مذاکراتی عمل کو ترجیح ملے

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہاہے کہ گورنر ستیہ پال ملک کو اُس یقین دہانی پر قائم رہنا چاہئے جو انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی با مقصد مذاکرات شروع کرنے کیلئے پیش کی تھی۔اُن کے ایک حالیہ بیان کے مطابق انہوں نے کشمیریوں کو بتایا ہے کہ اُن کو تو پہلے ہی اپنی آئین ساز اسمبلی بھی ملی اوراپنا علیحدہ جھنڈا بھی۔ اسی کے ساتھ گورنر نے واضح کر دیا کہ کشمیری آزادی اور داخلی خود مختار ی کے بغیر کچھ بھی مانگ سکتے ہیں! گویا موجودہ حالات کے پس منظر میں اُن کے پاس آگے بڑھنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔سوز نے کہاکہ میں اُن کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مرکز نے آج کے دن تک یہی تو کیا کہ ریاست کی جو داخلی خود مختاری ریاست کی آئین ساز اسمبلی کے فیصلے کے مطابق طے ہوئی تھی ، اُسی کو مسمار کیا ۔انہوں نے کہاکہ گورنر کو کشمیر کے لوگوں اور مرکزکے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کرنی چاہئے تاکہ مفاہمت کا کوئی راستہ طے ہوجائے۔دریں اثناء گورنر کو چاہئے کہ وہ کشمیر کے مین اسٹریم کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کریں کہ اُس داخلی خود مختاری کو بحال کیا جائے جس کو مرکز نے آج کے دن تک یک طرفہ طور تحلیل کیا ہے۔ سوز نے کہاکہ آج کے حالات تو ناقابل بیان حد تک افسوس ناک ہیں کیونکہ مرکز کشمیر میں صرف فورسز کی طاقت کواستعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے!جہاں تک کشمیر کے تنازعہ کو مستقل طور حل کرنے کا سوال ہے ، تومرکز متحدہ مزاحمتی لیڈرشپ ( JRL ) کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا عمل شروع کرے۔ اُسی طرح پرُ امن اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھنے کا راستہ فراہم ہوگا۔ ‘‘