محنتی گلکار اورگھر کا اکلوتا کماؤ

زالو گوپال پورہ ،چاڈورہ//ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے چار افراد َ خانہ کا واحد کماو جمعرات کو جہانگیر چوک میں ہوئے گرینڈ حملے میں لقمہ اجل ہونے کے ساتھ ہی اس گھر کی امیدوں کا جنازہ نکلا اور گھر کے فرد بے یا ر و مدد گار سرِ راہ آ گئے ہیں ۔زالو گوپال پورہ گاوں کا رکھنے والا محمد مقصود شاہ پیشے سے گلکار تھا اور محنت مزدوری کرکے اپنے چھوٹے چھوٹے نونہالوں، اپنی شریک حیات اور اپنے عمر رسیدہ والد کا بڑی مشکل سے پیٹ پال رہا تھا ۔ مقصود کی موت کے ساتھ ہی اس گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔گھر کے صحن میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے مقصود کے والد علی محمد صرف اتناہی کہہ پاتا ہے کہ اسکی امیدوں کا چراغ ہی بجھ گیا ہے ۔اپنے پوتا پوتی کو سامنے دیکھ کر ہی وہ بے بسی کے عالم میں اپنے آنسووں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اسکے آنسو اسکی دل کی اصل داستان او ر کیفیت بیا ن کرتے ہیں۔مقصود کو اپنے اہل خانہ کی اس قدر فکر لاحق تھی کہ وہ ہر روز نشاط میں دن بھر مزدوری کرنے کے بعد شام کو گھر واپس لوٹ آتا تھااور دوسرے دن صبح سویرے پھر خون پسینے کی کمائی کے لئے نکل جاتاتھا ۔اس کے رشتہ دار جاوید احمد خان نے کہا کہ جمعرات کو دونوں ایک ساتھ نشاط سے گھر لوٹ رہے تھے اور جہانگیر چوک میں سومو گاڑی میں سیٹ لینے کی غرض سے سڑک پار کرتے ہی مقصود کی گرینڈ حملے میں موت واقع ہوئی جبکہ ایک اور رشتہ دار بشیر احمد شاہ کے بقول پولیس نے دیر رات تک انہیں مقصود کی لاش نہیں دی کیونکہ انہیں شک تھا کہ مقصود ہی اس حملے کے پیچھے تھا لیکن بعد میں تحقیقات کے بعد کہ مقصود ایک گلکار ہے ہمیں انکی لاش سوپنی گئی ۔مقامی لوگوں کے بقول مقصود ایک نرم طبیعت اور سادہ لوح انسان تھے، جو فوج کا نام سُنتے ہی کانپ جاتے تھے ۔وہ اصل میں دمالی آرٹ کا فنکار تھا جنہون نے ملکی سطح پر بھی کئی ایک تمدنی پروگراموں میں اپنی صلاحتوں کا لوہا منوایا تھا وہ مقامی دمالی ڈانس سنٹر کے ممبر تھے اور ایک سال قبل ہی جموں میں سنگیت ناٹک اکادمی کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام میں بھی حصہ لیا تھا لیکن اس فن سے ایک فنکار کاچولہا چلانا مشکل ہی رہتا ہے اس لئے انہوں نے کچھ عرصے سے گلکاری کا کام بھی شروع کیا تھا ۔اب مقصود کے گھر میں اسکی بیوہ ، اسکے دو بچے اور عمر رسیدہ والد ہیں جو اپنے کماو کے کھو جانے کی غم میں نڈھال ہیں ۔