مدارس کا وجود ہی ہماری بقا ہے لمحۂ فکریہ

خورشید حسن
جب تک اس ملک ہندوستان میں مدارس باقی ہیں، اس وقت تک ہمارا وجود بھی باقی ہے۔ برسوں سے فرقہ پرست گروہ ملک میں مسلمانوں کے مدارس کو مٹانے کے فراق میں ہیں۔ مگر ہمارا تعلق ماضی میں بھی روحانی اور جذباتی طور پر مدارس اسلامیہ سے مضبوط و مستحکم تھا اور آج بھی ہیں،اس لئے زمانہ قدیم سے ہی اسلام مخالف طاقتیں اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوپائی ہیں۔ہمارےاپنے وطن عزیز میں چند برسوں سے جس طرح کے افراتفری کا ماحول بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔اس کا سلسلہ ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
بابری مسجدکے بعد اب گیان واپی مسجد،متھرا عیدگاہ،اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے مساجد پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے انہیں منہدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اسی پر بَس نہیںبلکہ ان کی نظر مسلمانوں کے مدارس پر ڈٹی ہوئی ہے۔ آسام میں چار مدارس کو تو بلڈوز کردیا گیا ۔ اسی طرح اب دیگرکئی مدارس کو بہانے بہانے سے قدغن لگانے کی کوششیں جاری و ساری ہیں۔ ایک زہر قاتل جو ملک کے اکثریتی عوام کی ذہن میں ٹھونسا جارہا ہے ، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے مدارس دہشتگردی کا اڈہ ہیں۔ یہاں بچوں کو دہشتگردی سکھائی جاتی ہے،اس جملے نے پورے ملک کی فضا کو زہر آلود کر دیا ہے۔یقینا ًفرقہ پرست طاقتوں نے اس منزل تک پہنچنے میں بہت تگ ودو کی ہے۔عرصۂ دراز سے عوام کے ذہن میں علماء کے خلاف زہر افشانی کی ہے۔ نیوز اور میڈیا نے سونے پر سہاگے کےکام کئے ہیں، ملک کے اکثر بیشتر چینل سے ہمہ وقت مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت کے بیج بوئےجا رہے ہیں اور کچھ ناواقف، علم سے بے سرو پا مسلمانوں کو ڈبیٹ میں بٹھا کر دوہرے رویےکی انتہا کر دی ہے۔ دوسری جانب مسلمانوں نے بھی اپنے مدارس، مساجد، امام اور علماء کرام کو خوب جم کر نشانہ بنایا ہے، ہر چیز میں تنقید تنقید تنقید۔علمائے کرام کو دھرم کے ٹھیکیدار کے نام سے پکار کر بری طرح سے بد نام کرنے اور ملک اور بیرون ملک میں انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ عوام تو کیا علماء کرام بھی کشمکش میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ دوسری طرف ہماری قوم مال و متاع کی محبت میں پوری طرح غرق ہے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنا رشتہ ماضی سے مضبوط و مستحکم کرنا ہوگا، ہمیں پھر وہی تاریخ دہرانے ہوگی جو ماضی میں ہمارے اسلاف و اکابرین نے دہرائے تھے ، ہمیں قرآن کو سینے سے لگانا ہوگا، آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کرنا ہوگا ۔ آخر میں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی تمام شرور و فتن سے مدارس اسلامیہ کی حفاظت فرمائے آمین
(رابطہ۔ 7808351558)
[email protected]