محکمۂ بجلی کے عارضی ملازمین

       ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی جموں و کشمیر بالخصوص وادی کے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن میں ایک اہم مشکل بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ظاہر ہے جونہی وادی کے اطراف واکناف میں باری برفباری ہوجاتی ہے تو جہاں مختلف علاقوں کے لئے عبور و مرور کا سلسلہ مسدود ہوکر رہ جاتا ہے تو وہیںبرف باری سے مختلف دور درا ز اور دشوار گزار علاقوں میں بجلی کے کھنبے گرنے ،ترسیلی لائنیںٹوٹنےاور نصب شدہ بجلی ٹرانسفارمرز خراب ہوجانے سے بجلی سپلائی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہےاور صارفین بجلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اکیسویں صدی میں بجلی انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بن کر رہ گئی ہے اور اس کے بغیر زندگی کا نظام ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔چنانچہ اس صورت ِ حال کو پیش ِ نظر محکمہ بجلی، صارفین کے لئے بجلی سپلائی بحال رکھنے میں ہمہ جہت کام میں لگی رہتی ہے۔ پھر چاہے کہیں ترسیلی لائنیں گر گئی ہوں، بجلی کے کھمبے ٹوٹ گئے ہوں یا زمین کھسکنے سے زمین بوس ہوگئے ہوں۔محکمہ بجلی یخ بستہ سردی اور دشوار گذار حالات میںبھی ترسیلی لائنیں ٹھیک کرنے ،بجلی کے کھنبے کھڑا کرنے اور بجلی ٹرانسفارمر ٹھیک کرنے میں مصروف رہتا ہے۔چنانچہ بارشوں اور برف باری کے ایام میں جہاں عام لوگ اپنے گھروں میں گرم لحافوں میں دُبکے رہتے ہیں وہاں یخ بستہ سردیوں کے دوران بھی دشوار گذار علاقوں محکمہ بجلی کے اہلکاراپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ محکمہ پاور ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہے ڈیلی ویجرس اور عارضی ملازمین اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے رہتےہیں۔ پھر چاہے وہ ترسیلی تاروں کی مرمت کا کام ہو یا زمین بوس ہوئے کھمبوں کو دوبارہ کھڑا کرنا ہو،بہر صورت ، سخت ترین سردی ہو یا شدت کی گرمی۔ محکمہ پی ڈی ڈی کے یہ عارضی ملازمین ہمہ تن اپنی ڈیوٹی دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔آج تک اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئےکئی سارے عارضی ملازمین اپنی جان بھی کھو بیٹھے ہیں۔کوئی بجلی کا کرنٹ لگنے، تو کوئی کھمبے سے گر کر جان بحق ہوجاتا ہے۔ کئی سارے عارضی ملازمین کام کے دوران پیش آنے والے حادثات کے شکار ہوکر بچ تو جاتے ہیںلیکن وہ زندگی بھر معذوری کی حالت میں زندہ لاشیں بن جاتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ ناکارہ ہوجاتے ہیں ،کسی کا بازو ۔کسی کی ٹانگیں بے کار ہوجاتی ہیں توکسی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ان حادثوں سے توکئی ملازمین کا دماغی توازن تک بگڑ جاتا ہے،اور وہ معاشرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔الغرض اتنی قربانیوں کے بعد بھی سرکاری انتظامیہ کے منتظمین اور متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران ان ملازمین کی فلاح و بہبودی اور ان کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے سنجیدگی کے ساتھ متوجہ نہیں ہورہے ہیں۔ جس کی باعث ان عارضی ملازمین کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیںاور کئی عارضی ملازمین کے اہل و عیال فاقہ کشی کی صورت حال کا شکار ہے۔ یہاں پر انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کب تک سرکاری انتظامیہ ان عارضی ملازمین کو نظر انداز کرتی رہےگی؟میں ایل جی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کے چیف انجینئر جناب اعجاز احمد ڈار صاحب سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ ان عارضی ملازمین کے جو جائز مطالبات ہیں۔اُن پر غور  کیا جائےاور کیا وجہ ہے کہ ان عارضی ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاتا؟جبکہ یہ عارضی اور غیر مستقل ملازمین ہر وقت محکمہ کی طرف سے تفویض شدہ کام میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ پی ڈی ڈی،محکمہ میں کام کررہے عارضی ملازمین کو درپیش مسائل دور کرےاور اُن کے جائزمطالبات پر نظر ثانی کرے۔
(گوئیگام کنزر بارہمولہ۔ رابطہ:- 8803250765)