مذہبی بنیادوں پرکسی بھی قسم کا امتیاز دستورہند کی توہین

حیدرآباد// نائب صدرجمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو نیکہا کہ مذہبی بنیادوں پرکسی بھی قسم کا امتیازدستورِہند کی توہین ہے۔ مذہب کی بنیاد پرشہریوں پرحملوں کے واقعات ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔ خاطیوں کو قانون کے تحت جتنی جلد ممکن ہو زیادہ سے زیادہ سخت سزا دی جانی چاہئے۔ نائب صدرجمہوریہ آج سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کیمپس میں مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے گریجویشن ڈے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کلیدی خطبہ دے رہے تھے۔ خان لطیف محمد خان چیرمین سوسائٹی نیصدارت کی۔اس موقع پرتلنگانہ کے وزیرداخلہ  محمد محمود علی ، پی جناردھن ریڈی پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم، ظفرجاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی، ولی اللہ وائس چیئرمین، پروفیسرایس رام چندرم وائس چانسلرعثمانیہ یونیورسٹی، نثاراحمد جوائنٹ سکریٹری، ڈاکٹر میر اکبرعلی خان خازن سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی موجود تھے۔ایم وینکیا نائیڈونیکہا کہ تہذیب اورثقافت طریقہ زندگی ہیاورمذہب عبادت کا طریقہ ہے۔ چنانچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوستان کی تعمیرایسے متمدن تہذیب پرہوئی ہے رواداری جس کی بنیاد ہے۔ ہندوستان میں مذہبی آزادی بنیادی حق ہے، جس کی دستورکی دفعات 25 تا 28 میں ضمانت دی گئی ہے۔ اگرچہ کہ ہمارے ملک میں اکثریت ہندوؤں کی ہے۔ تاہم دستور کیمنشورمیں ہمارے ملک کے سیکولرہونے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ہرشہری کوکسی بھی امتیاز کیبغیرمساوات کی ضمانت دی گئی ہے، جو دراصل پانچ ہزارسالہ قدیم ہندوستانی تہذیب کے اقدارکا خمیر ہے۔نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان چار مذاہب ہندومت، بدھ مذہب، جین مت اورسکھ دھرم کا جنم استھان ہے تاہم اسلام، عیسائیت اورپارسیوں کی قابل لحاظ آبادی ہندوستان میں بستی ہے۔درحقیقت ہندوستانی مسلم دنیا کی مسلم آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ 7 مذاہب کے ماننے والوں سے ہندوستان بھائی چارگی، مساوات، رواداری اوربقائے دوام کا سب سے بہترین نمونہ ہے۔ زندگی کیتمام شعبہ جات میں مذہبی مساوات ہیں۔ اقلیتی مذاہب کیماننے والیاس ملک کے صدر، نائب صدر، وزیراعظم، گورنرس، وزرائے اعلیٰ اور وزیرکے عہدوں پرفائزہوتے رہے ہیں۔ اورموسیقی، ثقافت، اسپورٹس اورفلم میں ان کی گراں قدر خدمات رہی ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کو ووٹ بینک کی حیثیت سے دیکھے جانے کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہا کہ اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ایک نئیاورتیزی سے ترقی کرنے والے ہندوستان کا وجود عمل میں آرہا ہے۔ وینکیا نائیڈو نے مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کینئے گریجویٹ طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئیاس امید کا اظہارکیا کہ وہ اپنیکیریئرکا ایک سنگ میل پارکئے ہیں۔ زندگی کا یہ لمحہ قابل فخربھی ہے اورخود کے محاسبے کا بھی ہے۔ اپنیکارہائے نمایاں کو ایک نصب العین میں تبدیل کرنے کا ہے۔ ایک نئی راہ پراپنے مستقبل کی تعمیرکیساتھ ساتھ اپنے والدین، اساتذہ اورایم جے کالج کی امیدوں، توقعات، اس کیاقدارکا بھرم رکھنیکا ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ایم جے کالج آف  انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی نے ہندوستان کیاعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔ یہ کالج تعلیم کے اعلیٰ معیار، عصری، جدید انفراسٹرکچر، قابل اورجانفشاں فرض شناس انتظامیہ، فیکلٹی کی بنیاد پر ترقی کررہا ہے۔ انہیں اس بات کی بھی مسرت ہے کہ ایم جے کالج تعلیمی اورغیرتعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہیاوراس کے سابق طلبہ اس کالج کومایہ ناز بنانیکیلئے کوشاں ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ جو عالمی قیادت کی متمنی ہے۔ انجینئرنگ گریجویٹس اپنے تنوع اورمستقبل کے اقدامات سیاس کیتمناؤں کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ انہوں نیانجینئرنگ گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ اس  بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی سیانسانی معیارزندگی بہتر ہوں اور یہ فراہمی روزگاراورترقی کا سبب بنیں۔ریاستی وزیرداخلہ محمد محمود علی نیسلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی خدمات کی ستائش کی۔ انتظامیہ کومبارکباد پیش کی۔ طلبہ کے روشن مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی ظفرجاوید نے ایم جے کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی 38سالہ کارکردگی پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کیمپس پلیسمنٹ میں ساڑھے چارہزارسے زائد طلبہ کا ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے انتخاب عمل میں آیا ہے۔ 18-2017 اور19-2018 میں تین طلبہ کوسالانہ 11لاکھ روپئے تنخواہ کی پیشکش پرملٹی نیشنل کمپنی نے خدمات حاصل کی۔ ایم جیکالج نے اپنے سال آخر کے طلبہ کے لئے ٹائم، ٹیلنٹ اسپینٹ کے علاوہ ٹاسک کے ذریعہ کوچنگ اور اسکیل ڈیولپمنٹ کی روایت شروع کی ہے۔ تمام انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی کورسس کیلئے ریسرچ سنٹرس ہیں فی الحال 69 اسکالرس پی ایچ ڈی کی تکمیل کررہے ہیں۔