محکمہ بجلی کا نیا کٹوتی شیڈول

 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا،محکمہ بجلی کے عزائم بھانپتے ہوئے کشمیرعظمیٰ نے صارفین کو پیشگی خبردار کیا تھاکہ آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران اپنی انتہا کو پہنچے گااور آج وہی ہورہا ہے۔جوں جوں سردی بڑھنے لگی ،بجلی شیڈول میں غیر اعلانیہ کٹوتی بھی بڑھتی گئی۔شمال و جنوب میں بجلی کی ہاہار کار کو دیکھتے ہوئے جب ارباب اختیار کی جانب سے محکمہ بجلی کو کٹوتی شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت تو دی گئی تھی لیکن وادی کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا بندوبست کیاجارہا ہے ۔ پہلے ایک کٹوتی شیڈول بنایا گیا جس میں اعلانیہ طور شہر کے میٹر و غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے کی کٹوتی کا بندو بست کیاگیا لیکن اس شیڈول کے سامنے آنے کے بعد بجلی کا حال کتنا بے حال رہا،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور روزانہ میٹر و غیر میٹر یافتہ علاقوں میں 10سے15گھنٹوں کی کٹوتی ہورہی تھی ۔
اب محکمہ بجلی گزشتہ روز محض ایک ماہ کے وقفے میں ہی دوسرا کٹوتی شیڈول لیکر سامنے آیا جس میں وادی کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا پورا بندوبست کیاگیا ہے ۔نئے کٹوتی شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں6گھنٹے جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں8گھنٹے کٹوتی رہے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ وادی کے میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں42گھنٹے جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں56گھنٹے بجلی غائب رہے گی تاہم یہ صرف اعلانیہ کٹوتی ہوگی اور غیر اعلانیہ طور مزید کتنی کٹوتی سے صارفین کو دوچار ہونا پڑے گا،اُس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ پرانے کٹوتی شیڈول میں جب ڈیڑھ سے تین گھنٹے کے کٹوتی شیڈول میں بجلی دن میں10سے15گھنٹہ غائب رہتی تھی تو اب 6سے8گھنٹے کے اعلانیہ کٹوتی شیڈول میں بجلی کب آئے گی اور کب جائے گی ،اُس کا شاید پتہ ہی نہیں چل پائے گا۔
گزشتہ برس بھی نومبرمیں ہی محکمہ بجلی نے کٹوتی شیڈول مشتہر کرکے غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں 57 اور میٹر یافتہ علاقوںمیں 17گھنٹوں کی کٹوتی کا اعلان کیاگیاتھاتاہم امسال میٹر یافتہ علاقوں میںجہاں کٹوتی شیڈول تین گنا بڑھادیاگیا ہے وہیں غیر میٹر یافتہ علاقوں میں بھی اس میں اضافہ کرکے اس بات کو یقینی بنانے کی کو شش کی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں وادی میں اندھیرا قائم رہنا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اتنا ظالمانہ کٹوتی شیڈول جاری نہیں کیاجاتا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ نئے کٹوتی شیڈول میں صبح،شام اور رات کے اوقات کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔جہاں تک عقل و فہم کا تقاضا ہے تو یہ ایسے اوقات ہیں جب صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔شام کے وقت بجلی کا استعمال تو ویسے بھی عام ہے لیکن جب سردی کا موسم ہو تو صبح اور شام کے اوقات پر بجلی کی ضرورت اور زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔اب اگر اس شیڈول پر بھی عملدرآمد ہوتا تو بجلی کبھی کبھار درشن دیتی لیکن اس کے برعکس غیر اعلانیہ طور اس سے دوگنی کٹوتی کی جاتی ہے اور یوں عملی طور لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیاجاتا ہے ۔
محکمہ بجلی کے نزدیک کٹوتی میں مزید اضافے کا فیصلہ وادی میں بجلی کی طلب اور سپلائی میں بڑھتی خلیج کو پاٹنے کیلئے لیا گیا ہے۔محکمہ بجلی کے حکام کا استدلال ہے کہ وادی میں بجلی کی کھپت اور سپلائی میں کافی تفاوت ہے اور یہ خلیج پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے تاہم صارفین ،جو میٹر یا ایگریمنٹ کے تحت باضابطہ فیس اداکررہے ہیں ،ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بوقت ضرورت وافر مقدار میں بجلی فراہم کی جائے اور سرما سے زیادہ صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت کب پڑ سکتی ہے۔مانا کہ بجلی کی چوری بھی ہوتی ہے تاہم بجلی بحران کیلئے خود محکمہ بجلی بھی کم ذمہ دار نہیںہے۔جہاں تک بجلی کے ترسیلی نظام کا تعلق ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ صرف ناقص ترسیلی شعبہ کی وجہ سے سالانہ کروڑ وںروپے کے خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔سروے کے مطابق بجلی کی ترسیل کے دوران بوسیدہ اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے اس وقت بھی55فیصد سے زیادہ بجلی ضائع ہوجاتی ہے۔ایسے میں بجلی خسارے اور بجلی بحران کیلئے اکیلے صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ صارفین پر الزام لگانے کی بجائے محکمہ بجلی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کامکمل پوسٹ مارٹم کریں۔جب بجلی شعبہ کی زبوں حالی کیلئے خود محکمہ ذمہ دار ہے تو محض بجلی چوری کا بہانہ بنا کر صارفین کو بجلی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔
 محکمہ بجلی کے حکام کو اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے اپنی خامیوں کو سدھارنا چاہئے،اس کے بعد ہی صارفین کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔اگرحکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت کر ہر سال بجلی کی کمی کا رونا روکر وادی کے سرما کو اندھیروں کے سپرد کرتی رہی تو تعمیر وترقی کے نقوش اُبھرنے کی اُمیدرکھنا عبث ہے اور چراغ تلے اندھیرا کے مصداق شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستوں کو روشن کرنے والے جموں و کشمیر کے عوام کی قسمت میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔