مذہبی رواداری انسانیت امن کا اہم ستون

اس مہینے کے اوائل میں دنیا کے کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ فرانسس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کے دورئہ عراق کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی پوپ نے عراق کا سفر کیا ہو۔
دورے کی تفصیلات سے قبل چند حقائق پوپ کے بارے میں۔ 80سالہ پوپ فرانسس کا اصل نام Jorge Mario Bergaglio ہے اور کیتھولک چرچ کے وہ 266ویں پوپ ہیں ان کا تعلق جنوب امریکی ملک ارجینٹنا سے ہے اور وہ تقریباً 13صدی بعد دوسرے ایسے پوپ ہیں جو کہ غیر یوروپی نژاد ہیں۔ پوپ فرانسس نے اپنا پاپائی نام اٹلی کی عیسائی اولیاء سینٹ فرانس کی یادمیں فرانسس رکھا ہے۔ پوپ فرانسس کو ایک نرم مزاج لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے پوپ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ عام طور پر زیادہ تر مذہبی موضوعات پر ان کارخ ہمیشہ روایتی مذہبی اصولوں پر مبنی رہتا ہے۔ تاہم انھیں ان کی روشن خیالی کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بطور پوپ انھیں غریب غربا کی مدد کرنے کے علاوہ ان کے مسائل پر اپنی رائے دینے کا بھی حق بھی حاصل ہے جس کا اطلاق تمام انسانیت پر ہوتا ہے، ساتھ ہی وہ بین مذاہب مذاکرات، رواداری اور بقائے باہمی کی بہت زیادہ ہمت افزائی کرتے ہیں۔
اپنے تین روزہ دورے کے دوران پوپ فرانسس نے بغداد ، نجف، موصول، اُر اور فرقوش کا سفر کیا۔ بقول ان کے ، ان کے اس دورے کا مقصد صدیوں پرانی عراقی کثیر مذاہب روداری کو دوبارہ قائم کرنا اور وہاں کے مسلمانوں کو اپنے عیسائی ہم سایوں کے ساتھ مل جل کر دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
ان کے دورے کی شروعات بغداد میں صدر براہم صالح کے ساتھ ملاقات سے ہوئی۔ انھوںنے صدر صالح کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عراق کے عیسائیوں کو بھی ملک کے اکثریتی مسلمانوں کی طرح تمام حقوق اور تحفظات کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔ عراق جو کہ تہذیبی تمدن کا گہوارہ رہ چکا ہے وہاں کی مذہبی رواداری اور بقائے باہمی کی روایتوں کی کوئی اور ملک برابری نہیں کرسکتا۔ پوپ نے ملاقات میں زور دیا کہ عراق کی اقلیتیں بشمول عیسائی بھی ملک میں برابر کے حقوق اور تحفظات کے حق دار ہیں۔ پوپ نے مزید کہا کہ عراق کی مذہبی رواداری کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ صدیوں سے عراق اور وہاں کے باشندے اپنی مذہبی روادای، اقدار اور دیگر مذاہب کی عزت کرنے کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ ایسے اقدار نہیں جو کہ ترقی اور امن کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں حائل کرتے ہیں بلکہ یہ وہ اقدار ہیں جن کے ذریعہ روایتی بقائے باہمی کے اصولوں کو اور زیادہ فروغ دے کر ایک ایسے سماج کی تشکیل دی جاسکتی ہے جو کہ ان اصولوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ صدر صالح نے جو کہ خود ’کرد‘ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں، ان خیالات کی تصدیق اور حمایت کی اور کہا کہ عیسائیوں کے بغیر مشرق کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر عراق سے ان کا انخلا جاری رہے تو اس کے خطہ اور اس کے باشندوں پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو کہ مستقبل کے لیے خوشگوار نہیں ہوں گے۔
پوپ کی سب سے اہم ملاقات تاریخی شہر نجف میں با اثر شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ سیستانی سے ہوئی۔ گو کہ اس ملاقات کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ لیکن وینٹکن کے مطابق پوپ نے اس ملاقات کو اپنے لیے ذہنی روحانی اور قلبی ٹھنڈک سے تعبیر کیا۔ ذرائع کے مطابق پوپ نے علی سیستانی کا خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں اور اقلیتوں کو تحفظ دینے کے احکامات جاری کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات کو پورے خطے میں خاص طور سے عراق میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ واضح رہے کہ ماضی میںآیت اللہ سیستانی نے جنگ جو داعش کے خلاف ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا جس میں عراقیوں کو داعش کے خلاف نبردآزما ہونے کی اجازت دی گئی تھی ساتھ ہی انھیں ملک کی اقلیتوں کی حمایت اور تحفظ دینے کے لیے زور دیا گیا تھا۔
تہذیب و تمدن کا گہوارہ
پوپ نے اپنے قیام کے دوسرے دن، جنوب عراق کے شہر اُر کا بھی رخ کیا۔ اُر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے اور انھیں یہود عیسائی اور اسلام، تینوں مذاہب کا پیشوا مانا جاتا ہے اور تینوں ہی مذاہب میں انھیں اپنے خالق کے مقرب بندے کے طور پر اور اپنے مذہبی پیشوا کے طور پر عزت دی جاتی ہے۔ اُر جنوبی عراق کے نصیریا علاقے کا ایک تاریخی شہر ہے اور ماضی میں انسانی ترقی کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پہلی دفعہ خام تیل کا استعمال روشنی اور حدت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔اور یہیں پر حمورابی نے پہلے سماجی قوانین کی فہرست مرتب کی تھی اور یہیں پر دنیا کے سب سے پہلے پہیے کی ایجاد کی گئی،جس کا انسانی ترقی میں ایک اہم رول رہا ہے۔
اُر میں اپنی تقریر میں پوپ نے مسلمان اور عیسائی رہنما سے اپیل کی کہ انھیں اپنے درمیان حائل دوریوں اور کدورتوں  کو بھلا کر آپسی امن و استحکام قائم کرنے کی کوشش اور کام کرنا چاہیے۔ انھوںنے زور دے کر کہا کہ آپسی رنجشیں، بدگمانیاں اور خوںریزی کسی مذہبی سوچ کے نتائج نہیں ہیں بلکہ ایسے خیالات اور سوچ مذہب کی نفی کرتے ہیں۔ اُر میں ہی ایک بین مذاہب مذاکرات اجلاس کے دوران پوپ نے دونوں مذاہب کے مذہبی قائدین اور اکابرین سے گزارش کی کہ انھیں آپسی رنجشوں کو بھلا کر امن و استحکام کے لیے کوشاں ہونا چاہیے۔
قربل اور موسل میں اپنی تقاریر میں پوپ نے اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا کہ جس خطے سے دنیا میں علم وتمدن کی شروعات ہوئی وہیں پر اتنی بربریت اور تشدد دیکھنے کو ملے کہ آپ اپنے ہم سایہ کو مارنے میں بھی چوک نہیں کرتے۔ اکثریت، اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کے بعد انھیں مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے آمادہ ہو۔ اس خطے میں ہونے والی تباہ کاری کو جہاں ایک جانب مغربی سازش قرار دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی دور کی ہر چیز کو نیست و نابود کرنے پر تلی ہوئی تھی، وہیں مغربی ملک داعش جیسی تنظیموں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس خطے میں موجود تاریخی کلیساؤں کو تباہ کرکے وہ خطے سے عیسائی موجودگی کو مکمل طور پر ختم کرنے چاہتے تھے۔
پوپ کے اس دورے کو مختلف حلقوں میں مختلف انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ چونکہ پوپ کیتھولک چرچ کے مذہبی پیشوا کے علاوہ خود مختار ریاست ویٹیکن کے سیاسی یا انتظامی سربراہ بھی ہیں۔ اس لیے ان کی ہر کاوش کو سیاسی اور مذہبی دونوں ہی زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ہونے والے اس دورے کا مقصد خطے میں گزشتہ بیس سالوں سے جاری جنگوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے پہلے قدم سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اب مغربی دنیا ’تہذیبوں کے ٹکراؤ‘ والی فکر کو نظر انداز کرکے ’تہذیبوں کے اشتراک‘ کی شروعات کرنا چاہتی ہے، ساتھ ہی اس کوشش کی شروعات کرکے وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عراق کے سلسلے میں جو جھوٹ بولے گئے، مغربی دنیا ان کا ازالہ کرنا چاہتی ہے اور ایک ایسا نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتی ہے جس میں تمام ممالک اور مذاہب امن و استحکام اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل۔[email protected]