مدرسین کی بھوک ہڑتال دوسرے روز بھی جاری

 کشمیر اکنامک الائنس کی احتجاج میں شرکت

 
سرینگر //تنخواہوں کو ریاستی بجٹ کے ساتھ منسلک کرنے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کے دائرے میں لانے کے حق میں ایس ایس اے مدرسین کی  بھوک ہڑتال منگل کودوسرے روز بھی جاری رہی جس کے دوران احتجاجی اساتذہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات کو پورا نہیں کیا جاتا ہے تب تک وہ بر سر احتجاج رہیں گے۔ایجیک چیئرمین عبدالقیوم وانی کی قیادت میں پرتاپ پارک میںخیمہ زن اساتذہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فی الفور ان کے حق میں 7thپے کمیشن کا اطلاق کیا جائے ۔اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عبدالقیوم وانی نے کہا کہ ریاستی سرکار نے ان اساتذہ کو ایک پالیسی کے تحت باقاعدہ طور پر مستقل کر کے انہیںگذشتہ16برسوں سے تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ 6ویں تنخواہ کمیشن کے دائرے میں بھی لایاگیا ہے۔  اب یہ المیہ سے کم نہیں کہ حکومت16برس کی مدت کے بعد ایس ایس اے اساتذہ کو7ویںتنخواہ کمیشن کے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے جو اساتذہ کا قانونی ، آئینی اور جمہوری حق ہے اور اس جائز حق کے لئے ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی پچھلے چار ماہ سے بر سر جد و جہدہے۔انہوں نے گورنر کے مشیرخورشید احمد گنائی کے گذشتہ بیان پر خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ کا حل چاہتے ہیں تاہم فی الوقت اگر حکومت اس مسئلہ کا حل چاہتی ہے تو انہیںفی الحال ا ساتذہ کو ساتویں تنخواہ کمیشن کے دائرے میں لانا ہوگا جبکہ دیگر مطالبات کے پیش نظر حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کا نتظار کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ  بھوک ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک نہ اساتذہ ساتویں تنخواہ کمیشن سے مستفید نہیں ہوتے ہیں اور بھوک ہڑتال کے دوران کسی بھی اْستاد کو گزند پہنچی تو اْس کی تمام تر ذمہ داری ریاستی سرکار پر عاید ہو گی۔ دریں اثناء سرحدی تحصیل کرنا ہ کے 100کے قریب اساتذہ نے  ریلی کی صورت میں پرتاب پارک پہنچ کر اپنی شمولیت درج کی ۔ان کا کہنا تھا کہ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میںپہنچ کر ڈیوٹیاں انجام دینے کے باوجود انہیں تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے جبکہ ایسے اساتذہ کو 7ویں پے کمیشن کے دائرے میں بھی نہیں لایا جا رہا ہے جو کہ سر سر ظلم ہے ۔ادھرکشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے بھی بھوک ہڑتال میں شرکت کی اورکہا کہ قوم کے معمار قوم کی بنیاد اور قوم کی صیح راہ دکھانے میں جہاں زندگی صرف کرتے ہیں،وہیں انہیں وہ عزت و وقار نہیں ملتا،جس کے وہ حق دار ہیں۔