محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین بجلی جھٹکوں کے شکار

سرینگر // وادی میں رواں سال محکمہ بجلی کے8 ملازمین دوران ڈیوٹی محکمہ کی لاپرواہی کے نتیجے میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ  وادی میں اب تک400سے زائد ملازمین اسی طرح کے حادثات میںاپنی زندگی گنوا چکے ہیں۔ جبکہ سینکڑوں اپاہچ ہو کر بے یار ومدد گار اپنے گھروں میں پڑے ہیں ۔ جموں وکشمیرحکومت نے کئی سال قبل سرینگر اور جموں کیلئے دو الگ الک نیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کیلئے ایک مفصل پروجیکٹ رپورٹ مرکز کو بھیجی تھی، لیکن فنڈس نہ ملنے کے نتیجے میں کسی بھی جگہ پر یہ ادارے قائم نہیں کئے جا سکے، جس کے نتیجے میں بغیر تربیت عارضی اور مستقل ملازمین کام کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ابھی تک حادثات کے دوران 700سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں یا وہ ناکارہ ہوگئے ہیں۔سب سے المیہ کی بات یہ ہے کہ آئے روز جو حادثات رونما ہورہے ہیں ان میں اُن ملازمین کی زندگیوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں جو عارضی ہیں یا جنہیں نیڈ بیسڈ بنیادوں پر روزانہ اجرت پر کام کررہے ہیں۔مزدوروں کی طرح کام کرنے والے عارضی ملازمین کو تکنیکی کام سونپنے سے یہ حادثات رونما ہورہے ہیں لیکن آج تک محکمہ کے کسی بھی آفیسر کو جواب دہ نہیں بنایا گیا ہے۔پی ڈی ڈی میں عارضی ملازمین کی انجمن کے صدر محمد شفیع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال دو ماہ کے دوران وادی میں 8 ملازمین بجلی کے جھٹکے لگنے سے لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کولگام کے سرتاج احمد کی موت بجلی کرنٹ لگنے سے ہوئی ہے اور اس کا کنبہ  شدید مشکلات سے دوچار ہے جبکہ بجبہاڑا کے عاشق حسین خان نامی ملازم کی موت بھی واقع ہوئی ہے ۔محمد شفیع کے مطابق اولڈ ٹاون بارہمولہ میں کل محکمہ بجلی کا ایک عارضی ملازم دوران ڈیوٹی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔مشتاق احمد ڈار نامی اس شہری کی موت کو بھی محکمہ بجلی کی لاپروہی کا نتیجہ ہی قرار دیا جا رہا ہے ۔اسی طرح اچھہ بل میں ایک بجلی ملازم غلام محی الدین بجلی ٹرانسفارمر کی مرمت کر رہا تھا تو اس دوران اس کو ایک زور دار جھٹکا لگ گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی ۔اسی طرح بڈگام میں اگست کے مہینے میں ترسیلی لائن کی مرمت کے دوران محمد امین جو کھاگ کے کنچی پورہ میں بجلی کی ہائی ٹینشن لائن کی مرمت کر رہا تھا جھٹکا لگنے سے لقمہ اجل بن گیا ۔بڈگام کے کانہامہ میں فیاض احمد نامی عارضی ملازم بھی دوران ڈیواٹی کرنٹ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ۔اگست کے مہینے میں ہی ہلمت پورہ کپوارہ میں محکمہ بجلی عارضی ملازم محمد اشرف حجام کوٹلی پورہ میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کی مرمت  کے دوران جاں بحق ہوا۔کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے جب سیکریٹری پلاننگ بجلی بشیر احمد ڈار سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ عارضی ملازمین کیلئے پردان منتری کی 2 اسکیموں کے تحت 4 لاکھ روپے کا معاوضہ بنتا ہے ، جبکہ محکمہ خزانہ کی ایک سکیم کے تحت 10 لاکھ اوراپنی حکومت کی سکیم کے تحت10 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ 4لاکھ کی ویلفیئر سکیم بھی پراسس میں ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں خدا نخواستہ اگر کسی کی موت ہو جاتی ہے تو انہیں 27لاکھ کا معاوضہ حکومت ادا کرے گی ۔