محکمہ تعلیم کے عارضی ملازمین کا برستی بارش میں احتجاج

سرینگر//محکمہ تعلیم میں کنٹنجنمنٹ پیڈ ملازمین نے برستی بارش میں احتجاج کرتے ہوئے انہیں مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو وہ اسکولوں کی چوکیداری اور صفائی ستھرائی کرنابند کر دیں گے۔سرینگر کی پریس کالونی میں سنیچر کو برستی بارشوں کے دوران محکمہ تعلیم میں مشروط ادائیگی یعنی’’کنٹنجنٹ پیڈ‘‘ ملازمین نے نعرہ بازی کی اوراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر مطالبات کے حق اور سرکار کے خلاف نعرے درج تھے۔ کنتنجنٹ پیڈ ورکرس یونین کے جھنڈے تلے مظاہرین نے یونین کے صدر نذیر احمد راتھر کی قیادت میں پرتاپ پارک سے پریس کالونی تک جلوس برآمد کیا۔مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں مستقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ایس آر ائو520ان پر بھی لاگو کیا جائے گا،تاہم انتظامیہ کی اس طرف سے تا ہنوز اس سلسلے میں کوئی بھی پہل شروع نہیں کی گئی۔اس موقعہ پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایجیک(ق) کے نائب صدر فیاض شبنم نے مطالبہ کیا کہ یہ لوگ محکمہ میں اہل ہیں اور انہیں مستقل کیا جانا چاہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو مستقل پالیسی واضح کرنی چاہے اور ملازمین کو کم از کم تنخواہوں کا فائدہ بھی دیا جانا چاہے۔اس موقعہ پر نذیر احمد راتھر نے کہا کہ عارضی ملازمین کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے،کیونکہ کنٹنجنٹ پیڈ ورکروںکو گزشتہ 20برسوں سے25روپے لیکر ایک ہزار روپے دیا جاتا ہے،جو ان کے ساتھ مذاق کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے ایجی ٹیشن چھیڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا’’ حکومت نے اگر ایس آر ائو520 کے تحت واضح پالیس کے تحت انہیں26فرری تک انکے مسائل کو حل نہیں کیا تو وہ تمام اسکولوں اور دفتروں کی چوکیداری اور صفائی ستھرائی کرنا بند کر دیں گے۔اس دوران انہوں نے مارچ میں ڈائریکٹر ناظم تعلیمات کے دفتر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔