محکمہ تعمیرات عامہ ( آر اینڈ بی) کی تنظیم نو کا شاخسانہ ۔21ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں جاری تعمیراتی کاموں میں فی الوقت ٹھہرائو

 اشفاق سعید

سرینگر // محکمہ تعمیرات عامہ ( آر اینڈ بی) کی تنظیم نو کے بعدجموں وکشمیر کی ٹورازم ڈیولپمنٹ اٹھارٹیوں میں افرادی قوت کی کمی سنگین مسئلہ بن چکی ہے ۔جموں کشمیر میں 21ڈیولپمنٹ اتھارٹیاں کا م کر رہی ہیں۔ان میں پہلگام ، گلمرگ ، سونہ مرگ ، ولر مانسبل ، اہر بل ،دودھ پتھری ، ہائیگام ننگلی تارزو ، کوکرناگ ، دبجن- پیر کی گلی ڈیولپمنٹ اٹھارٹی ، ویری ناگ ، یوسمرگ ، توسہ میدان،بھدرواہ ، کشتواڑ ،لولاب بنگس درنگیاری ،پونچھ و راجوری ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، بنی بسوہلی ، بلاور، دگجن لکھن پورہ سرتھل اور پتنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اتھارٹیاں شامل ہیں۔ہر ایک ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ایک ایگزیکٹیو، ایک ای ای، ایک اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر کی ایک پوری ٹیم ہوتی تھی۔ڈیولپمنٹ اتھارٹیاں ورکنگ محکمے ہوتے ہیں جہاں سال بھر تعمیراتی کاموں کو انجام دیا جاتا رہا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ہر ایک اتھارٹی میں بنیادی سیاحتی ڈھانچے کی تعمیر یا انفراسڑیکچر کو کھڑا کرنے کیلئے انجینئرنگ ونگ ذمہ دار ہوتی تھی۔لیکن اب کسی بھی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے تابع کیجول لیبر اور کلرک سٹاف ہے۔فی الوقت سبھی اتھارٹیوں میںتعمیراتی کام مکمل طور پر ٹھپ ہیں کیونکہ ابھی تک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سٹاف کو الگ الگ ونگوں میں تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ انجینئرنگ ونگ کو سیاحتی مقامات میں شروع ہونے والے منصوبوں کی پلاننگ ، تعمیراتی منصوبے اور اُن کی دیکھ ریکھ کا کام انجام دینے کی ذمہ داری ہوتی تھی، لیکن تعمیرات عامہ کی تشکیل نو کے بعد انجینئروں کی واپسی ایک ایسے وقت میںکی گئی ہے جب تعمیراتی کام جاری ہیں اور ٹھی اکتوبر کے مہینے تک ہی ان سبھی جگہوں پر تعمیراتی کام انجام دینے کا سیزن ہوتا ہے۔

 

 

محکمہ سیاحت حکام نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ کام متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان اتھارٹیوں میں انجینئر ہی ریڈ کی ہڈی کی مانند تھے جو ہر ایک تعمیری کام سنی ٹیشن ، سڑکوں کی تعمیر ، ہٹوں کی مرمت اوردیگر تعمیراتی کاموں اور منصوبوں کو پورا کرتے تھے۔ لیکن اب ان اتھارٹیوں میں اُوپر چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نیچے عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا عملہ دستیاب ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر سرکار فیصلہ واپس نہیں لیتی تو اس سے کافی نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ کشمیر میں سیر و تفریح کیلئے ہزاروں لوگ آرہے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنا سرکار کا فرض ہے ۔ایک طرف سرکار دعویٰ کررہی ہے کہ جموں وکشمیر کے سرحدی اور دورافتادہ علاقوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے قریب75نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور وہاں تعمیراتی کام بھی شروع کئے جائیں گئے لیکن جس طرح انجینئروں کی واپسی کا فیصلہ ہوا ہے، ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر کس طرح ممکن ہو گی، یہ بہت دور کا معاملہ لگ رہا ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ کا کہنا ہے کہ کہ کسی بھی تعمیراتی کام میں رکاوٹ نہیں آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پلان مارچ میں بن چکے ہیں ،جبکہ ٹینڈرنگ کا عمل بھی 90فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کا سالانہ بجٹ 2سے اڑھائی کروڑ کا ہوتا ہے جو محکمہ کا ایک جے ای بھی کر دیتا ہے اور کام متاثر ہونے کا کوئی بھی سوال نہیں ہے ۔محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم نے تمام انجینئروں کو واپس طلب کیا ہے اور اب جو بھی کام ہوں گے وہ انجینئرنگ محکمہ کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ تمام علاقوں کو کوئر کیا گیا ہے اور کام بھی جاری ہیں ۔