محکمہ صحت کے دعوے اور دوردراز علاقے !

  پیر پنچال اور چناب خطوں میں طبی خدمات کی فراہمی کے دعوئوں کی قلعی اس وقت کھل جاتی ہے جب کسی حادثے کے بعد لوگوں کو محکمہ صحت کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے ۔محکمہ صحت دور دراز علاقوں میں طبی خدمات کی فراہمی کے آئے روز نت نئے دعوے کرتارہتاہے لیکن زمینی حالات بالکل اس کے برعکس ہیں اور مقامی لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ انہیں کس قدر مشکلات کاسامناہے ۔چار روزقبل ریاسی کے مہور علاقے میں ایک ٹیمپو حادثے کاشکار ہوگیا،جس کے نتیجہ میں راجوری کے بدھل علاقے سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی لقمہ اجل بنے ۔جب ان افراد کی نعشوں کو ان کے آبائی علاقے  بدھل منتقل کرنے کی بات آئی تو  لوگوں کے اصرار کے باوجود محکمہ صحت کی طرف سے ایمبولینس فراہم نہیں ہوسکی اور نہ ہی انتظامی سطح پر کوئی متبادل انتظام کیاگیا ۔ مقامی انتظامیہ کے  لئے حد درجہ شرمناک بات یہ رہی کہ مجبوراً ان نعشوںکو مال بردار گاڑی میں بھرکر بدھل پہنچایاگیا ۔اس واقعہ کے بعد لوگوں میں محکمہ صحت سمیت انتظامیہ کے تئیں زبردست غم وغصہ پایاجارہاہے اور انہوںنے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ایک ماہ قبل پوسٹ گریجویٹ کالج راجوری کے طالبعلم کیلئے ضلع ہسپتال سے ایمبولینس نہیں ملی جس پر کالج طلباء نے زبردست احتجاج کیا اور دو روز تک راجوری میں حالات کشیدہ رہے ۔ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں آئے روز محکمہ صحت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں جن میں جہاں ڈاکٹروں پر مبینہ طور پر لاپرواہی کا الزام عائد کیاجاتاہے وہیں ایمبولینس گاڑی فراہم نہ کرنے کی بھی شکایات رہتی ہیں ۔ان دونوں خطوں میں محکمہ کا نظام ہی بگڑاہواہے اور اچانک معائنہ کے دوران اکثریہ پایاگیاہے کہ ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ کی بہت بڑی تعداد ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتی ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں خطوں کے ضلع ہسپتالوںسے لیکر پرائمری ہیلتھ مراکز تک طبی و نیم طبی عملے کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور باہر کے جن ڈاکٹروں کو ان علاقوں میں تعینات کیاجاتاہے ،وہ سیاسی سفارشات کے بل بوتے پر اپنا تبادلہ کرالیتے ہیں جبکہ کئی وجوہات کی بناپر بہت سے مقامی ڈاکٹروں کی بھی یہ خواہش رہتی ہے کہ ان کی ڈیوٹی جموں خاص میں رہے ۔ان خطوں میں ایمبولینس گاڑیوں کی بھی شدید قلت پائی جارہی ہے اور بیشتر طبی مراکز ایسے ہیں جن کیلئے ایمبولینس گاڑی فراہم ہی نہیں کی گئی ۔رہی بات ادویات اور دیگر سہولیات کی تو وہ بھی لوگوں کیلئے وقت پر دستیاب نہیں رکھی جاتی ۔حکام کی طرف سے اعلانات تو بہت کئے جاتے ہیں مگر ان خطوں میں ان کا زمینی سطح پر کہیں اطلاق نہیں ہوتا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں اور جہاںضرورت کے حساب سے ایمبولینس گاڑی فراہم کی جائیں وہیں ادویات و دیگر سہولیات فراہمی کو بھی یقینی بنایاجائے ۔ساتھ ہی طبی و نیم طبی عملے کو ڈیوٹی کا پابند بنایاجائے اور خالی پڑی اسامیوں کو پُر کیاجائے ۔