی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ بھیجنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی بھارتی فوج اور دیگر ایجنسیوں کی ان کارروائیوں کو لوگوں کے دینی معاملات میں بے جا مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی کڑی مذمت کرتی ہے۔