مذاکرات پر آمادگی کی باتیں اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں : انجینئررشید

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے کل پارٹی کے ایک پانچ رکنی وفد کی قیادت کرتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رائے شماری کرانے کا مطالبہ کیا۔پارٹی کے موقف کو بیان کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہاکہ مذاکرات پر آمادگی کی باتیں اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتی ہیں بلکہ اگر نئی دلی واقعی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے یا اسکے لئے بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہو تو پھر اسے سب سے پہلے کشمیریوں کو حراساں کرنا اور انکی تذلیل کرنا بند کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ جموں کشمیر میں مزاحمتی قیادت کو بھاری عوامی حمایت اور منڈیٹ حاصل ہے اور وہ یہاں کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی تحقیقات وغیرہ کی اصولی طور مخالفت نہیں کی جا سکتی ہے لیکن ایسی کسی بھی تحقیقات کا فقط مزاحمتی قیادت کو ہی نشانہ کیوں بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر رقومات اور جائیدادوں کی تحقیقات کا ہی کام باقی رہ گیا ہے تو پھر حکومت کو مین سٹریم کے ان سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کی بھاری جائیدادوں کی بھی تحقیقات کرانی چاہیئے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ وفاداری دکھانے کی وجہ سے انسے کبھی کوئی پوچھ بھی نہیں کرسکتا ہے اور اس وجہ سے انہوں نے یہاں سے لیکر جانے کہاں کہاں تک بڑی بڑی سلطنتیں قائم کی ہوئی ہیں۔دفعہ35-Aاور370کا تذکرہ کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ کشمیریوں کی لڑائی ان دفعات سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ دفعات خود نئی دلی کے مفاد میں ہیں جبکہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کیلئے کوشاں ہیں جو فقط رائے شماری کے ذریعہ ہی ممکن ہو سکتا ہے۔وفد نے فوج کی حراست میں لاپتہ ہوچکے لولاب کے ایک شہری منظور احمد کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ ریاست کے سبھی سیاسی قیدیوں کو بلا شرط رہا کیا جانا چاہئے۔انجینئر رشید نے جموں صوبہ میں وی ڈی سی کے ذریعہ ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں،کیرن،کرناہ، اوڑی اور دیگر سرحدی لاقوں کے مہاجرین کی گھر واپسی مبینہ سنگبازی کے الزام میں نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آروں کی تنسیخ اور اس طرح کے دیگر کئی امورات اٹھائے۔انہوں نے وزیر داخلہ سے کہا کہ فقط وعدے کرنے کے رواج کو بدل کر عملی اقدامات کئے جانے چاہیں۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی 15اگست کی تقریر پر کسی حد تک عمل در آمد کیا جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ نام نہاد اسٹیک ہولڈروں کے نام پر ہر ایرے غیرے سے ملنے کی بجائے براہ راست حکومت پاکستان ،مزاحمتی و جنگجوقیادت اور ایل او سی کے دونوں جانب کے عوامی نمائندوں سے مذاکرات شروع کئے جائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کا نقشہ تیار کیا جاسکے۔اس دوران وفد نے وزیر داخلہ سے نئی دلی کی بعض ٹیلی ویژن چینلوں کی نفرت انگیز مہم کا نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ چینل اپنا ٹی آر پی بڑھانے کیلئے کشمیریوں کی کردار کشی کی ایک ہلاکت خیز مہم چلارہی ہیں جن کے انتہائی سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔