محکمہ بجلی کا ڈیلی ویجر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا

راجوری //منجاکوٹ کے گھمبیر مغلاں علاقہ سے تعلق رکھنے والا محکمہ بجلی کا ڈیلی ویجر گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جو ایک ماہ قبل ترسیلی لائنوں کی مرمت کرتے ہوئے بری طرح سے جھلس گیاتھا۔محمد خلیل ولد عبدالغنی ایک ماہ پہلے ترسیلی لائنوں کی مرمت کررہاتھاجس دوران وہ کرنٹ لگنے سے بری طرح سے جھلس گیا اور علاج کے دوران ڈاکٹروں نے اس کا ایک بازو کاٹ دیاجبکہ جسم کے دیگر اعضا بھی کام نہیں کررہے ہیں۔محمدخلیل پچھلے دس سال سے محکمہ بجلی میں بطور ڈیلی ویجر کام کررہاہے لیکن اسے علاج کیلئے محکمہ کی طرف سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی ۔حادثے کے فوری بعد اسے راجوری ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں سے اسے نازک حالت میں جموں ریفر کیاگیا اور وہیں ڈاکٹروں نے اس کادوران علا ج ایک بازو کاٹ دیا۔بتایاجارہاہے کہ محمدخلیل کے جسم کے دوسرے اعضابھی ٹھیک طرح کام کرنے سے قاصرہیں۔ خلیل کے اہل خانہ نے محکمہ بجلی کی بے حسی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایاکہ ایک ماہ کے دوران انہیں علاج پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑے ہیں ،وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے پاس علاج کیلئے پیسے تک نہیں مگر محکمہ بجلی کی طرف سے ابھی تک کوئی مالی مدد نہیں کی گئی ۔ان کاکہناہے کہ محکمہ بجلی کوانسانی جان کی فکرتک نہیں ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ڈیلی ویجروں سے صرف کام کرواناجانتاہے لیکن حادثے کی صورت میں امدادکیلئے آگے نہیں آتا۔خلیل کے اہل خانہ نے انتظامیہ سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے مانگ کی کہ محکمہ کی بے حسی کا سنجیدہ نوٹس لیاجائے۔ایس ایچ او منجاکوٹ برکت قریشی نے بتایاکہ اس سلسلے میں محکمہ بجلی کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 05/2019زیر دفعات 336,337آر پی سی کاکیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔وہیں محکمہ کے متعلقہ جونیئر انجینئر نے بتایاکہ جموں ریفر کرنے کے دوران خلیل کو30ہزار روپے فراہم کئے گئے اور محکمہ مزید مدد کرے گا۔