محکمہ دیہی ترقی کے سی آئی سی آپریٹر 17برسوں سے مستقلی کے منتظر

سرینگر// سی پی آئی (ایم)کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ محکمہ دیہی ترقی میں کام کررہے 170سے زائد سی آئی سی آپریٹر  2004سے کنٹریکٹ کی بنیاد پرخدمات کی مستقلی کے منتظر ہیں اور یہ لوگ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے ہیں۔ ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایم سی اے ، ایم ٹیک ، ایم ایس سی آئی ٹی ، بی ای ، بی ٹیک رکھنے والے ان اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہیں اپنی زندگی کے 17 سال محکمہ کی خدمت کے بعد  10ہزار روپے ماہانہ معمولی اجرت دی جا رہی ہے۔ ان آپریٹروں کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر ضلع بھر کی کمیٹیوں کے ذریعے کی گئی تھی جو کہ جموں و کشمیر کی حکومت نے 2004 میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی سربراہی میں تشکیل دی تھی۔ تاریگامی نے کہا کہ ایک دہائی گزر جانے کے بعد 2016 میں کابینہ کے فیصلے کے ذریعے 172 ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی اسامیاں ان کی مستقلی کے لیے بنائی گئیں، یہ بدقسمتی ہے کہ عمومی انتطامی محکمہ (GAD)کے پاس پڑی ان سی آئی سی آپریٹرز کی مستقلی کی فائل حال ہی میں محکمہ دیہی ترقیاتی کو واپس کی گئی ہے اور اس میں 172 سی آئی سی آپریٹروں کی مستقلی کے مقدمہ کو 2017 کے بعد چوتھی بار حکومت کے اسٹیبلشمنٹ /سلیکشن کمیٹی کے سامنے رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ان میں سے بیشتر آپریٹر پہلے ہی کسی بھی سرکاری نوکری کے لیے عمر کی بالائی حد کو پار کر چکے ہیں اور ان کی مستقلی کے عمل میں کئی سال لگ رہے ہیں۔تاریگامی نے کہا کہ یہ آپریٹر فی الوقت دی گرامل سوراج ، ایس بی ایم،  پی ایم اے وائی ، پیپلز پلان کمپین (سبکی یوجنا سبکا ویکاس) ، جی پی ڈی پی ، مشن انتیوڈیا ، پی ایف ایم ایس اور دیگر ای گورننس سے متعلقہ سرگرمیوں جیسے آن لائن کام بلاک /ڈسٹرکٹ /ڈائریکٹوریٹ /سیکریٹریٹ کی سطح پر دیگر دفتری اسائنمنٹس جیسے انتخابات ، اسٹیبلشمنٹ ، اکانٹس ، کام وغیرہ کو سنبھال رہے ہیں۔ تاریگامی نے کہاکہ ’مجھے امید ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ان کے معاملے میں مداخلت کریں گے اور جلد از جلد محکمہ دیہی ترقیاتی میں کام کرنے والے ان سی آئی سی آپریٹروں کی خدمات کو باقاعدہ بنائیں گے۔