مخلوط حکومت نے کشمیر کو طوفان کے سپرد کردیا

ریاست جموں و کشمیر کی حکومت اس لحاظ سے دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے کہ اسے دو ایسی جماعتیں چلا رہی ہیں جو سوچ ، اپروچ ، نظرئیے اور خواہشات کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔  ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں ۔ ایک دوسرے سے گلے مل کر بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ ایک دوسرے کیخلاف سازشیںبھی کررہی ہیں اور ایک دوسرے سے خوفزدہ بھی ہیں ۔اس حکومت کے قیام کے وقت سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے اسے قطبین کا اتحاد کہا تھا لیکن قطبین کا اتحاد نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہوگا ،یہ وقت نے ثابت کردیا ۔
کٹھوعہ میں ایک مسلم گوجر لڑکی کی آبروریزی اور قتل کے واقعہ کے بعد جو واقعات سامنے آئے وہ بھی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کا اختلاف صرف سوچ یا نظریات کا اختلاف نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور اس میں مفاہمت کی ذرا بھی گنجائش موجود نہیں اور جب قطبین کا یہی اتحاد ایک حکومت تشکیل دے تو ایسی حکومت اس ریاست کی کیا حالت بنادے گی جس پر اس کا اقتدار قائم ہو۔
 کشمیر کے آج کے حالات اس کا آئینہ ہے ۔دو سیاسی جماعتوں کی ضر ورتوں ، مجبوریوں اور مصلحتوں پر ٹکے ہوئے اس اتحاد کی حکومت کیسے چل رہی ہے اس کا صحیح جواب حاصل کرنا مشکل ہے اس لئے اسے حالات کا کرشمہ کہنا ہی مناسب ہوگا۔جس طرح وشال سمندر میں کشتی بغیر چلائے بھی چلتی ہے ۔ ہواکا رخ اسے جہاں چاہے لے جاتا ہے۔نہ اس کی اپنی کوئی منزل ہوتی ہے اور نہ اپنا کوئی راستہ ہوتا ہے ۔نہ اسے طوفانوں کی پرواہ ہوتی ہے نہ لہروں کا کوئی خوف ۔مخلوط حکومت کی کشتی بھی اسی طرح چل رہی ہے ۔حالانکہ دنیا میں جہاں بھی کوئی مخلوط حکومت قائم ہو اس کو چلانے کیلئے اس میں شامل قوتوں کی مشترکہ سوچ پہلی ا ور آخری شرط ہے ۔متضاد سوچ حکومت اور انتظام و انصرام کے اداروں کو بھی تضادات کا شکار بناکر اسے ناکام بنانے کا ہی باعث ہوسکتی ہے ۔
گزشتہ تین سال کی یہی کہانی آج کے حالات کا نچوڑ ہے۔جس وقت مخلوط حکومت کا قیام عمل میں آیا اس کا مشترکہ حدف اور سب سے بڑا مقصد وادی کے ابتر حالات کوتبدیل کرنے کی کوشش تھا تاکہ امن کا قیام عمل میں لایا جاسکے یہ یکساں طور پربھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی ضروری اور فایدہ مند تھا اور پی ڈی پی کے لئے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس وقت مایوس آنکھوں میں امیدوں کے بہت سارے چراغ روشن ہوئے ۔اس کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط سرکار تھی جس کے بل بوتے پر بڑے اور جرات مندانہ فیصلے لینا ممکن تھا ۔ ایجنڈا آف الائنس کے مسودے سے ان امیدوں کو اور زیادہ تقویت حاصل ہوئی جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی قومی خواہشات اور ایجنڈے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے
 دفعہ 370سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرنے اور مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت پر اتفاق کیا ۔چنانچہ اٹل یقین اور اعتماد کے ساتھ مفتی محمد سعید نے حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی لیکن بہت جلد ان کا اعتماد ڈگمگانے لگا کیونکہ ان کے جذبات کئی بار مجروح کردئیے گئے اور شاید یہی صدمہ ان کی موت کا باعث بھی بنا ۔ان کی موت کے بعد ان کی دختر محبوبہ مفتی نے حکومت کی بھاگ ڈورسنبھالنے میںاسی وجہ سے تاخیر کی کہ انہیں اپنے والد کے تلخ تجربے کا احساس تھا لیکن اس بار بھی یقین دہانیوں کا چھلاوا کام کرگیا اور انہوںنے مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی ۔ 
بظاہر دونوں جماعتوں کا کشمیر میں اعتماد کی فضاء پیداکرنے پر مکمل اتفاق تھا لیکن یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں ان تمام قدروں کو ملیامیٹ کرنے کی مہم شروع ہوچکی تھی جن کی بنیادوں پر رواداری کے کھنڈرات ابھی بھی باقی تھے ۔گاو رکشک نہتے لوگوں کو پکڑ کر سرراہ انتہائی وحشت ناک طریقے پر قتل کررہے تھے ۔بی جے پی لیڈر انپے بیانات میں فرقہ واریت کا زہر اگل رہے تھے اور اس کا اثر مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے پہلے ہی سے مجروح احساس اور جذبات پربری طرح سے پڑرہا ہے اور اس کے ردعمل کے طور پر نئی نسل ملی ٹنسی کی طرف راغب ہورہی تھی اس طرح اس مقصد کی جڑیں ہندوستان بھر میں کاٹی جارہی تھی جس مقصد کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر میں دو متضاد نظریات کا اتحاد قائم ہوا تھا  ۔مخلوط حکومت کو اس کا کوئی اندازہ اور احساس نہیں تھا اور اس نے اس بارے میں نہ کچھ سوچا اور نہ ہی کوئی اقدام کیا بلکہ ریاست میں بھی گاو رکشکوں نے کئی افراد کو اسی وحشت ناک طریقے پر قتل کردیا جس طرح ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کیا گیا ۔
بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے لیڈروں نے پھر سے اپنا منہ کھولنا شروع کردیا اور کشمیر ، پاکستان ، علیحدگی پسندوں ، عسکریت پسندوں اور مسلمانوں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات تسلسل کے ساتھ روز جاری ہوتے رہے ۔چندماہ بعد ہی بی جے پی اور پی ڈی پی اپنے الگ الگ ایجنڈوں پر عمل پیرا ہوئے اور مشترکہ ایجنڈا بالائے طاق رہا ۔اس دوران کشمیر میں جنگجووں کی سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئیں ۔ پولیس کو نشانہ بنانے کا آغاز بھی ہوا اور جب برہان وانی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ رونما ہوا تو حالات نے نئی کروٹ لی ۔اس وقت یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ عام لوگوں کے اندر ردعمل کا جذبہ اور جو اشتعال آتش فشاں کی طرح موجود تھا برہان وانی کا واقعہ اس کے پھٹ پڑنے کا بہانہ بنا ۔
اب عوام جو مخلوط حکومت کے قیام سے پہلے عسکریت سے براہ راست وابستہ نہیں تھے بلکہ کچھ عرصے سے عسکریت سے اکتائے ہوئے بھی تھے جنگجووں کے کھلے طور پر معاون اور مددگار ہی نہیں بنے بلکہ ان کاحصہ بن گئے ۔اس تبدیلی کو بھی نہ حکومت ہند نے محسوس کیا نہ ریاست کی مخلو ط حکومت نے ۔ مرکزی حکومت نے جنگجووں اور علیحدگی پسندوں کیخلاف فوج کو سخت اور وسیع تر اقدامات کی آزادی دی اور ریاستی حکومت کی دو جماعتیں آپسی مخاصمت میں الجھی رہیں جس کے نتیجے میں بہتر انتظامیہ بھی عوام کو فراہم نہیں ہوسکی ۔کشمیر میں یہ سب ہورہا تھا اور اُدھر دہلی میں دفعہ 35اے اور 370کے خلاف عرضیاں عدلیہ میں داخل ہوئیں ۔ سیاسی سطح پر ایک وبال پیدا ہوا لیکن کشمیر میں عوامی سطح پر اس کا کوئی قابل ذکر ردعمل نہیں ہوا کیونکہ عوام اب ان دفعات سے بہت آگے نکل چکے تھے۔مجموعی طور پر مخلوط حکومت کے تین سال میں عوام عسکریت کے قریب آگئے ۔پہلی بار عسکریت پسندوںکو بچانے کیلئے لوگوں نے اپنی جانوں کو داو پر لگانا شروع کردیا ۔ نہ پیلٹ کاخوف عوام کو روک سکا اور نہ ہی گولیاں عوام کو باز رکھ سکیں ۔ 
یہ احساس جو پہلے ہی شدت کے ساتھ موجود تھا کہ سیاسی قیادت تحریک کو منطقی انجام تک پہونچانے میں ناکام ہوچکی ہے عوام کو مزاحمتی تحریک سے ہی دل برداشتہکرچکا تھااور قریب تھا کہ مزاحمتی تحریک کی ہڑتالی سیاست کو عوام رد کردیں کشمیریوں اور مسلمانوں کیخلاف منافرت کی یلغار نے عسکری قیادت کو آخری آپشن کے طور پراس کی جگہ قبول کرلیا گیا ۔آج عملی طور پر عسکری قیادت ہی تحریک مزاحمت کی رہنمائی کررہی ہے ۔اس کے بعد ہی فوج اور عسکریت کے درمیان عوام کی دیوار کھڑی ہوگئی جس کے نتیجے میں آپریشن آل آوٹ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا حالانکہ اس دوران جنگجوو ں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کردیا گیا لیکن جتنی تعداد میں جنگجو مارے گئے اس سے زیادہ تعداد میں نوجوان جنگجو تنظیموں میں شامل ہوئے اور اس بار اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان زیادہ تعداد میں ہتھیار اٹھانے لگے کیونکہ اب شعور اور فکر کو بھرپور جواز مہیا ہوچکاتھا ۔اب جہاں کہیں بھی فوج اور نیم فوجی دستے محاصرہ کرتے ہیں لوگ گھروں سے نکل کر فورسز کے ساتھ معرکہ آرائیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ خوف اور ڈر کا کہیں کوئی شائبہ بھی نظر نہیں آتا اور جب اس طرح کی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو عوام کا راستہ روکنے کی کوئی صورت باقی نہیں بچتی ہے ۔
اس لحاظ سے اب کشمیر میں حکومت اور اس کے ادارے ایک ہاری ہوئی جنگ لڑرہے ہیں اوراس حالت تک کشمیر مخلوط حکومت کے تین سال میں ہی پہونچ گیا ۔ ان تین سالوںنے جہاں پی ڈی پی کو سیاسی کسمپرسی کی حالت سے دوچار کردیا وہیں جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت کا گراف بھی گرنے لگا اور اب دونوںجماعتیں اس کوشش میں لگی ہیں کہ کس طرح سے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا جائے اور اس کے لئے ان کے پاس فرقہ وارانہ منافرت کے حربوں کے استعمال کے علاوہ اور کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے ۔کشمیر کی صورتحال اور اس پر پڑنے والے اثرات ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔کٹھوعہ میں امعصوم آصفہ کے مبینہ قاتلوں کو بچانے کیلئے بی جے پی کے ممبران اسمبلی کا میدان میں آجانا بھی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے ۔ پارٹیوں کے ان سیاسی مقاصد پر توجہ مرکوز ہونے کے بعد کس کو فرصت ہے کہ ریاست اور ملک کے وسیع تر مفادات کے بارے میں سوچے ۔ ریاست میں امن کے قیام کے بارے میں غور کرے اور عسکریت کے بڑھتے رحجان پر سوچ بچار کرے یا عوام کو بہتر حکومت دینے کی فکر کرے ۔
ملی ٹینسی اور سیاسی صورتحال کو نئی دہلی میں کشمیر کے حالات کے گہرے تجزئیے کے ساتھ دیکھنے کی روایت آج بھی موجود نہیں ۔یہ سوچ کہ فوج کو زیادہ فعال کردار اور اختیار دیا جائے تو ملی ٹنسی کاخاتمہ ہوگا اور مذاکرات کار کی کوششیں جاری رہیں تو حالات کا رخ بدل جائے گا اس وقت بھی موجود ہے جب کشمیر ایسے مرہموں کا محتاج ہی نہیں رہا ہے  ۔ کسی زیرک سیاست داں یا پالیسی ساز کو یہ نظر نہیں آتا کہ حالات اب اس حد کو چھوچکے ہیں جہاںسے انہیں واپس نہیں لوٹایا جاسکتا ۔اورکتنی احمقانہ بات ہے کہ کشمیر کو خود اس حدتک پہنچانے کے بیچ بھارتیہ جنتاپارٹی زمینی سطح پر اس مقصد کیلئے کام کررہی ہے کہ آنے والے انتخابات میں کشمیر میں کم سے کم چھ سیٹیں حاصل کرکے تن تنہا انتخاب جیتا جائے اور پی ڈی پی اس مقصد کیلئے کام کررہی ہے کہ کس طرح سے پارٹی کی شبیہ کو بحال کیا جائے ۔یہ دونوں جماعتیں اسی مقصد کیلئے سرگرداں ہوں گی کہ ایک دن کوئی ایسا سانحہ کشمیر کی زمین پر رونما ہوگا جوپارٹی تو پارٹی ملکوں کو بھی اپنے ساتھ ڈبو لے جائے گا ۔
( ماخذ: ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر)