محکمہ بجلی کا کارنامہ۔۔۔! | جسمانی طورمعذور شخص کو بغیر بجلی سپلائی بل ارسا ل

کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے کرالہ گنڈ ہندوارہ سے تعلق رکھنے والے جسمانی طور معذور اور غریب شہری کو محکمہ بجلی نے بغیر بجلی سپلائی بل ارسال کی ہے۔مذکورہ شہری آج کل اپنے اہل وعیال سمیت بجلی دفاترکا چکر کاٹ رہا ہے لیکن ان کی روئداد سننے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔ کرالہ گنڈ قاضی آباد کے رہنے والے ایک بجلی صارف زیر کنزیومر نمبر0214020008113غلام احمد میر ولد غلام رسول میر ساکن میر محلہ کرالہ گنڈ ایک ٹانگ سے اپاہج اور خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہاہے ۔اگرچہ مذکورہ شہری اپنی محنت و مشقت کرکے اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتا ہے تاہم بجلی فیس کے اضافے سے وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوچکا ہے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ مذکورہ شہری کے اسی سال دماغ کی نس بھی پھٹ گئی جس کے بعد مقامی لوگوں نے چندہ جمع کرکے اس کا علاج و معالجہ کرایا۔مذکورہ شہری کے بقول قلیل ذریعہ آمدن کے نتیجے میں وہ وقت پر بجلی فیس ادا نہیں کرسکا جس کے بعد مارچ 2019 کو ان کے گھر کی بجلی لائن کاٹ دی گئی اور وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ گھپ اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوا۔26جون 2019کو مذکورہ شہری نے بجلی فیس میں کمی کیلئے باضابطہ ایک درخواست بھی دی تھی لیکن کوئی سدباب نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ 3سال قبل اُس کابجلی کنکشن کاٹ دیا گیا ہے لیکن محکمہ بجلی نے پھر بھی  48671روپئے پر مشتمل بل روانہ کی ہے ۔انہوں نے کہا ’’ میرے ہوش اس وقت اڑگئے جب محکمہ نے دوسرا بل روانہ کیاجس میں جولائی2021کیلئے63056اور اگست2021کیلئے64361باقی دکھایا گیا ہے‘‘۔غلام احمد میرنامی اس شخص نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے اور ان کے بجلی فیس پر نظر ثانی کی جائے ۔