مذاکرات کار کے ساتھ میٹنگ : سازشی قیاس آرائی کا مظاہرہ:پروفیسر بٹ

سرینگر//سینئرمزاحمتی لیڈرپروفیسرعبدالغنی بٹ نے’’ مذاکراتکار دنیشور شرما کیساتھ میٹنگ کوسازشی قیاس آرائی ‘‘سے تعبیرکرتے ہوئے واضح کیا’’میں مذاکرات کا حامی ہوں لیکن پردوں کے پیچھے ایسے کسی عمل کا طرفدارنہیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ27نومبرکی شام ایک کشمیری پنڈت اورایک غیرکشمیری شخص جب اُنکی رہائش گاہ پرملنے کیلئے آئے تووہاں اُسوقت کوئی حریت ممبرموجودنہیں تھا۔کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے چیئرمین اورمیرواعظ کی سربراہی والی حریت کانفرنس کے ایک سینئرلیڈرپروفیسربٹ کاکہناتھاکہ 27نومبرشام کی ملاقات کے حوالے سے جوشورمچایاگیاوہ ایک سازشی قیاس آرائی لگتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اُس شام مجھے بتایاگیاکہ دولوگ دروازے پرہیں اوروہ مجھ سے ملناچاہتے ہیں ۔پروفیسرغنی کے بقول ’میں نے کہاکہ دروازے کھلے ہیں ،جوآئے ہیں اندرآجائیں ‘۔انہوں نے کہاکہ اسکے بعددوافرادمیرے کمرے میں داخل ہوئے ،جن میں ایک کشمیری پنڈت نوجوان تھااوردوسراکوئی غیرکشمیری تھا۔مسلم کانفرنس کے چیئرمین کے مطابق میں نے کشمیری پنڈت سے کہاکہ واپس کشمیرلوٹئے ،یادیں ستاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کمرے میں صرف ہم تین موجودتھے اورکوئی حریت ممبریہاں نہیں تھا۔پروفیسرغنی کے بقول دیکھنے والی آنکھ شایدبھینگی تھی کہ کشمیری پنڈت حریت والااورغیرکسی کشمیری مذاکرات کاردنیشورشرمادکھائی دیا۔مسلم کانفرنس کے چیئرمین نے واضح کیاکہ میں مذاکرات کاحامی ہوں لیکن پردوں میں نہیں رہتاہوں ۔انہوں نے کہاکہ میں اندھیروں میں فریب کارانہ سیاست سے پناہ مانگتاہوں ۔اس دوران پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ میں اپنی پارٹی کے مستبقل اوراپنی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے آنے والے کچھ دنوں میں فیصلہ لونگا۔انہوں نے کہاکہ میں ستم زدہ کشمیری قوم کے خون اورآنسوئوں پرسیاست نہیں کرتا۔پروفیسرغنی کاکہناتھاکہ میں شوق ِ تشہیرکے نشے میں ٹھوکریں کھانے والوں میں شمارنہیں ہونگے ،کیونکہ اُن کایااُنکی جماعت مسلم کانفرنس کامقصدکبھی ہوس اقتدارنہیں رہاہے اورنہ کبھی رہے گا۔کے این ایس کے مطابق مسلم کانفرنس کے چیئرمین نے کہاکہ کشمیریوں کی سیاسی نفسیات عالمی سطح پرصورت پذیرملکوں کی اقتصادی ترجیحات ،اقوام متحدہ کی بے حسی وغیرفعالیت اورپھراس پرمستزادیہ کہ بھارت اورپاکستان میں جوہری ہتھیارہیں ،اورایسے خطرات کے پیش نظرمذاکراتی عمل ہی برصغیرمیں مسئلہ کشمیرکاحل ڈھونڈنکالنے کاموثرذریعہ قرارپاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ میں یہ بات حتمی سمجھتاہوں کہ پاک بھارت مذاکرات میں ہی کشمیرمسئلے کاحل پوشیدہ ہے۔پروفیسربٹ کاکہناتھاکہ دونوں ملک کشمیریو ں کومذاکراتی عمل میں شامل کرتے رہے ہیں ،اسلئے یہی طریقہ پھراپنایاجاناچاہئے تاکہ مسئلہ کشمیرکے حل کی راہ نکل سکے۔