مذاکرات کاردنیشور شرما کا دورہ ہندوارہ

 
کپوارہ//حکومت ہند کی جانب سے جمو ں و کشمیر میں متعلقین سے بات چیت کرنے کے لئے مقرر کئے گئے مزاکرات کار دنیشور شرما نے جمعرات کو ہندوارہ کا دورہ کیا اور وہا ں کے انوائرنمنٹ ہال میں متعدد عوامی وفود کے علاوہ عوامی اتحاد پارٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کی ۔اس موقع پر عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالماجد بانڈے کی قیادت میں ایک وفد نے دنیشور شرما سے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کر نے کے لئے مرکزی سرکار شاٹ کٹ کا راستہ ترک کریں کیونکہ عوامی اتحاد پارٹی کا موقف مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے عیاں ہے ۔عوامی اتحاد پارٹی نے دنیشور شرما پر واضح کر دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کسی پیکج سے نہیں ہے اور نا ہی یہ کوئی امن و قانون کا معاملہ ہے ۔کشمیر مسئلہ متنازعہ ہے اور آج ریاست جن بد ترین حالات سے گزر رہی ہے اس کا ذمہ دار مرکزی سرکار ہے کیونکہ نئی دلی کشمیر سے کئے گئے وعدو ں سے منحرف ہوئی ہے اور نتیجے کے طور ریاست میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں ۔وفد نے کہا کہ کشمیری ہندوستان کے دشمن نہیں ہیں اور نا ہی یہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں ۔انہو ں نے مزاکرات کار پرزور دیا کہ وہ دلی میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے مرکزی سرکار کو حریت ،عسکری قیادت اور پاکستان سے بات کے لئے تیار کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کسی نتیجے پر پہنچ سکے ۔ا س دوران ہندوارہ اور کیرن سے آئے ہوئے کئی عوامی وفود نے بھی دنیشور شرما سے ملاقات کر کے انہیں اپنے روز مرہ مسائل اور مشکلات سے آ گاہ کیا ۔وفود میں نوجواں نے انہیں اپنی تجاویزات اور مشوروں سے نوازا اور کہا کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں کشمیری نوجوانو ں کو ہراساں کر نے کا سلسلہ فوری طور بند کیا جائے جبکہ مزاکرات کار سے کہا کہ گزشتہ سال سے انہو ں نے ریاست کے کئی دورے کئے لیکن ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے اور اس کے با وجود بھی ریاست میں حالات جو ں کے تو ں ہیں اور ان دوروں کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانے کے لئے بامعنی مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل کے لئے راہ ہموار ہوسکے ۔پیپلز ڈیموکریٹک کے سینئر لیڈر عرفان صوفی نے دنیشورشرما سے اس بات کو لیکر ملاقات سے بائیکاٹ کیا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی بھی اطلاع نہیں دی گئی ۔